طالبان کا خواتین کے لیے انگریزی میگزین جاری

طالبان میگزین تصویر کے کاپی رائٹ SunnatEKhula

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی بیوی نے کہا ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں کی کم عمر میں شادی کر دینی چاہیے تاکہ وہ بے راہ روی سے بچ سکیں۔

انھوں نے یہ بات خواتین کو جہاد کی جانب راغب کرنے کی کوشش میں طالبان کی جانب سے شائع ہونے والے ایک پراپیگینڈا میگزین میں کہی۔

طالبان نے خواتین کے لیے انگریزی زبان میں میگزین کا پہلا ایڈیشن جاری کیا ہے۔

میگزین میں طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی بیوی کےانٹرویو کے علاوہ ایک چھ سالہ بچے کی کہانی بھی شائع کی گی ہے جو جہادی بننا چاہتا ہے۔

45 صفات پر مشتمل میگزین 'سنت خولہ' میں کھلے عام خواتین کو جہاد کی جانب آنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

اس میگزین میں ایک ڈاکٹر خاتون نے بھی اپنی کہانی بیان کی ہے کہ انھوں نے کس طرح اسلام کے لیے مغربی پڑھائی اور زندگی چھوڑی ۔ وہ جمہوریت اور مغربی اقدار کو دنیا کا عذاب کہہ رہی ہیں۔

طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی بیوی نے کہا کہ لڑکیوں کو گرنیڈ اور چھوٹے ہتھیار چلانا سیکھنےچاہیے اور اس کے لیےانھیں جہادی تربیت حاصل کرنی چاہیے۔

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے شائع ہونے والے میگزین کے کور پر ایک لڑکی کی تصویر ہے جو سر سے پاؤں تک چادر میں ہے۔

میگزین کے اداریہ میں کہا گیا ہے 'ہم اسلام کی خواتین کو جنھجوڑ رہے ہیں کہ وہ جہاد میں اپنا حصہ ڈالیں۔'

میگزین میں جہاد کا شوق رکھنے والی خواتین کے لیے مشورے بھی ہیں۔

ایک اور اداریے میں کہا گیا ہے کہ انڈیا پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان میں انتہاپسندی کے عروج پر تحریک طالبان پاکستان مسلسل اردو اور انگریزی میں جہادی میگزینز شائع کرتی رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بھرتی کر سکے۔

انتہا پسند بھرتیوں کے لیے فیس بک اور ٹوئٹر کو بھی استمعال کرتے رہے ہیں۔