عمران خان کے خلاف مقدمہ، سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی اور ان کی جماعت کی جانب سے ممنوعہ فنڈز حاصل کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کو غیر معینہ مدت کے ملتوی کر دیا ہے۔

جمعرات کے روز مقدمے کی سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے تیار کردہ فارم سے الجھاؤ پیدا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کے اثاثوں سے متعلق فارم میں ملکی اور غیر ملکی فنڈنگ کے لیے الگ کالم رکھنا چاہیے تاکہ غیر ملکی اور ممنوعہ فنڈنگ کا پتہ لگانے میں آسانی ہو۔

عمران خان نااہلی کیس: 'وکیل وہی مگر دلائل مختلف'

عمران خان کو کرکٹ سے کمائی گئی رقم کی تفصیل جمع کروانے کا حکم

دستاویزات کی تصدیق کہاں سے کی جائے گی: سپریم کورٹ کا سوال

حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو کیس میں 11 رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ ہر سیاسی جماعت آڈٹ کروانے کی پابند ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا ذریعہ آمدن عطیات ہیں اور سنہ 2013 میں پی ٹی آئی کو ساڑھے 40 کروڑ سے زائد عطیات ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے اثاثوں کے ذرائع کی چھان بین ہونی چاہیے۔

حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی رکنیت کی فیس 19 ہزار روپے ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ملک کو چلاتی ہیں اس لیے ملک کے مستقبل کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین کی جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل کی جماعت کے اکاؤنٹس میں وہی شفافیت ہے جس کا تقاضا پی ٹی آئی سے کیا جا رہا ہے؟ اس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہو گا۔

حنیف عباسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ کیس سیاسی جماعتوں کے معیار کا ہے اور اگر عدالت اپنی تسلی کے لیے کوئی کمیشن بنانا چاہتی ہے تو اسے فنڈز کی مجموعی پڑتال کا حکم دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے اپنے اثاثوں سے متعلق جمع کروائی گئی دستاویزات کے بارے میں اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹ کے مالک عمران خان نہیں، نیازی سروسز تھی اور اثاثوں میں عمران خان نے وہ فلیٹ ظاہر کیا جو ان کا تھا ہی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ نیازی سروسز 2015 میں تحلیل ہوئی اور اثاثے کا تعلق ملکیت سے ہوتا ہے۔

بینچ کے استفسار پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کے تحت جو اثاثے سے فائدہ اٹھائے وہ بینیفشل مالک ہوتا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان آف شور کمپنی کے نہ شیئر ہولڈر تھے نہ منتظم تھے اور عدالت صرف یہ جاننا چاہتی ہے کہ لندن فلیٹ کا اصل مالک کون ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کے مطابق وہ فلیٹ کے بینیفشل مالک ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر کمپنی فروخت بھی ہو تو رقم بینیفشل مالک کو ہی ملے گی جس پر بینچ میں موجود عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا نکتہ نوٹ کرلیا کہ تین پاؤنڈ کی کمپنی بھی اثاثہ ہے۔

حنیف عباسی وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیازی سروسز کو لندن فلیٹ کرائے کی مد میں دو لاکھ آٹھ ہزار پاؤنڈ ملے جبکہ فلیٹ کی فروخت سے چھ لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ موصول ہوئے اور یہ تمام رقم نیازی سروسز کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔

اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما کو نیازی سروسز کے اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ 62 ہزار پاؤنڈ ادا ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم افراد کے لیے تھی کمپنیوں کے لیے نہیں جبکہ فلیٹ غلط طور پر ایمنسٹی سکیم میں ظاہر کیا گیا اور یہ فلیٹ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا نہیں بلکہ نیازی سروسز کی ملکیت تھا اور مذکورہ کمپنی ایمنسٹی سکیم کے لیے اہل نہیں تھی۔

عدالت کے استفسار پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ صرف دستاویزات کے درست ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ عدالت میں جعلی ریکارڈ پیش کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ خط میں کہا جاتا ہے پیسے ڈالروں میں ملے جبکہ ریکارڈ کے مطابق پیسے پاؤنڈ میں ملے اس کے علاوہ ڈالر اور پاؤنڈ کا ریٹ کبھی بھی برابر نہیں رہا۔

اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے بنی گالہ اراضی پر چار مختلف موقف اپنائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ پہلے کہا گیا جمائما سے رقم بطور برج فنانس لی گئی ہے جس پر بینچ میں موجود جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ برج فنانس بنک کرتے ہیں میاں بیوی نہیں۔

اکرم شیخ نے بنی گالہ اراضی کو تاج محل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمائما تاج محل کی تعمیر سے قبل ہی لندن منتقل ہو چکی تھیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جمائما نے ہراساں کیے جانے پر لندن جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ جمائما جانے کے بعد کبھی واپس نہیں آئی جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ممکن ہے جمائما عمران خان سے نہیں بلکہ حالات سے ناراض ہوں۔

بینچ میں موجود جج جسٹس فیصل عرب کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں