جناح کے گھر پر گائے کا پرچم

(پندرہ اگست تک آپ ہر روز تین اخبارات ڈان، دی ہندوستان ٹائمز اور ایسٹرن ٹائمز میں 70 برس پہلے شائع ہونے والےخبروں کی جھلکیاں یہاں پڑھ سکیں گے)

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption جناح کے گھر پر گائے کا پرچم

جناح کے گھر کی قیمت تین لاکھ روپے

مسٹر جناح کا دلی میں گھر جسے سیٹھ رام کرشن ڈالمیا نے تین لاکھ روپے میں خریدا ہے اب گائے کو ذبح کرنے کی مخالفت کرنے والی ایک تنظیم کا صدر دفتر ہو گا اور عمارت پر گائے کا پرچم لہرائے گا۔

تقسیمِ برصغیر کے 70 سال: آپ کیا جانتے ہیں؟

’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

’جاتی عمرہ والوں کا دل شریف خاندان کے لیے دھڑکتا ہے‘

سیٹھ ڈالمیا نے جمعے کو نئی دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 10 اگست کو گائے کے دن کے طور پر منایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ مسٹر جناح کا گھر تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور یہ اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جائے گی جب ایک ایسی تحریک کامیابی حاصل کرے گی جو سیاسی ہونے کی بجائے اقتصادی، سماجی اور مذہبی نوعیت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ خوشحالی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک گائے کو ذبح کرنے پر مکمل پابندی نہیں لگ جاتی اور دودھ اور دودھ سے بننے والی اشیا عوام کو سستے داموں پر نہیں ملنا شروع ہوتیں۔

'انھوں نے کہا کہ ہماری تحریک کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور مدراس، اتر پردیش، بہار اور دیگر صوبوں میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی کےحق میں قانون سازی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption بارشوں کی کمی نے صورتحال خراب کر دی

خوراک کا مسئلہ، حکومت ہِند کا پہلا درد سر

(نئی دلی، جمعہ) محکمہ خوراک کے ایک افسر نے ہندوستان میں خوراک کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت ہند کے لیے پہلے درد سر میں سے ایک ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقے قحط کے قریب ہیں اور اس صورتحال کے بدلنے کا امکان ففٹی ففٹی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگست اور ستمبر کے مہینے انتہائی اہم ہیں۔ پنجاب، راجپوتانا، گجرات اور کاٹھیاوار میں بارشوں کی کمی نے صورتحال خراب کی ہے لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے کتنا نقصان ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یکم ستمبر کو مدراس میں صرف 15 دن کی سپلائی باقی ہو گی۔

ترنکور اور کوچن کی ریاستوں میں صرف پانچ دن کا راشن ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ دکن کی سب سے بڑی ریاست حیدرآباد میں یکم ستمبر کو صرف دو دن کی سپلائی ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption برطانیہ پر دوسری جنگ عظیم کا بوجھ

ایسٹرن ٹائمز

انڈیا، پاکستان ہمارے قرضے معاف کریں: برطانیہ

(نئی دلی، 8 اگست) برطانیہ میں معتبر حلقوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے انڈیا اور پاکستان سے جنگی قرضے معاف کرنے کی درخواست کی ہے یا کرنے جا رہا ہے تاکہ وہ ان کے ساتھ بالکل نئی بنیادوں پر اقتصادی تعلقات کا آغاز کر سکے۔

باور کروایا گیا ہے کہ برطانیہ انتہائی شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اور جنگ عظیم کے دوران لیے گئے قرضے واپس نہیں کر سکے گا۔ اگر انڈیا اور پاکستان نے اس کے قرضے معاف نہ کیے تو برطانیہ اور نئے ممالک کے درمیان تعلقات تعطل کا شکار ہو جائیں گے جس کا سب کو نقصان ہو گا۔

'آپ کو دکھائی نہیں دے رہا' ایک ترجمان نے ایک خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے ملک میں کپڑے اور پیسے کی کمی کی وجہ سے سکرٹ کا سائز چھوٹا ہو رہا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں