’جو میں نے دیکھا ہے آپ دیکھ لیں تو جوتی بھی نہ پہنیں‘

انٹرایکٹِو صفیہ ہمدانی

2017

ماں

1960

ماں

میں فیروز پور میں 1936 میں پیدا ہوئی۔ ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائی تھا اور میں سب سے چھوٹی ہوں اور میں ہی اب خاندان میں حیات ہوں۔

میرے والد سید بشیر ہمدانی وکیل تھے۔ میری پیدائش کے کچھ عرصے بعد ہم لوگ گرداس پور ڈسٹرکٹ بٹالا چلے گئے لیکن جلد ہی ہم واپس فیروزپور واپس آئے اور میرے والد قاسو بیگو میں آرڈیننس ڈپو میں سویلین لیبر آفیسر لگ گئے۔ ڈپو فیروزپور شہر سے 17 سے 18 کلومیٹر دور تھا اور ہم سکول جاتے تھے اس لیے گھر شہر ہی میں واقع کوچا قادر بخش میں لیا اور میرے والد فوجی ٹرک پر ڈپو جایا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ اس ٹرک میں بہت سے اور بھی سویلین آفیسرز جایا کرتے تھے۔

ہم سنتے تھے کہ پاکستان کے لیے جلوس نکلتے ہیں۔ میرا بھائی جو پانچویں جماعت میں تھا ایک دن کہنے لگا کہ چلو ہم بھی جلوس نکالتے ہیں۔ اس ٹولے میں میں، میرا بھائی اور میرے چچا کے بیٹے شامل تھے۔ ہم نعرے لگاتے چل پڑے۔ آگے آگے میرا بھائی اور میں اور ہمارے کزنز پیچھے پیچھے نعرے لگاتے چل پڑے۔ ہم سول ہسپتال کے سامنے پولیس سٹیشن کے سامنے رک گئے اور نعرے لگانے لگے۔ ہماری آواز سن کر پولیس سٹیشن سے ایک سپاہی نکلا جسے دیکھ کر میں اور میرے کزنز بھاگ پڑے لیکن میرا بھائی کھڑا ہو کر نعرے لگاتا رہا۔

سپاہی نے میرے بھائی کا بازو پکڑ کر کہا 'چل کاکا اب گھر جاؤ'۔ اس سپاہی نے میرے والد کو بھی شکایت لگائی جس کے بعد ہمارے والد نے ہمیں بہت ڈانٹا۔

فیروزپور

میری ایک خالہ پولیس لائنز میں رہتی تھیں اور خالو انسپیکٹر سی آئی ڈی تھے۔ عید سے ایک دن پہلے وہ سب آئے اور کہنے لگے کہ آج پولیس سٹیشن میں سارا سٹاف ہندو اور سکھ آ گیا ہے اور پولیس لائنز میں اب صرف وہ ہی مسلمان رہ گئے ہیں۔ میرے والد اور والدہ نے کہا کہ وہ ہماری طرف ہی رک جائیں۔ اس طرح کوچہ قادر بخش کے گھر میں ہمارا خاندان، ہمارے چچا اور خالہ کا خاندان اکٹھا ہو گیا۔

کوچہ قادر بخش میں تقریباً سب ہی مسلمان رہتے تھے اور زیادہ تر مسلمان قصور سے تھے اور عید سے دو یا تین دن پہلے سب نے اپنے خاندان قصور بھیج دیے تھے۔

ست سری کال جو ملے سو نہال

عید گزری اور اس کے دوسرے روز سب کہنے لگے کہ آج رات کو بہت خطرہ ہے کہ سکھ حملہ کریں گے اس محلے پر۔ اسی رات ہم کھانا کھا کر لیٹے ہی تھے کہ ہمیں آوازیں آئیں 'ست سری کال جو ملے سو نہال'۔ اس آواز کے ساتھ ہی ہمارے محلے میں مسلمانوں نے نعرہ حیدری اور نعرہ تکبیر کے نعرے لگائے۔ اتنا زیادہ شور ہو گیا کہ ہم بچے چیخیں مارنے لگے۔ ہمارا ہمسایہ ایک ہندو تھا جو ایک امیر آدمی تھا۔ اس نے جب ہمارے گھر سے چیخوں کی آوازیں سنیں تو آواز دی 'ہمدانی صاحب خیریت ہے؟ اتنا شور کیوں ہے؟' میرے والد نے کہا کہ 'خیریت ہے بس بچے ڈر گئے تھے۔' نعرہ حیدری اور نعرہ تکبیر کی بلند آوازیں سن کر سکھ آگے نہیں آئے۔

