’کمیٹی کا خیرمقدم کرتا ہوں، کوئی غلط ٹیکسٹ نہیں بھیجا‘

عمران تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ میں نے کوئی غیرمناسب ٹیکسٹ نہیں کیا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ عائشہ گلالئی کی جانب سے خود پر عائد الزامات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات چاہتے ہیں۔

جمعے کی شب نجی ٹی وی چینل ’بول‘ کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 'میں خوش ہوں کہ نئے وزیراعظم نے آتے ہی ایک پارلیمانی کمیٹی بنا دی ہے یعنی پاکستان میں اور کوئی مسئلے نہیں تھے ۔۔۔ لیکن میں اس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔'

’عائشہ گلالئی غلط بیانی پر معافی مانگیں‘

عائشہ گلالئی کے الزامات، پارلیمانی کمیٹی کے لیے قرارداد

‘پی ٹی آئی تبدیلی نہیں لا سکتی۔۔۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ میں صفائیاں پیش کرتا رہوں میں اس کمیٹی کا خیر مقدم کرتا ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے کہ میں نے کوئی غیرمناسب ٹیکسٹ نہیں کیا۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی کے ساتھ جن میسجز کا تبادلہ ہوا وہ تمام سامنے آ جائیں اور اس دوران امیر مقام اور عائشہ گلالئی کے والد کے ساتھ روابط کے میسجز بھی سامنے لائے جائیں اور جنگ میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل رحمان کے بھی ٹیکسٹ میسجز دیکھے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی پوری طرح انکوائری ہونی چاہیے کہ ہوا کیا ہے۔

عائشہ گلالئی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے بعد عمران خان کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے عائشہ پر اس لیے افسوس ہے کہ وہ استعمال ہوئی ہیں۔ میں ان پر بات نہیں کروں گا کیونکہ اس سے ان کی ساری زندگی متاثر ہو گی۔‘

خیال رہے کہ جمعے کو ہی عمران خان پر انہی کی جماعت کی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کی تھی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد کے مطابق یہ کمیٹی ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کر کے ایوان میں پیش کرے گی۔

پارلیمانی کمیٹی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی اپنا کام کرے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں نے انھیں کوئی غیرمناسب ٹیکسٹ نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PTI
Image caption عائشہ گلالئی نے یہ الزام لگایا تھا کہ عمران خان اور اس کے اردگر موجود لوگوں کے ہاتھوں عزت دار خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی رہنما عائشہ گلالئی نے یکم اگست کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں پارٹی کے سربراہ عمران خان پر موبائل فون کے ذریعے قابلِ اعتراض پیغامات بھیج کر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اُنھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ عمران خان اور اس کے اردگر موجود لوگوں کے ہاتھوں عزت دار خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔

تاہم تحریک انصاف کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جارہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کا ہاتھ ہے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ ان کی جماعت خواتین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ناز بلوچ حال ہی میں ان کی پارٹی چھوڑ کر گئی ہیں اور چھ سال تک ان کے ساتھ ٹیکسٹ میسجز کا تبادلہ ہوتا رہا، وہ غصے میں گئیں لیکن انھوں نے نہیں کہا کہ کوئی غیرمناسب ٹیکسٹ بھیجے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ تحقیقات ہوں اور یہ امر سامنے آئے وہ اپنی پارٹی کی خواتین کے ساتھ کیسا رویہ روا رکھتے ہیں۔‘

اسی بارے میں