’عائشہ گلالئی غلط بیانی پر معافی مانگیں‘

پی ٹی آئی تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PTI

پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کے جماعت کی قیادت پر الزامات میں کتنا وزن ہے اس کا فیصلہ وقت کرے گا لیکن ان کی جماعت سے علیحدگی کے وقت کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔

عائشہ گلالئی کے الزامات کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خواتین اراکین اسمبلی نے پشاور پریس کلب میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان پر عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت میں خواتین کا احترام کیا جاتا ہے۔

٭ ’اگر مدمقابل عمران خان خود آتے تو مزہ آتا‘

٭ فیصلو ہو تو جہان خان جیسا ورنہ نہ ہو!

رکن قومی اسمبلی زرین ضیا نے عائشہ گلالئی کے الزامات کو من گھڑت قرار دیا اور کہا کہ گلالئی کو اخباری کانفرنس کے دوران باہر سے پیغامات دیے جا رہے تھے جن کی بنیاد پر وہ تحریک انصاف کی قیادت پر غلط الزامات عائد کر رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ عائشہ گلالئی غلط بیانی پر معافی مانگیں۔

عائشہ گلالئی نے گذشتہ روز جماعت کے سربراہ عمران خان پر الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ بلیک بیری موبائل فون سے خواتین کو غلط پیغامات بھیجے جاتے ہیں اور تحریک انصاف میں خواتین کی عزت محفوظ نہیں ہے۔

عائشہ گلالئی نے کہا کہ انھیں بھی اکتوبر 2013 میں میسج بھیجا گیا تھا۔ انھوں نے اخباری کانفرنس میں یہ پیغامات صحافیوں کو نہیں دکھائے اور کہا کہ یہ پیغامات چیک کیے جا سکتے ہیں۔

گذشتہ روز جب انھوں نے جماعت سے علیحدگی کا اعلان کیا اور عمران خان پر الزامات عائد کیے تھے تو اس وقت تمام ٹی وی چینلوں پر اسے بھرپور کوریج دی گئی۔ بعض چینلوں نے کوریج میں عائشہ گلالئی کے والد کو بھی دکھایا۔

اس حوالے سے مبصرین نے یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ عائشہ گلالئی کو موبائل فون پر پہلا پیغام چار سال پہلے بھیجا گیا تھا تو وہ جماعت سے علیحدگی اور الزامات اب کیوں عائد کر رہی ہیں یہ سب کچھ پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PTI

پاکستان تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی عائشہ نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ عائشہ گلالئی کے بقول انھیں موبائل فون پر پیغامات 2013 میں کیے گئِے تھے تو وہ چار سال تک خاموش رہیں؟ انھوں نے اسی وقت یہ اخباری کانفرنس کیوں نہیں کی اور اس جماعت کو اس وقت کیوں نہیں چھوڑا؟

انھوں نے کہا کہ عائشہ گلالئی نے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اور تحریک انصاف میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہیں جنھیں عزت اور احترام دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اخباری کانفرنس کے دوران عائشہ گلالئی کے الفاظ اور زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ عائشہ گلالئی نے اس وقت کا انتخاب خاص طور پر کیا یا کوئی اور وجہ تھی تو انھوں نے کہا کہ کیونکہ عمران خان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے اور مخالفین عدالتوں میں بھی عمران خان کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کر سکتے تو اس لیے یہ جھوٹے الزامات اب عائد کیے گئے ہیں لیکن ایسے جھوٹے الزامات سے کوئی پی ٹی آئی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عائشہ گلالئی نے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور اگر یہ ثابت ہو جاتے ہیں تو اس کے نتائج بھی سنگیں ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ الزامات کو ثابت کرنے کے لیے وقت درکار ہو گا لیکن عائشہ گلالئی نے اس کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایک جانب نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس وقت ایسے الزامات سے جماعت اور عمران خان کی برسوں کی محنت پر پانی پھیرا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں