جان کے محافظوں کی جان کی قیمت کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جمعے کو پاکستان میں شدت پسندی اور تشدد کے واقعات میں مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یوم شہدائے پولیس منایا گیا۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ پولیس اہلکار خیبر پختونخوا میں ہلاک ہوئے ہیں جن کی تعداد بارہ سو سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

* کوئٹہ: پولیس کی گاڑی پر فائرنگ سے ایس پی ہلاک

پشاور میں ان پولیس اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لیے قران خوانی کی گئی جبکہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس صفوت غیور کی قبر پر پھولوں کی چادر نچھاور کی گئی اور پولیس کے دستوں نے سلامی دی۔

صفوت غیور سال 2010 میں ایک خود کش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ خیبر پختونخوا میں 1970 سے اب تک 1600 سے زیادہ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جن میں 1200 سے زیادہ گذشتہ گیارہ برسوں سے جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان میں ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس، دو ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اور چھ سپرنٹنڈنٹ پولیس افسران شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے لیے معاوضے میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کر دیا ہے جبکہ پولیس افسران کے لواحقین کے لیے یہ رقم دو کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔

سندھ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبہ سندھ میں بھی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے ان میں کراچی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبہ سندھ میں گذشتہ ڈیڑھ سال میں 62 پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ اور مقابلوں میں ہلاک ہوئے ہیں، سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال کراچی میں رہی جہاں 42 اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا گیا۔

محکمہ پولیس کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 2016 میں 41 اہلکار ہلاک ہوئے جبہ رواں سال کے چھ ماہ میں 21 اہلکار ہلاک ہوئے۔

یوم شہدائے پولیس کے موقع پر صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر اور دیگر افسران نے خون کا عطیہ دیا۔

پنجاب

صوبہ پنجاب میں 1970 کے بعد سے اب تک چودہ سو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر سال دو ہزار سات کے بعد دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنے ہیں ۔ صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کہ لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ جبکہ دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بلوچستان

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے عسکریت پسندی اور شدت پسندی کے واقعات میں اب تک 835 سے زائد پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں یوم شہدائے پولیس کی سب سے بڑی تقریب پولیس لائن کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان احسن محبوب کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر کو ایک خاص مقصد کے تحت نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پہلے سرِ شام خوف کی وجہ سے دکانیں بند ہوتی تھیں لیکن پولیس اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ ان قربانیوں کی وجہ سے ان کمزور طبقات کو محفوظ بنایا گیا ہے جن کو عسکریت پسند ی اور شدت پسندی کے واقعات میں ہدف بنایا جاتا رہا۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے پولیس اہلکاروں کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ان میں سے زیادہ تر پولیس اہلکار کوئٹہ شہر میں مارے گئے۔

عسکریت پسندی اور شدت پسندی کے واقعات میں مارے جانے اور زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو معاوضہ دیا جارہا ہے۔

ہیڈکانسٹیبل تک کے رینک کے مارے جانے والے ہر پولیس اہلکار کے لواحقین کو دیگر مراعات کے علاوہ 20لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا رہا لیکن ڈیڑھ دوسال قبل اس رقم کو بڑھا کر 40 لاکھ روپے کردیا گیا۔

ہیڈکانسٹیبل سے اوپر کے رینک کے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا معاوضہ زیادہ ہے۔

اسی بارے میں