انتخابی اصلاحات کا مجوزہ بل سنہ 2017 تیار

ووٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں انتخابی قوانین کو بہتر بنانے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات کو وسعت دینے کے لیے الیکشن قوانین کا ترمیمی بل سنہ 2017 آئندہ چند دنوں میں قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران پیش کر دیا جائے گا۔

سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی اور قومی اسمبلی کے ذرائع کے مطابق دو سال کی مشاورت اور غور و خوض کے بعد اس مسودۂ قانون کو آخری شکل دے دی گئی اور چند ’اختلافی نوٹ‘ کے ہمراہ اس بل کو اسمبلی کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سنہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سامنے آنے کے بعد سنہ 2014 میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نے وزیر خزانہ کی صدارت میں انتخابی قوانین میں ترامیم تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

انتخابی اصلاحات کے اس بل کو حتمی شکل دینے کے لیے اس کمیٹی کے 118 اجلاس ہوئے جن میں سے 25 پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس تھے اور 93 وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی کے اجلاس ہوئے۔

ان اجلاسوں میں پارلیمان میں موجود حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے موصول ہونے والی 631 مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

اس کمیٹی کے آخری اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے نمائندوں نے 'واک آؤٹ' کیا جن کی عدم موجودگی میں مسودۂ قانون کو آخری شکل دے دی گئی۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں حزب اقتدار کی طرف سے آئین میں ترمیم کا ایک مسودہ بھی قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے جس میں پارلیمان کے ارکان کی اہلیت سے متعلق آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے علاوہ ججوں کی تقریری کے حوالے سے ترامیم بھی شامل ہوں گی۔

ملک میں آزادنہ، غیر جانبدارنہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹی نے جو مسودہ تیار کیا ہے اس میں ماضی کے آٹھ مختلف قوانین کو شامل کرنے کے لیے علاوہ الیکشن کمیشن کو مزید اختیار دینے کے لیے نئی تجاویز بھی شامل کی ہیں۔

نئی تجاویز انتخابی فہرستوں کی تیاری، انتخابی حلقہ بندیوں، کاغذاتِ نامزدگی کو آسان اور سہل بنانے، پولنگ اسٹیشنوں پر نگرانی کے لیے کیمروں کی تنصیب، خواتین ووٹر کی شمولیت، انتخابی عملے کے اختیارات، انتخابی عذرداریوں کو جلد نمٹانے اور انتخابی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے سے متعلق ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

الیکشن اصلاحات سنہ 2017 کے مجوزہ مسودے میں جن موجودہ قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں ان میں الیکٹرول رول ایک مجریہ 1974، انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق ڈی لمیٹیشن آف کونسٹی ٹونسی ایکٹ 1974، سینیٹ الیکش ایکٹ 1975، ریپریزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ 1974، الیکشن کمیشن آرڈر سنہ 2002، عام انتخاب کے انعقاد سے متعلق 2002 کا قانون اور پولیٹکل پارٹی آرڈر سنہ 2002 شامل ہیں۔

مجوزہ مسودہ قانون کے پندرہ باب ہیں جس کا پہلا باب الیکشن کمیشن کے اختیارات کے بارے میں ہے اور جس میں اسے مکمل طور پر بااختیار اور خودمختار بنانے کی بات کی گئی ہے۔

ان اختیارات میں عام انتخابات سے چھ ماہ قبل الیکشن کمیشن کو جامعہ ایکشن پلان تیار کرنا ہو گا جس میں ان تمام انتظامی اور قانونی اقدامات کی تفصیل فراہم کی جائے جو عام انتخابات کے دوران لیے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کو انتخابی نتائج کے اعلان کے لیے ایک شفاف 'رزلٹ مینجمنٹ سسٹم' بھی وضع کرنا ہو گا جس کے تحت ووٹوں کی تیزی سے گنتی، نتائج کو جمع کرنے اور نتائج کی تشہیر کو یقینی بنایا جائے گا۔

ان اصلاحات کے تحت الیکشن کمیشن خواتین، غیر مسلم، جسمانی طور پر معذور اور خواجہ سراوں کے ووٹوں کو رجسٹر کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کرے گا۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن تمام انتخابی عملے کو انتخابی ذمہ داریوں کے لیے تعینات کرنے سے پہلے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرنے کے لیے حلف بھی لے گا۔

الیکشن کمیشن عام انتخاب کے شیڈول کا اعلان کرنے سے ساٹھ دن قبل ضلعی ریٹرنگ آفیسر، ریٹرنگ آفیسر اور اسٹنٹ ریٹرنگ آفسروں کو تعینات کرے گا۔

نئی تجویر کردہ قوانیں میں قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے زر ضمانت تیس ہزار روپے جبکہ سینیٹ اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے بیس ہزار روپے ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں