وفاقی کابینہ کی حلف برداری، خواجہ آصف وزیر خارجہ، احسن اقبال وزیرِ داخلہ

آصف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے طویل مشاورت اور غور کے بعد اپنی نئی وفاقی کابینہ میں وزیر خارجہ کا اہم عہدہ خواجہ آصف کو سونپا ہےجبکہ وزارت داخلہ کی ذمہ داری احسن اقبال کو سونپی ہے۔

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں جمعے کی صبح ہوئی۔ صدر ممنون حسین نے وزرا سے ان کے عہدوں کاحلف لیا جس کے بعد کابینہ کا پہلا اجلاس وزیراعظم کی سربراہی میں منعقد ہوا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔

نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب اس سے قبل ملتوی کر دی گئی تھی۔

تجزیہ نگار وزارت خارجہ کے لیے وزیر کے چناؤ کو کافی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ماضی میں کل وقتی وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔

نئی وفاقی کابینہ میں 43 وزرا اور وزرائے مملکت شامل ہیں اور اکثریت پرانے چہروں کی ہے۔

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف
وزیر دفاع خرم دستگیر خان
وزیر خزانہ اسحٰق ڈار
وزیر سیفران عبد القادر بلوچ
وزیر داخلہ احسن اقبال
وزیر مذہبی امور بلیغ الرحمٰن
وزیر ریلوے سعد رفیق

وزرائے مملکت میں مریم اورنگزیب، عابد شیر علی، طلال چوہدری، انوشہ رحمان اور طارق فضل چوہدری شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے پانامہ کیس کی روشنی میں فیصلے کی وجہ سے نواز شریف سبکدوش ہوگئے تھے۔ ان کے جانے کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی تھی۔

وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنی چار سالہ وزارت میں ایک مرتبہ بھی راولپنڈی میں قائم اپنی وزارت نہیں گئے تھے۔ ان کے مقابلے میں خرم دستگیر بطور وزیرِ کامرس کافی متحرک اور موثر وزیر ثابت ہوئے ہیں۔

ان دو اہم وزارتوں میں آنے والی تبدیلی سے محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ دس ماہ میں ان دونوں پر اب اپنی گرفت مضبوط کرکے قائدانہ کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان اہم تبدیلیوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کابینہ محض پچاس روز کے لیے نہیں بلکہ شاید پانچ سالہ مدت کا باقی ماندہ عرصہ مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

Image caption احسن اقبال سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جگہ لیں گے

سابق وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کو وزارت داخلہ کا اہم منصب دیا گیا ہے۔ اپنی چار سالہ سابق وزارت میں انھوں نے پاکستان چین راہداری منصوبے پر کافی کام کیا۔

نئے چہروں میں پانامہ مقدمے میں وزیر اعظم کا بھرپور اور منہ توڑ قسم کا دفاع کرنے والے فیصل آباد سے طلال چوہدری، ناروال سے دانیال عزیز خان، جنوبی پنجاب سے رحیم یار خان سے ارشد لغاری اور ٹوبہ ٹیگ سنگھ سے جنید انور شامل ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزرائے مملکت دانیال عزیز، ممتاز تارڑ اور دوستین خان ڈومکی نے اپنے عہدوں کا حلف نہیں اُٹھایا۔ حکمراں جماعت کے ذرائع کے مطابق ممتاز تارڑ اور دوستین ڈومکی وقت پر اسلام آباد نہیں پہنچ سکے تھے جبکہ دانیال عزیز وفاقی دارالحکومت میں ہی موجود تھے تاہم اُنھوں نے حلف نہیں اُٹھایا۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ دانیال عزیز وزیر مملکت کی بجائے وفاقی وزیر بننا چاہتے تھے تاہم پارٹی قیادت اس پر متفق نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اُنھوں نے حلف نہیں اُٹھایا جبکہ دانیال عزیز نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ دل سے نواز شریف کے ساتھ کام کرتے تھے اور مستقبل میں بھی کام کرتے رہیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں