باقی زندگی پاکستان میں گزرے گی: گاندھی

(پندرہ اگست تک آپ ہر روز تین اخبارات ڈان، دی ہندوستان ٹائمز اور ایسٹرن ٹائمز میں 70 برس پہلے شائع ہونے والےخبروں کی جھلکیاں یہاں پڑھ سکیں گے)

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption دلی والوں کو امن سے رہنے کی اپیل

جناح کی ہندوستان کے لیے خوشحالی اور امن کی دعا

(نئی دلی جمعرات): 'میں ہندوستان کے لیے امن اور خوشحالی کی دعا کرتا ہوں' قائداعظم نے کراچی روانہ ہوتے ہوئے ایک اخباری بیان میں اعلان کیا۔

'میں دلی کے شہریوں کو خیرباد کہتا ہوں جن میں میرے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے دوست بھی ہیں۔ میں اس عظیم اور تاریخی شہر کے باسیوں سے امن سے رہنے کی اپیل کرتا ہوں۔ ماضی کو دفن ہو جانا چاہیے۔ آئیے ہندوستان اور پاکستان کی دو نئی ریاستوں میں ایک نیا آغاز کریں۔

’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

تقسیمِ برصغیر کے 70 سال: آپ کیا جانتے ہیں؟

مہندرا اینڈ محمد کو تقسیم نے کیسے الگ کیا؟

سب کو فرداً فرداً شکریہ ادا نہ کرنے پر مسٹر جناح نے کہا کہ 'میں ان تمام دوستوں کا شکر گذار ہوں جنھوں نے نیک تمناؤں کے پیغامات بھیجے ہیں لیکن میں کام کے اس دباؤ کی وجہ سب کا فرداً فرداً شکریہ ادا نہیں کر سکا جو تقسیم کے دوران سامنے آنے والے اہم معاملات کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے دوست ہمیں معاف کر دیں گے۔'

نامزد گورنر جنرل قائد اعظم جناح اپنی بہن فاطمہ جناح کے ہمراہ دوپہر 12:45 پر کراچی کے لیے روانہ ہو گئے۔

مسٹر جناح کی روانگی کا وقت اور مقام خفیہ رکھا گیا تھا۔ وائسرائے کا ڈکوٹا ہوائی جہاز جس میں انھوں نے سفر کیا پالم ائیر پورٹ سے مقررہ وقت سے سوا گھنٹے پہلے روانہ ہوا۔ مسٹر جناح اپنی بہن فاطمہ جناح اور پرسنل سیکرٹری مسٹر خورشید کے ساتھ کار پر ہی رن وے تک گئے۔

مسٹر جناح کے ساتھ ان کے دو اے ڈی سی نیوی کے لیفٹیننٹ ایس ایم احسن اور فلائیٹ لیفٹیننٹ ربانی بھی تھے۔ مسٹر خورشید دو دن مزید یہیں رکیں گے۔ خیال ہے کہ وہ سنیچر کو کراچی جائیں گے۔ مسٹر جناح کو خدا حافظ کہنے والوں میں کرنل کری (وائسرائے کے ملٹری سیکرٹری ) ایران کے قونصلیٹ جنرل اور کچھ دوست شامل تھے۔

مسٹر جناح جہاز تک گاڑی میں گئے اور راستے میں پریس والوں کے لیے بھی نہیں رکے۔ کار سے اتر کر مسٹر جناح اور ان کی بہن کیمرے والوں کے لیے رکے، تصاویر بنوائیں اور سیدھے جہاز میں سوار ہو گئے جو 12:50 پر روانہ ہوا۔

بعد میں ان کے سیکرٹری نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ روانگی جان بوجھ کر ایک گھنٹہ پہلے ہوئی کیونکہ مسٹر جناح کسی پر تکلف تقریب سے بچنا چاہتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مسٹر جناح نے اپنا دلی والا گھر 10 اورنگزیب روڈ، سیٹھ رام کرشن ڈالمیا کو فروخت کر دیا ہے۔ روانگی سے قبل مسٹر جناح کے بہت سے دوست اور چاہنے والے ان سے ملنے آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption پاکستان کے جھنڈے کی تعظیم کریں: گاندھی

میری باقی زندگی

(لاہور، جمعرات) 'میری باقی زندگی پاکستان میں گزرے گی، شاید مغربی بنگال یا مشرقی بنگال، پنجاب یا غالباً شمال مغربی سرحدی صوبے میں۔' مسٹر گاندھی نے یہ بات لاہور میں اپنے میزبان کے گھر ملاقات کے لیے آنے والے کانگریس کے اراکین کے سوالوں کے جواب میں کہی۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ 'مجھے یہ سن کر تکلیف ہوئی ہے کہ لوگ مغربی پنجاب سے بھاگ رہے ہیں اور مجھے بتایا گیا ہے کہ غیر مسلم لاہور کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ سمجھتے کہ لاہور ختم ہو چکا ہے یا ہو رہا ہے تو یہاں سے بھاگیں نہیں، بلکہ جسے آپ ختم ہوتا ہوا لاہور سمجھ رہے ہیں اس کے ساتھ ہی ختم ہو جائیں۔

پنجاب کی صوبائی کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکرٹری سردار لہنا سنگھ کے ایک سوال کے جواب میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ اگر پاکستان کا پرچم اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے تو سب کو اسی پرچپم کو قبول کرنا چاہیے، اس کا احترام کرنا چاہیے اور سیلوٹ کرنے میں بالکل نہیں جھجھکنا چاہیے۔ 'میں آپ سے کہوں گا کہ صرف اس بنیاد پر پاکستانی پرچم کو مت رد کریں کہ اس پر ہلال بنا ہوا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اگر اس طرح کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی جس کا میں نے ذکر کیا ہے تو کم سے کم میں اسے سیلوٹ نہیں کروں گا۔(اے پی آئی)

سندھ کا انڈیا سے وعدہ

ان اطلاعات کا غلط مطلب بھی لیا جا سکتا ہے جن کے مطابق پاکستان کی حکومت نے سندھ کی حکومت کو انڈیا کو گندم کی فراہمی بند کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے جو سندھ اور انڈیا کے درمیان گذشتہ ماہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت حکومت سندھ انڈیا کو 100000 ٹن گندم سے بننے والی اشیا ادھار دینے کے لیے وعدہ کیا تھا۔ اب اس مقدار کو کم کر کے 30000 ٹن کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ کسی بھی طرح اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ ایسا انڈیا کی حکومت کی مرضی سے کیا گیا ہے۔

حقیقیت کچھ یوں ہے کہ تقسیم کی وجہ سے کچھ علاقے مثلاً مشرقی بنگال اب پاکستان کا حصہ ہیں اور ان کی ضرورت پوری کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے انڈیا نے سندھ کی طرف سے معاہدے میں تبدیلی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ سندھ کو اپنے وعدے سے آزاد کر کے انڈیا خود بھی ان علاقوں کی ذمہ داری سے آزاد ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں