’پاکستان میں اقلیتوں کا ملازمت کوٹہ، سینیٹری ورکرز تک محدود‘

رپورٹ
Image caption رپورٹ میں اقلیتی کوٹے پر مکمل طور پر قواعد کے مطابق عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی دی گئی ہے

پاکستان کے قیام کے 70 سال کے دوران اقلیتوں کا ملازمتوں میں کوٹا 11 فیصد سے کم ہو کر پانچ فیصد ہوا اور اب اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جاتا، یہ انکشاف ’مائناریٹیز آف فیتھ اینڈ بیلیف‘ کے عنوان سے کی گئی ایک ریسرچ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

سامی فاؤنڈیشن نامی غیر سرکاری تنظیم نے یہ تحقیق کراچی، سکھر اور عمرکوٹ میں کی ہے، جس میں اقلیتی نمائندوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے گروپوں کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کی آبادی کا اندازہ پانچ کروڑ 60 لاکھ لگایا گیا ہے، جس کا 91 فیصد مسلمان جبکہ نو فصید اقلیتی آبادی پر مشتمل ہے، جن میں ہندو، عیسائی اور پارسی شامل ہیں۔ نو فیصد میں ساڑھے آٹھ فیصد ہندو آبادی ہے جس کا 50 فیصد تھرپارکر میں آباد ہے۔

پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے ملازمتوں میں 11 فیصد کوٹا متعارف کرایا تھا اس نظام کے تحت ہندو، عیسائی، بہائی اور شیڈیول کاسٹ قبائل کو فائدہ پہنچا، شیڈیول کاسٹ کے لیے الگ سے چھ فیصد کوٹا رکھا گیا تھا۔

سنہ 1998 میں رانا چندر سنگھ اور شہباز بھٹی نے قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا، جس کے مطابق تمام اقلیتیں بشمول ہندو، احمدی، عیسائی، بہائی برادری پانچ فیصد کوٹے سے مستفید ہوں گی۔ یہ بات قابل حیرت تھی کہ وہ ارکان اسمبلی جو اقلیتوں کے نمائندے تھے انھوں نے 11 فیصد کوٹہ کم کر کے پانچ فیصد تک لانے کی ترمیم پیش کی۔

اس ترمیم کی وجہ سے مجموعی کوٹے میں کمی کے ساتھ ساتھ شیڈیول کاسٹ کا چھ فیصد علیحدہ کوٹا بھی ختم ہو گیا جس سے بھیل، کولھی، میگھواڑ، بالا، کبوترا قبائل مستفید ہوتے تھے اور مستقبل میں ان کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے اور وہ بڑے زمینداروں کے پاس کسان ہی رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق 'کراچی میں ایک سیاسی جماعت نے میونسپل سروسز میں اقلیتوں کے کوٹے پر سینیٹری ورکرز کے لیے اپنے کارکنوں بھرتی کرا دیے‘

موجودہ وقت سرکاری طور پر ملازمتوں میں کوٹا پانچ فیصد ہے لیکن صرف دو سے تین فیصد پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، اس میں سے بھی لوئر گریڈ ملازمتیں دی جاتی ہیں، جو عام طور پر خاکروب، سینیٹری ورکرز یا 14 سے 15 گریڈ کے نیچے ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں ایک اقلیتی خاتون کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پانچ فیصد کوٹے پر کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں جو عمل ہوتا ہے وہ خاکروب کی ملازمت تک محدود ہے، حالانکہ یہ ملازمتیں بھی میرٹ پر فراہم نہیں کی جاتیں۔

رپورٹ کے مطابق ’کراچی میں ایک سیاسی جماعت نے میونسپل سروسز میں اقلیتوں کے کوٹے پر سینیٹری ورکرز کے لیے اپنے کارکنوں کی بھرتی کرا دی جبکہ دیگر شہروں میں مقامی سیاست دان اپنے لوگوں کی بھرتی کراتے ہیں، ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، یہ لوگ اپنی ملازمتوں پر بھی نہیں جاتے صرف تنخواہیں حاصل کرتے ہیں۔‘

’ایک سابق ہندو رکن اسمبلی نے سوال کیا کہ کیا عدلیہ میں پانچ فیصد اقلیتی جج نظر آتے ہیں؟ صوبائی محکموں کے سیکریٹریز میں سے ایک بھی اقلیتی نہیں، اس طرح کسی ضلعے کا کوئی ڈپٹی کمشنر اقلیتی کمیونٹی سے نہیں ہے۔ کیا ہندو کمیونٹی میں یہ اہلیت نہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر 1947 سے قبل یہاں کے نظام کو کون چلا رہا تھا؟‘

اس رپورٹ میں اقلیتی کوٹے پر مکمل طور پر قواعد کے مطابق عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی دی گئی ہے۔ حکومت کی عدم دلچسپی، اس قانون پر عمل درآمد کے لیے جن کی ذمہ داری ہے وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر پا رہے ۔

’وفاقی حکومت اگر اسلام آباد میں اسامی کا اعلان کرتی ہے تو یہ اعلان عمرکوٹ میں کس طرح پہنچے کیونکہ وہاں کے اخبارات یہاں نہیں آتے، دوسرا یہ کہ یہاں سے کوئی غریب اسلام آباد میں انٹرویو کے لیے کس طرح پہنچ سکتا ہے۔‘

رپورٹ کی مشاورت میں بعض افراد کا موقف ہے کہ اقلیتی کوٹے پر عمل درآمد میں ایک رکاوٹ سیاسی، مذہبی اور طبقاتی اثرات بھی ہے، اس کے علاوہ ایک یہ مائینڈ سیٹ بھی ہے جس کا خیال ہے کہ اقلیتی زیادہ تر ناخواندہ ہیں اور بڑی ملازمتوں کے لیے اہل نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 'وفاقی حکومت اگر اسلام آباد میں اسامی کا اعلان کرتی ہے تو یہ اعلان عمرکوٹ میں کس طرح پہنچے‘

’ہندو اور عیسائی سینیٹری ورکرز اور دیگر چھوٹی ملازمتیں کرتے ہیں جو مسلمان کرنے سے انکاری ہوتے ہیں، اقلیتوں میں بیروزگاری کی شرح زیادہ ہے اس قدر کہ جو گریجویٹ ہیں وہ بھی ملازمت سے محروم ہیں کیونکہ سرکاری ملازمتیں میرٹ کے بجائے سیاسی بنیادوں پر دی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایک پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اقلیتی کوٹے پر عمل کیا جارہا ہے۔ اگر ایک ملازم کی موت واقع ہو جاتی ہے تو پیرنٹس کوٹے پر اس کی اولاد کو ملازمت دی جائے۔

یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ سیاسی مداخلت بند کی جائے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں شیڈیول کاسٹ اور دلت کمیونٹی کو نمائندگی کے ساتھ ملازمت میں ان کا چھ فیصد کوٹا بحال کیا جائے۔

اقلیتوں کو ملازمتوں کے بارے میں باخبر رکھنے کے لیے وزرات اقلیتی امور کو کو اپنی ویٹ سائیٹ کو اپ ڈیٹ رکھنے، ملازمتوں کی مقامی اخبارات میں تشہیر کے علاوہ ریڈیو ٹی وی کے ذریعے بھی کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں