وائس فار مسنگ پرسنز کے کنوینر پنہل ساریو ’لاپتہ‘ ہو گئے

پنہل ساریو تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

پاکستان کے صوبہ سندھ میں وائس فار مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کے کنوینر اور انسانی حقوق کے کارکن پنہل ساریو لاپتہ ہوگئے ہیں۔

پنہل ساریو نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر جمعے کو کانفرنس منعقد کر رکھی تھی۔

وائس فار منسگ پرسنز آف سندھ کی ڈپٹی کنوینر سورٹھ لوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ پنہل ساریو شہر میں ادبی اور علمی سرگرمیوں کے مرکز ’خانہ بدوش‘ گئے تھے، جہاں سے وہ اپنے دوست کے ساتھ کار میں واپس آ رہے تھے کہ شام سات اور آٹھ بجے کے درمیان انھیں اٹھا لیا گیا۔

'2016 میں 728 افراد لاپتہ ہوئے، تعداد چھ سال میں سب سے زیادہ'

سندھ سے سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں کے خلاف لانگ مارچ

لاپتہ افراد کے لیے سینٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق سے رجوع کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ڈبل کیبن گاڑی میں سوار چار افراد جنھوں نے سیاہ رنگ جیسا لباس پہن رکھا تھا، پنہل ساریو کی گاڑی کو روکا اور انھیں زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘

ایس ایس پی حیدرآباد امجد شیخ نے واضح کیا کہ پنہل ساریو پولیس کی زیر حراست نہیں، جبکہ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے بھی پولیس سے معلومات لی ہے۔

واضح رہے کہ حیدر آباد میں جمعے کو لاپتہ افراد کے بارے میں ایک کانفرنس رکھی گئی ہے جس میں ان کے اہل خانہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں، وکلا، دانشور اور ادیب مدعو ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی ڈپٹی کنوینر سورٹھ لوہر کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کے ذریعے وہ مقامی اور بین الاقوامی اداروں تک اپنی آواز پہنچانا چاہتے تھے جسے ناکام بنانے کے لیے ریاستی اداروں نے پنہل ساریو کو حراست میں لیا ہے۔

سندھ میں ایک درجن سے زائد سیاسی کارکن لاپتہ ہیں، جن میں جئے سندھ متحدہ محاذ اور جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کے کارکن شامل ہیں۔

پنہل ساریو نے پچھلے دنوں وائس فار مسنگ پرسنز کی بنیاد رکھ کر لاپتہ افراد کی خاندانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تھا۔

انھوں نے حیدرآباد اور کراچی میں کئی روز تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جبکہ گذشتہ دنوں حیدر آباد سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ بھی کیا تھا۔

پنہل ساریو طالب علمی کے زمانے سے سندھ کی سیاست میں سرگرم رہے۔ انھوں نے جئے سندھ تحریک سے سیاست کی ابتدا کی بعد میں سندھ ترقی پسند پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور تقریبا ایک دہائی کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

انھوں نے سندھ میں کسانوں کے حقوق کے لیے سندھ ہاری تنظیم کی بنیاد ڈالی اور دیگر تنظیموں کے ساتھ ٹیننسی ایکٹ میں ترامیم کے لیے حیدر آباد سے کراچی تک کسانوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ لانگ مارچ کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں