’ممنوعہ فنڈز لینے کے ناقابل تردید شواہد لانے ہوں گے‘

عمران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نےحکمران جماعت مسلم لیگ کے ایک ممبر کی جانب سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی جماعت کے خلاف کارروائی کے لیے ممنوعہ فنڈنگ کے ناقابل تردید ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن کمیشن ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی آڈٹ رپورٹ کی جانچ پڑتال کرنے کے ساتھ ساتھ ممنوعہ فنڈز کا تعین کرنے کا مجاز ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں ایسے ناقابل تردید شواہد سامنے لانا ہوں گے جو یہ ظاہر کرتے ہوں کہ کسی سیاسی جماعت نے غیر ملکیوں سے فنڈز لیے ہیں تاکہ اس جماعت کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔

بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

’اس ملک میں حکمرانی کون کرے گا؟

’نواز شریف میرے مقروض ہیں‘

’جسٹس کھوسہ عمران خان کو جانتے ہیں اور نہ ملاقات ہوئی‘

اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ کو تسلیم کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروایا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق درخواست گزار کے وکیل کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن میں غلط سرٹیفکیٹ جمع کروانے پر عمران خان نااہل ہوگئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا جاسکتا ہے تو پھر ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے والے کو نااہل کیوں قرار نہیں دیا جاسکتا، جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ جس عدالتی فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ ان کے سامنے موجود نہیں ہے۔

اکرم شیِخ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیے گئے فنڈز کی جانچ پڑتال کا تو اختیار ہے لیکن نااہلی کا اختیار نہیں ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ سنہ2002 میں ممنوعہ فنڈز کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ اس فنڈز کو ضبط کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیے گئے فنڈز کو تو ضبط کرلیا جائے لیکن ایسے فنڈز لینے والے کو چھوڑ دیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایجنٹ نے امریکہ میں ممنوعہ ذرائع سے فنڈز لوگوں سے وصول کیے۔

اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے گوشواروں میں اُن کمپنیوں اور غیر ملکی افراد کے نام ظاہر نہیں کیے جنھوں نے مبینہ طور پر اس جماعت کو لاکھوں امریکی ڈالر دیے تھے۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اگر عدالت نے غیر ملکی فنڈنگ اور ممنوعہ ذرائع کو نہ روکا تو فلڈ گیٹ کھل جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو بھی فنڈنگ ممنوعہ ذرائع سے ہی ہوتی ہے۔

اُنھوں نے بینچ میں شامل تین ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے بھی پاکستان کے تحفظ کا حلف اُٹھایا ہوا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس حد تک متفق ہے کہ غیر ملکیوں سے فنڈز نہیں لیے جاسکتے۔ اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ناقابل تردید شواہد کا ہونا ضروری ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت تین اگست تک ملتوی کردی گئی۔

درحواست گزار حنیف عباسی نے عمران خان کے بارے میں ایک اور متفرق درخواست جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے سنہ1997 میں ہونے والے عام انتِخابات میں سات حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور اُنھوں نے اپنی آف شور کمپنی کو ظاہر نہیں کیا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

اسی بارے میں