اگلے دن سب نے کہا کہ یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں ہے اور آج سکھ ضرور آئیں گے۔ کرفیو لگا ہوا تھا۔ ہمارے گھر کے اوپر والے حصے میں ایک کھڑکی سڑک پر کھلتی تھی اور سیڑھیاں نیچے جاتی تھیں۔ محلے والوں نے ہمیں کہا کہ آپ یہ سیڑھیاں بند کریں۔ چنانچہ دروازے کے آگے سامان رکھا تاکہ کوئی باہر سے دروازہ نہ کھول پائے۔ محلے والے مدد کے لیے آئے اور اوپر والی کھڑکی کے قریب اینٹیں جمع کیں کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو اوپر سے اینٹیں ماریں گے۔

partition تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive

میرے والد نے کہا کہ اینٹیں ابھی سے توڑ کر رکھ لیتے ہیں تاکہ جب حملہ ہو تو اس وقت اینٹیں توڑنی نہ پڑیں۔ محلے والوں نے کہا کہ اینٹیں کیوں توڑ رہے ہیں اینٹیں تو ثابت مارنی ہیں؟ میرے والد نے کہا کہ یہ انسانیت نہیں ہے ثابت اینٹیں مارنے سے اندرونی چوٹ لگ سکتی ہے۔ سب کہنے لگے کہ 'ہمدانی صاحب وہ مارنے کے لیے کرپانیں لائیں گے اور آپ انسانیت کی بات کر رہے ہیں۔'

فیروزپور

اگلے روز میرے والد اور چچا نے کہا کہ یہاں سے پولیس سٹیشن قریب ہے اور خالو، جو سی آئی ڈی میں انسپیکٹر تھے، سے کہا کہ سفید کپڑا پکڑ کر پولیس سٹیشن جائیں اور ان سے کہیں کہ سرحد پار کروانے کے لیے ٹرک دے دیں۔

قاسو بیگو آرڈیننس ڈپو کا کرنل انگریز تھا اور وہاں دو میجر مسلمان بھی تھے۔ کرنل نے کہا کہ حالات اتنے خراب ہیں اور سی ایل او یعنی میرے والد شہر میں ہیں اور ان کو نکالنا ضروری ہے۔

فیروزپور

میرے چچا کا داماد بھی فوج میں تھا اور کرنل نے اس کو ہماری طرف بھیجا۔ وہ ہمارے گھر پہنچا اور کہا کہ ٹرک کھڑا ہے جلدی چلیں۔ میری والدہ نے کہا کہ دو فوجیوں کو بھیجو کہ دو تین سوٹ کیس اٹھا لیں۔ وہ کہنے لگے کہ 'جو کچھ میں دیکھ کر آ رہا ہوں آپ دیکھ لیں تو جوتی بھی نہ پہنیں'۔

ہم تین خاندان کے 20 لوگ گھر سے روانہ ہوئے اور فوجی ٹرک کو پولیس سٹیشن روکا کہ خالو کو اٹھا لیں۔ میرے خالو اتنے پریشان تھے کہ کسی کو پہچان نہیں رہے تھے اور بڑی مشکل سے ان کو ٹرک میں بٹھایا۔ وہ کہنے لگے کہ میں نے جب پولیس سٹیشن کے سٹاف سے کہا کہ سرحد پار کروانے کے لیے ٹرک کا بندوبست کروا دو تو ہندو پولیس اہلکار کہتے ہیں کہ 'آئیں بیٹھیں ابھی گاڑی کا بندوبست کرتے ہیں۔' خالو نے بتایا کہ سامنے ہسپتال میں ٹرکوں میں زخمی اور لاشیں آ رہی تھیں اور پولیس والے قہقہے لگا کر گنتی کر رہے تھے اور 'جب میں اٹھنے لگتا تو وہ کہتے بیٹھیں ابھی آپ کا بندوبست کرتے ہیں۔'

