نئے وزیر اعظم کی حلف برداری میں مرکز نگاہ فوجی سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption شاہد خاقان عباسی قومی اسمبلی میں 221 ووٹ حاصل کر کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں

موقع تھا وزیر اعظم پاکستان کی تقریب حلف برداری اور مقام تھا ایوان صدر جہاں حکمران جماعت کے رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ کی بڑی تعداد کے علاوہ مسلح افواج کے سربراہان اور صحافی موجود تھے۔

صحافیوں اور سیاستدانوں کے درمیان رسمی و غیر رسمی گفتگو تو وقفے وقفے سے چلتی ہی رہی، اس میں غیر معمولی اور مختصر جملے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے سننے کو ملے جو اس تقریب کا مرکز بنے رہے۔

شاہد خاقان عباسی پاکستان کے نئے وزیراعظم منتخب

’45 دن میں 45 مہینوں کا کام کروں گا‘

دھیمے مزاج اور صلح جُو طبیعت کے مالک

فوجی سربراہ اپنے چند ساتھیوں اور محافظوں کے جھرمٹ میں جس طرف چلتے حاضرین کی اکثریت کا رخ بھی اسی جانب ہو جاتا۔

اس ہٹو بچو کے درمیان کچھ صحافی جنرل قمر باجوہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور سوال و جواب کا بہت ہی مختصر سیشن ہوا۔

ملکی حالات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر فوجی سربراہ نے کہا اللہ کے فضل سے پاکستان میں سب ٹھیک چل رہا ہے۔

ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ یہ جو حکومت میں تبدیلی (ٹرانزیشن) کا عمل ہے یہ آپ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے؟

آرمی چیف نے کہا بہت اچھا لگ رہا ہے۔

تیسرا سوال جو ہوا تو فوجی سربراہ نے اسے آخری سوال کے طور پر لیا۔ پوچھا گیا کہ کیا فوج ملک میں جمہوریت کو نقصان نہ پہنچنے دینے کے اپنے عزم پر قائم ہے؟ جنرل باجوہ نے سینے پہ ہاتھ رکھا اور کہا ’جی ہاں، بالکل‘۔

ایوان صدر کے دربار ہال اور اس کے باہر کی لابی میں صحافی، مسلم لیگی سیاستدان اور بیوروکریٹس چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں سیاست اور خاص طور پر مسلم لیگ کی مستقبل کی حکمت عملی پر بات کرتے نظر آئے۔

شاہد خاقان عباسی عارضی وزیراعظم ہیں یا مستقل؟ یہ سوال مسلم لیگ کے نو منتخب وزیراعظم کے حلف اٹھانے کے چند منٹ بعد ہی موضوع گفتگو بن چکا تھا۔

’فوج سے ساز باز کر کے اقتدار کے حصول کی خواہش نہیں‘

’اس ملک میں حکمرانی کون کرے گا؟

’میں اب ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں‘

بعض کا تو یہ بھی خیال تھا کہ عین ممکن ہے کہ شاہد خاقان عباسی ایوان وزیراعظم کے عارضی نہیں بلکہ مستقل مکین بن جائیں (آئندہ انتخابات تک)۔

مسلم لیگ کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنما خاص طور پر توجہ کا مرکز رہے۔ ہر ایک کو تجسس تھا کہ شہباز شریف کب اسلام آباد میں وزیراعظم کی حیثیت سے وارد ہوں گے اور پنجاب کے اقتدار کا ہما کس کے سر بیٹھے گا۔ پنجاب کے اہم رہنما جو اس تقریب میں موجود تھے، ان کے پاس ان دونوں سوالوں کا واضح جواب نہیں تھا۔

ایسے میں سوال پیدا ہوا کہ ان رہنماؤں کو علم نہیں ہے یا یہ کہ اس بارے میں ابھی فیصلے نہیں ہوئے؟ معلوم ہوا کہ فیصلے تو نواز شریف کی نا اہلیت سے پہلے ہی ہو چکے تھے۔ اب ان پر نظر ثانی کا عمل جاری ہے۔

بعض لیگی رہنماؤں کا خیال تھا کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے حصول کے لیے پارٹی اور خود شریف خاندان کے اندر جو بھاگ دوڑ اور رسہ کشی شروع ہو چکی ہے وہ پارٹی کے لیے اچھی نہیں ہے۔

اسی بارے میں