این اے 120: ’چہرہ جو بھی ہو جیت نون لیگ کی ہو گی، ضروری نہیں شریف ہو‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قیاس آرائیاں تھیں کہ اسی نشست سے میاں شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے انتخابات لڑوایا جائے گا

لاہور شہر کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں چند دن باقی رہ جانے کے باوجود اس اہم ضمنی انتخاب کے لیے مسلم لیگ نواز نے اپنے امیداوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف جس نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے فوراً بعد ہی اس اہم حلقے میں اپنی پرانی امیدوار یاسمین راشد کو جنھوں نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں نواز شریف کے خلاف 52312 ووٹ حاصل کیے تھے ان کو برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا تھا۔

* نواز شریف کس نکتے پر نااہل ہوئے؟

’اگر مدمقابل عمران خان خود آتے تو مزہ آتا‘

الیکشن کمیشن نے یہاں ضمنی انتخابات کے لیے 17 ستمبر کی تاریخ طے کی ہے۔

ابتدا میں مسلم لیگ نون کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس حلقے سے میاں شہباز شریف الیکشن لڑیں گے اور قومی اسمبلی کی اس نشست سے رکن منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم کا انتخاب لڑیں گے۔

لیکن میاں شہباز شریف کو پنجاب سے ہٹا کر وزیر اعظم بنانے کے فیصلے پر پارٹی میں اختلافِ رائے سامنے آنے کے بعد ابھی تک پارٹی کی طرف سے اس بارے میں واضح اعلان نہیں کیا گیا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ شہباز شریف اگر الیکشن نہیں لڑیں گے تو مسلم لیگ کا امیدوار کون ہو گا؟

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے بیانات کی روشنی میں یہ بات تو یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اس حلقے میں اب شہباز شریف مسلم لیگ ن کے امیدوار نہیں ہوں گے اور وہ اگلے سال عام انتخابات تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر ہی برقرار رہیں گے۔

عام انتخابات سے قبل نواز شریف کی نشست پر ہونے والے اس اہم ترین ضمنی انتخاب میں حکمران جماعت کے امیدوار کے نام کے اعلان میں تاخیر یا تو جماعت کے اندر موجود اقتدار کی رسہ کشی ہو سکتی ہے یا پھر اس حلقے میں اپنی کامیابی کا یقین کامل۔

این اے 120 گذشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے مسلم لیگ ن کا مضبوط گڑھ رہا ہے اس لیے اسے پورا یقین ہے کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کے باوجود یہ نشست انہی کی ہے۔

اس اہم سوال پر مسلم لیگ ن کے رہنما ضعیم قادری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ممکن ہے کہ 12 تاریخ، کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کے آخری دن تک پارٹی کی جانب سے امیدوار کا اعلان ہو جائے گا۔ ‘

’میاں نواز شریف لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ لوگ انہی کی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ ‘

ان کا کہنا تھا ’لوگوں نے ووٹ میاں نواز شریف کی ذات کو دینا ہے اس لیے کوئی بھی نام یا چہرہ سامنے لے آئیں وہ ہی جیتے گا۔ ‘

شہباز شریف کی نامزمزدگی کے امکان پر ان کا کہنا تھا کہ ’ضروری نہیں کہ امیدوار شریف خاندان سے ہی ہو۔‘

پارٹی کے صوبے میں ایک اور اہم رکن رانا ثنا اللہ نے کچھ دن قبل بی بی سی اردو کے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’پارٹی اگر کھمبا بھی کھڑا کر دے تو اسے بھی ووٹ پڑ جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تحریکِ انصاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ بظاہر کافی پر امید نظر آتی ہے

دوسری جانب پی ٹی آئی کی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے جس کے دوران یاسمین راشد گھر گھر جا کر ان ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو پچھلی بار انھیں ووٹ دینے کے لیے راضی نہ تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ بظاہر کافی پر امید نظر آتی ہیں۔ یاسمین راشد کا کہنا تھا ’حلقے میں گھر گھر انتخابی مہم کے دوران لوگ انھیں خوشدلی سے مل رہے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب ہراساں کیے جانے کی شکایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نون لیگ کے گلو بٹ ہمیں پریشان کر رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے لڑکوں کو موٹر سائیکلوں پر ہمارے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ نون لیگ اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے والا کام کر رہی ہے۔ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے یہ سب کر رہی ہے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کی جانب سے اس حلقے میں کامیابی کی امید غلط فہمی ہے۔ محض سرمایہ کاری سے ووٹ نہیں ملے گا۔

’یہ بہت پس ماندہ علاقہ ہے، یہاں تو اگر شہباز شریف کو بھی کھڑا کر دیں گے تو ان کی جیت بھی مسئلہ بن جائے گئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ میاں صاحب اس وقت جس صورتحال کا شکار ہیں وہی قوم کے سامنے رکھیں گےگ

پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ امیدوار کے لیے درخواستیں موصول ہو گئی اور ہم نہایت موزوں امیدوار سامنے لائیں گے۔

انھوں نے کہا ’یقیناً لاہور نون لیگ کا مضبوط حلقہ رہا ہے۔ لیکن سیاسی عمل میں مکافات ِ عمل بھی ہوتا ہے۔ اور میاں صاحب اس وقت جس صورتحال کا شکار ہیں وہی قوم کے سامنے رکھیں گے۔‘

’ہم لوگوں کو بتائیں گے کہ عدالتیں ان کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں اور انھیں نا اہل قرا دے چکی ہیں اس لیے انھیں ووٹ نہ دیں۔‘

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جونہی امیدوار کا فیصلہ ہوگا حلقے میں انتخابی مہم شروع کر دی جائے گی۔

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 میں گذشتہ عام انتخابات 2013 میں میاں نواز شریف نے پی ٹی آئی کی امیدوار یاسمین راشد کو تقریباً 40 ہزارووٹوں سے شکست دی تھی۔

ان ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کی امیدوار اگر کامیاب ہو جاتیں ہیں یا مسلم لیگ ن کے امیدوار سے ان کا کڑا مقابلہ ہوتا ہے تو ماہرین کے خیال میں یہ میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کی ساکھ کے لیے دھچکا ہوگا۔

ان انتخابات کے نتائج یہ طے کریں گے کے نواز شریف کی نااہلی نے لوگوں کے دلوں میں نون لیگ کی گہری چھاپ کو کس قدر متاثر کیا ہے۔

اسی بارے میں