کشمیر کے فیصلے کا حق عوام کو: گاندھی

(پندرہ اگست تک آپ ہر روز تین اخبارات ڈان، دی ہندوستان ٹائمز اور ایسٹرن ٹائمز میں 70 برس پہلے شائع ہونے والےخبروں کی جھلکیاں یہاں پڑھ سکیں گے)

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption کشمیر کی قسمت کے فیصلے کا حق عوام کا ہے، ریاست کو کسی ایک کے ساتھ جانا ہو گا: گاندھی

ہندوستان ٹائمز

(واہ: 6 اگست ) مہاتما گاندھی نے ریاست کے تین روزہ دورے کے بعد گزشتہ شام کو پوجا کے لیے اکٹھے ہونے والے افراد سے خطاب میں پہلی بار کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانونی پر 15 اگست کو جموں اور کشمیر کی ریاست آزاد ہو گی۔ تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ صورتحال زیادہ دیر ایسی نہیں رہے گی۔ 'اسے کسی ایک، ہندوستان یا پاکستان، میں شامل ہونا ہے۔'

تقسیمِ برصغیر کے 70 سال: آپ کیا جانتے ہیں؟

’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

مہندرا اینڈ محمد کو تقسیم نے کیسے الگ کیا؟

گاندھی جی نے کہا کہ وہ پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ جموں اور کشمیر میں عوام کی رائے ہی سب سے بڑا قانون ہے۔ انہوں نے بخوشی یہ بتایا کہ مہاراجہ اور مہارانی نے بھی اس حقیقیت کو بغیر کسی تامل کے تسلیم کیا۔

'معاہدہ امرتسر' کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حقیقت میں وہ صرف ایک سودے کی رسید ہے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ 15 اگست کو اپنی موت مر جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ اس معاہدے کے خاتمے کے بعد ریاست انڈیا کے ساتھ شامل ہو گی یا برطانیہ کے۔ اگر انڈیا کو واپس ملتی ہے تو کس پارٹی کو۔انہوں نے قانونی باریکیوں میں جائے بغیر کہا کہ عام عقل کا تقاضہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ جموں اور کشمیر کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔ اور یہ جنتی جلدی ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے۔

لیکن لوگوں کی مرضی کا تعین کیسے ہو گا؟ مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ ایک جائز سوال ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کا فیصلہ دونوں ممالک(پاکستان، انڈیا)، مہاراجہ کشمیر اور کشمیری عوام کے درمیان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک متفقہ فیصلہ بہت سی مشکلات سے بچا لکے گا۔ آخر کشمیر سٹریٹیجک اعتبار سے بہت اہم اور بڑی ریاست ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا اور ہالینڈ کی خبریں بھی شہ سرخیوں میں

(ڈان)

(سٹاف رپورٹر نئی دلی) محترم لیاقت علی خان کی طرف سے پاکستان کے لیے تعمیری خدمات پیش کرنے کی اپیل کے جواب میں تقریباً 15000 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں تمام طبقات کے لوگ شامل ہیں۔ ڈاکٹر قریشی کی طرف سے جمع کی گئی تفصیلات کے مطابق ان میں ماہرین تعلیم، اقتصادیات، زراعت، شماریات، انجنیر، سائنسدان اور وکلا شامل ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اب ماہرین کا ایک بورڈ نامزد کیا جائے گا جو ان درخواستوں کی چھانٹی کر کے پاکستان فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو سفارشات پیش کرے گا۔

اثاثوں کی تقسیم کا فیصلہ نہ ہو سکا

خیال ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سربراہی میں پارٹیشن کونسل کے آخری اجلاس میں انڈیا اور پاکستان کے نمائندوں میں اثاثوں کی تقسیم کے طریقہ کار پر معاہدہ نہیں ہو سکا۔ یہ معاملہ اب ایک ثالثی کونسل کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتفاق رائے کے راستے کی رکاوٹ واجب الادا قرضوں کی تقسیم ہے جو 1800 کروڑ ہیں اور اس میں پاکستان کا حصہ 30 کروڑ بتایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption انڈیا بھرسے تشدد کی وارداتوں کی اطلاعات

ایسٹرن ٹائمز

سٹاپ پریس

لاہور کے علاقے یکی گیٹ میں ایک شخص کو چھرا مار دیا گیا۔ گنپت روز کے قریب بنگالی محلے میں بھی ایک ایسی ہی واردات ہوئی۔ لاہور کی نواحی آبادی باغبانپورہ میں ایک خالی گھر کو آگ لگا دی گئی۔ اس کے علاوہ بھاٹی گیٹ میں کوچہ لال مصری میں بھی آگ لگا کر چار گھر تباہ کر دیے گئے۔ ادھر سے ہی تانگے پر جاتے ہوئے چند افراد پر پتھراؤ کے بعد پولیس نے دو راؤنڈ فائر کیے۔

لائل پور میں دو بم پھینکے جانے کے بعد فرقہ وارانہ صورتحال خراب ہو گئی۔ اس حملے میں چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس واقعے کے بعد بھوانہ بازار میں چھرا گھونپنے کی وارداتیں ہوئیں اور آّٹھ افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جن میں سے ایک دم توڑ گیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اس واقعے کے بعد شہر میں 36 گھنٹے کا کرفیو لگا دیا۔

راولپنڈی میں تعینات سینیر یورپی پولیس اور سول افسران اگلے ہفتے انڈیا چھوڑ دیں گے۔ ان میں راولپنڈی رینج کے ڈی آئی جی اے سکاٹ اور ڈویژن کے کمشنر کے ایچ ہینڈرسن شامل ہیں۔ خواجہ عبدالرحیم، انوارالحق اور ملک عطا محمد نون راولپنڈی میں کشمنر، ڈی سی اور ایس پی کا عہدہ سنبھالیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں