خیبر پختونخوا میں جدید برن سینٹر کا فقدان کیوں؟

برن سینٹر

پشاور کے علاقے متنی سے تعلق رکھنے والے چھ سالہ بچے عطاؤ اللہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل گیارہ ہزار وولٹ بجلی کا جھٹکا لگنے سے کئی دنوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔

اگرچہ ان کی زندگی تو بچ گئی ہے لیکن بجلی کا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ اس سے ان کے جسم کا ایک حصہ مکمل طور پر ناکارہ ہوچکا ہے۔ وہ تقریباً 45 دنوں سے لیڈی ریڈنگ ہپستال کے برن سنٹر میں زیر علاج ہیں۔

٭ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو خطرات لاحق؟

٭ پی ٹی آئی کا پشاور بس منصوبہ تاخیر کا شکار کیوں؟

عطاؤ اللہ کے بھائی رمداس خان کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کھیتوں میں بجلی کے بڑے کھمبے کے قریب کھیل رہا تھے کہ اس دوران انھیں کسی وجہ سے گیارہ ہزار وولٹ بجلی کا کرنٹ لگا جس سے اس کا جسم بری طرح جھلس گیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی کا ایک ہاتھ کاٹ دیا گیا ہے جبکہ اس کی ایک آنکھ بھی ضائع ہوچکی ہے اور دماغ کا ایک حصہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔

رمداس خان کے بقول غربت کی وجہ سے وہ کسی اچھے طبی مرکز نہیں جاسکتے جبکہ اس ہسپتال میں زیادہ جھلس جانے والے مریضوں کے لیے علاج کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں لہذا مجبوراً ڈیڑہ ماہ سے یہاں زیرِ علاج ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں ہر سال آگ اور بجلی کا جھٹکا لگ جانے سے 20 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوتے ہیں۔

طبی سہولیات پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اینڈ انفارمیشن سسٹم کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محض ضلع پشاور میں روزانہ 57 افراد کے جلنے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے تین مہینوں میں ضلع بھر میں 5155 افراد کے جلنے کے واقعات پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال یعنی 2016 میں صوبہ بھر میں 20449 افراد کے جھلسنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

لیڈی ریڈنگ ہپستال پشاور میں قائم برن یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اسلم کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے صوبے میں آگ اور بجلی کا کرنٹ لگنے سے زخمی ہونے والے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بیشتر یہ واقعات گھروں میں پیش آتے ہیں اور نشانہ بننے والوں میں اکثریت چھوٹے بچوں کی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں جدید برن یونٹس کی عدم موجودگی ایک بڑا مسئلہ تو ہے ہی لیکن اس سے بھی زیادہ توجہ اس بات پر دینے کی ضرورت ہے کہ ان واقعات کی روک تھام کیسے کی جائے تاکہ ایسے واقعات کم سے کم رونما ہوں۔

’جلنے سے یا بجلی کا جھٹکا لگ جانے کے جو کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں ان کو برن یونٹ کے قیام سے کم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے آگاہی اور شعور پھیلانا ہوگا کیونکہ معمولی سی تعلیم اور آگاہی سے ان واقعات میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔‘

ڈاکٹر محمد اسلم نے مزید کہا کہ ’ہمارے تعلیم نصاب میں صحت سے متعلق مواد کا شدید فقدان پایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا اور ایسے واقعات کو اپنے سرفہرست ایجنڈے پر رکھنا ہوگا ورنہ یہ واقعات کم نہیں ہوسکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے مرض کی تشخیص پر توجہ تو دی جاتی ہے لیکن اس کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

ناقدین کے مطابق خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی موجودہ حکومت گذشتہ چار سالوں میں طب کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کے دعوے تو کرتی رہی ہے لیکن صحت کے بعض شعبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔

صوبے بھر میں حیران کن طور پر 30 فیصد تک جل جانے والے مریضوں کے علاج کے لیے کوئی جدید برن سینٹر موجود نہیں جس سے مجبوراً مریضوں کو ملک کے دیگر شہروں میں علاج کے لیے جانا پڑتا ہے۔

پشاور کے تین بڑے طبی مراکز میں صرف دو ہسپتالوں میں چھوٹے چھوٹے برن یونٹ قائم ہیں جہاں ایک ہی وقت میں محض دس سے 12 مریضوں کا ابتدائی علاج ممکن ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ان برن یونٹس میں جدید آلات اور تربیت یافتہ سٹاف کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں 30فیصد سے زیادہ متاثر ہونے والے مریضوں کا علاج ممکن نہیں۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں 60 بستروں پر مشتمل ایک جدید برن یونٹ گذشتہ تقریباً 14 سالوں سے زیرِ تعمیر ہے لیکن اس منصوبے کو ابھی تک مکمل نہیں کیا جاسکا۔

سابق ایم ایم اے دور کے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے اس منصوبے کا افتتاح کیا تھا اور بعد میں دو مزید حکومتیں تبدیل ہوئی لیکن یہ منصوبہ بدستور التواء کا شکار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں