تصاویر میں: امن و آشتی کا مرکز’اب خوف کی علامت`

گوردوارہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطیٰ شہر حافظ آباد میں سینکڑوں برس پرانا گوردوارہ، چھٹی پاٹھ شاہی اب خستہ حالی کا شکار ہے۔

مورخ اور ’تاریخ حافظ آباد‘ کے مصنف عزیز علی شیخ کے مطابق جہانگیر بادشاہ کے دور میں سکھوں کے چھٹے گرو گوبند جی کشمیر سے واپسی پر یہاں سے گزرے اور شہر کے باہر ایک ترکھان کرم چند اور گورو کے سکھ کا مکان تھا اور یہاں گورو جی نے قیام کیا۔ اس جگہ پر بعد میں دربار صاحب کی عمارت کھڑی ہوئی۔

گوردوارہ چھٹی بادشاہی

یہ واقعہ 1030 ہجری کا ہے۔ اس جگہ بعد میں گورو جی نے قیام کیا تھا۔ جب گورو ہرگوبند جی حافظ آباد سے چلے گئے تو اس ترکھان کرم چند نے گورو صاحب کی یاد میں تھڑا بنایا۔ جس پر جھاڑو وغیرہ کی خدمت وہ خود کرتے رہے۔ بعد ازاں ایک کوٹھا تیار کیا گیا اور یہی مختصر عمارت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے تک تھی۔

گوردوارہ

گوردوارے کے مرکزی دورازے سے اندر داخل ہونے پر سنگ مرمر پر عقیدت مندوں کے نام درج ہیں۔ یہ نام اس وجہ سے کندہ کرائے جاتے تھے کہ لوگ ان پر چل کر گوردوارے میں داخل ہوں اور انھیں نیکیاں ملیں۔

گوردوارہ

مغلیہ حکومت کے دور میں دربار کے اخراجات کے لیے نہ ہی زمین وقف تھی اور نہ ہی کوئی اور ذریعہ آمدنی تھا۔ مگر سکھوں کے عہد میں دریار صاحب میں ترقی اور ایزادی شروع ہوئی۔

اس وقت گوردوارے میں جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ دیکھنے کو ملتی ہے اور قدیم دروازے کھلے آسمان تلے پڑے پڑے گل سڑ رہے ہیں۔

گوردوارہ چھٹی بادشاہی

تقسیم ہند سے پہلے اس جگہ پر گرو گرنتھ صاحب رکھی ہوئی تھی اور یہاں ماتھا ٹیکا جاتا تھا۔

چھٹی پاٹھ شاہی

مورخ عزیز علی شیخ کے مطابق تقریباً 40 برس مقامی پولیس کے ایک حوالدار کو خواب آیا کہ یہاں پر لال بادشاہ کے نام سے بزرگ دفن ہیں۔ اس پر یہاں پر ان کی قبر بنا دی گئی۔

چھٹی پاٹھ شاہی

پہلے جہاں گرو گرنتھ صاحب کے کمرے کی چھت پر خوبصورت نقاشی کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔

گوردوارہ

دربار صاحب کے ساتھ پختہ تلاب تعمیر کیا گیا۔ جسے پہلے پٹھانوں والا چھپڑ کہا جاتا تھا جبکہ سکھوں کے عہد میں کپور اور چوپڑہ خاندان نے اس گورودوارے کے نام بہت ساری زمین لگائی۔ تاہم تالاب کو 80 کی دہائی میں بھر دیا گیا اور اب یہاں مکانات تمعیر ہو چکے ہیں۔

گوردوارہ

گوردوارہ چھٹی پاٹھ شاہی کے مرکزی حال کی حالت بھی خستہ ہو چکی ہے۔ 1875 میں منشی گوری شنکر تحصیل دار حافظ آباد اور مسٹر کارڈی ڈیپٹی کمشنر گوجرانوالہ نے دربار صاحب کی اوپر کی منزل اور گنبد کے کلس وغیرہ بنوائے۔

گوردوارہ چھٹی بادشاہی

گوردوارہ چھٹی بادشاہی میں ٹوٹ پھوٹ اور پھیلی گندگی

گوردوارہ چھٹی بادشاہی

گوردوارہ چھٹی پاٹھ شاہی کے احاطے میں قائم ایک ہال کی چھت گر چکی ہے۔

گوردوارہ چھٹی بادشاہی

گوردوارے کے اطراف میں کسی زمانے میں کھلی جگہ ہوتی تھی تاہم اب اس کی زیادہ تر اراضی پر آبادی ہے۔

گوردوارہ چھٹی بادشاہی

گوردوارہ چھٹی بادشاہی کبھی امن و محبت اور عقیدت کی جگہ ہوتا تھا تاہم کافی عرصے سے یہاں پر پولیس کے شبعہ سی آئی اے کی چوکی ہے اور مرکزی ہال کے ایک حصے کو قید خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے

گوردوارہ چھٹی بادشاہی

گوردوارے کے اوپری حصے میں پولیس اہلکاروں کی رہائش گاہیں ہیں۔ عزیز علی شیخ کے مطابق پولیس کے خوف سے اب لوگ اس طرف آنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔

گوردوارہ چھٹی بادشاہی

گوردوارہ چھٹی پاٹھ شاہی کی خستہ حالی کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر جلد کی اس کی بحالی پر توجہ نہ دی گئی تو کچھ عرصے میں تاریخی ورثے کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

۔