فیروزپور

پولیس سٹیشن سے ہم خیریت سے آرڈیننس ڈپو اپنے رشتہ دار کی طرف پہنچ گئے۔ لیکن اگلے روز سکیورٹی آفیسر نے میرے والد سے کہا کہ صرف آپ کا خاندان رہ سکتا ہے اور باقی لوگ جائیں۔ میرے والد نے کہا کہ یہ سب میرا خاندان ہے تو اس پر انگریز کرنل نے کہا کہ ان کو سرحد پار کروا دو۔

پاکستان کی جانب کا سفر

اس ٹرک کا انچارج ایک سکھ تھا۔ وہ ہمیں کیمپ لے گیا اور کہنے لگا کہ سرحد پار صرف آپ کے خاندان کو کراؤں گا۔ میرے والد نے اس سے کہا کہ کرنل نے سب کا کہا ہے۔ 15 سے 20 منٹ بحث کے بعد اس نے کہا کہ آپ اس کاغذ پر دستخط کر دیں کہ سرحد پار کروا دی ہے۔ میرے والد نے کہا کہ کہ وہ سائن نہیں کریں گے۔ وہ ہمیں کیمپ میں چھوڑ کر چلا گیا۔

کیمپ کیا تھا ایک کھلی جگہ جہاں مٹی ہی مٹی۔ کوئی زمین پر لیٹا ہوا ہے تو کوئی ادھر ادھر پھر رہا ہے۔ کوئی آ کر پوچھے کہ پانی ہے تو دے دو، اگر روٹی ہے تو دے دو دو دن سے بھوکے ہیں۔

ہم وہاں دو گھنٹے ہی بیٹھے تھے کہ وہ سکھ کپتان دوبارہ ٹرک لے کر آیا اور کہا کہ 'ہمدانی تم سائن کرنا بھول گئے'۔ میرے والد نے کہا کہ 'میں بھولا نہیں میں نے کیے نہیں اور نہ ہی کروں گا'۔ آخر کار سکھ کپتان بولا کہ سرحد پار کروا دیتا ہوں۔ کیمپ میں موجود لوگ ہمارے سامنے ہاتھ جوڑیں کہ ہمارے بوڑھے والدین یا اس کو یا اس کو لے جائیں لیکن ہم مجبور تھے۔

فیروزپور

ہم نے پُل کراس کیا تو سامنے لکھا ہوا تھا 'قصور ریلوے سٹیشن'۔ میرے والد نے کاغذ پر سائن کیا تو سکھ کپتان نے کہا کہ 'مجھے شکریہ نہیں کہیں گے؟' میرے والد نے کاغذ سائن کرتے ہوئے کہا کہ 'کرنل صاحب کو شکریہ کہہ دینا'۔

قصور سے ملتان

partition تصویر کے کاپی رائٹ Kasur City Website

قصور ریلوے سٹیشن پر ملتان کے لیے ٹرین تیار کھڑی تھی اور ہم بھی ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ہر سٹیشن پر لوگ بالٹی میں چنے کی دال اور روٹی لاتے اور اس کے ساتھ لیموں دیتے کہ پانی میں ڈال کر پی لیں۔ پاک پتن جا کر ٹرین رک گئی کہ کوئلہ ختم ہو گیا ہے اور صبح تک کوئلہ پہنچے گا تو ٹرین چلے گی۔ مردوں سے کہا گیا کہ پلیٹ فارم پر سو جائیں اور ایک پتلی لکڑی کی سیڑھی لگا دی کہ عورتیں اور بچے ٹرین کے اوپر سو جائیں۔

رات خیر خیریت سے گزری اور ہم ملتان پہنچے۔

ملتان میں میرے دو ماموں رہتے تھے۔ ہم نے ان کو فون کیا کہ ہم پہنچ گئے ہیں۔ میرے چھوٹے ماموں نے ہمیں ریلوے سٹیشن سے لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ’میں نہیں جا رہا میری بہن کہے گی کہ میری بیٹیوں کو سکھ اٹھا کر لے گئے'۔

میرے بڑے ماموں ہمیں سٹیشن پر لینے آئے تو سب سے پہلے پوچھا 'بہن سب بچیاں خیریت سے ہیں نا'۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں