عائشہ گلالئی کے الزامات، پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے قرارداد منظور

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PTI

پاکستان کی قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر انہی کی جماعت کی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد کے مطابق یہ کمیٹی ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کر کے ایوان میں پیش کرے گی۔

قرارداد کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی اِن کیمرہ ہو گی۔ سپیکر قومی اسمبلی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد خصوصی کمیٹی تشکیل دیں گے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ممبر قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی جانب سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر لگائے جانے والے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنانے کی تجویز دی تھی۔

’عائشہ گلالئی غلط بیانی پر معافی مانگیں‘

’عائشہ گلا لئی کی بہن کو نشانہ نہ بنایا جائے‘

اپنی سیاسی جماعتوں سے نالاں خواتین رہنما

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے عائشہ گلالئی کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کر دی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی ان کیمرہ ہوگی جہاں پر الزام لگانے والے اور جن پر الزام لگایا گیا ہے وہ اپنا موقف پیش کرسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس نے الزامات لگائے اور جن پر الزامات لگے وہ دونوں کا احترام کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی رہنما عائشہ گلالئی نے یکم اگست کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں پارٹی کے سربراہ عمران خان پر موبائل فون کے ذریعے قابلِ اعتراض پیغامات بھیج کر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔

اُنھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ عمران خان اور اس کے اردگر موجود لوگوں کی ہاتھوں عزت دار خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔

تاہم تحریک انصاف کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جارہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کا ہاتھ ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں نے ہی پارلیمنٹ کی توقیر کو بڑھانا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ اس ہاوس کا معاملہ ہے اس لیے بہتر ہے کہ اس معاملے کو یہی پر ہی حل کرلیا جائے۔

’عمران پیش نہیں ہوں گے‘

پاکستان تحریک انصاف کا موقف ہے کہ عمران خان کسی بھی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

اجلاس کے دوران حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان قومی اسمبلی نے عائشہ گلالئی کی طرف سے عمران خان کے خلاف انکشافات کرنے پر اُن کی جرات کو خراج تحسین پیش کیا۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شگفتہ جمانی نے بھی عائشہ گلالئی کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیاجبکہ پاکستان تحریک انصاف کی رکن شریں مزاری اپنی قیادت کے حق میں مائیک کے بغیر ہی بولتی رہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے اُنھیں ایوان میں گالیاں دیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

شریں مزاری کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کرنی ہیں تو پھر پہلے خواجہ آصف سے شروع کریں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد پر کچھ افراد کی طرف سے مبینہ طور پر حملہ کرنے کی کوشش کے خلاف پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

خیال رہے کہ عائشہ گلالئی محتلف ٹی وی ٹاک شوز میں اپنے انٹرویوز میں کہہ چکی ہیں کہ ان کے پاس ان الزامات کے مکمل ثبوت ہیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ سے اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے کی درخواست بھی کی ہے۔

عمران خان نے گذشتہ روز اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ 'جب انھیں نظر آ رہا ہے کہ مجھے نا اہل کروانے کی ان کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں، تو مسلم لیگ ن وہ کر رہی ہے جس کے لیے وہ مشہور ہے۔'

اسی بارے میں