ملکی استحکام کے لیے تمام اداروں کے درمیان ڈائیلاگ ضروری: چیئرمین سینیٹ

رضا ربانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا ہے کہ ملک میں پارلیمان کا ادارہ سب سے زیادہ کمزور ہے اور جس کا بھی جی چاہتا ہے اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔

انھوں نے یہ بات کوئٹہ میں سانحہ آٹھ اگست کی مناسبت سے ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

’شریف نے آرٹیکل باسٹھ میں تبدیلی کی مخالفت کی تھی‘

خیال رہے کہ گذشتہ سال آٹھ اگست کو ایک خود کش حملے میں 60 سے زائد وکیل ہلاک ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں پارلیمان کا ادارہ سب سے زیادہ کمزور ہے۔ 'پہلے 58 ٹو بی تھا لیکن اس کے خاتمے کے بعد اب ایک نیا طریقہ سامنے آگیا ہے۔'

رضا ربانی نے کہا کہ ملک کسی بھی محاز آرائی اور افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا اور اگر ملک کو مستحکم کرنا ہے تو تمام اداروں کے درمیان ڈائیلاگ اشد ضروری ہے۔

انہوں نے پارلیمان ، عدلیہ، انتظامیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو دعوت دیتے ہیں کہ بین الاداراتی ڈائیلاگ شروع کریں اور اس ڈائیلاگ کے لیے سینیٹ کا فورم حاضر ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے اپنے خطاب کے دوران ملکی صورتحال پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلا نے قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے قربانی دی مگر اس سلسلے میں پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر ہم اس بات کا جائزہ لیں تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آئے گی کہ ملک قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے حوالے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ اسے ریورس گیئر لگ گیا۔'

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک فلاحی ریاست نہیں بن سکی۔

انہوں نے سینیٹر اعتزازاحسن کی اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان ایک 'سکیورٹی ریاست' ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں سی پیک کے خلاف نہیں لیکن آج سی پیک کے لیے آنے والے لوگوں کی تحفظ کے لیے فوج کی ایک الگ ڈویژن بنانی پڑی مگر ہم اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہے۔'

انہوں نے کہا کہ ''اگر اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے انتظامات کیے جاتے تو شاید سی پیک کی سکیورٹی کے لیے فوج کی الگ ڈویژن بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔'

اسی بارے میں