دو دہائیوں کے بعد پہلا ہندو وزیر

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption ڈاکٹر درشن لال کا تعلق سندھ کے ضلعے گھوٹکی سے ہے

پاکستان میں ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر درشن لال کی وجہ شہرت خاموش اور محتاط رہنا ہے۔ وہ گذشتہ 20 برسوں کے بعد بننے والے پہلے ہندو وفاقی وزیر ہیں۔

درشن لال ماضی میں دو مرتبہ مسلم لیگ نواز کی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں اور مسلم لیگ نواز کی اقلیتی ونگ کے صدر ہیں۔

ڈاکٹر درشن لال پنشی کی پیدائش صوبہ سندھ کے ضلعے گھوٹکی کے علاقے میرپور ماتھیلو میں ہوئی، جہاں پر ان کا کبھی کوئی سیاسی کردار نہیں رہا، کراچی منتقل ہونے کے بعد انھوں نے سیاست کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر درشن سے قبل جوگندر ناتھ پاکستان کے پہلے ہندو وزیر قانون تھے، جنھوں نے ملازمتوں میں اقلیتوں کا کوٹہ 11 فیصد رکھنے کی قانون سازی کی تھی، ان کا تعلق بنگال سے ہے۔

جوگندر ناتھ کے بعد دوسرے وزیر رانا چندر سنگھ تھے، جنھوں نے اقلیتی کوٹہ میں ترمیم پیش کی جس کے تحت ملازمتوں کا کوٹہ 5 فیصد ہوگیا۔ رانا چندر سنگھ کا تعلق سندھ کے علاقے عمرکوٹ سے تھا۔

ڈاکٹر درشن لال سیاست اور میڈیا میں غیر فعال ہیں، ان کے برعکس مسلم لیگ نواز کے ہی رکن قومی اسمبلی رمیش لال وانکوانی ہر دوسرے روز ٹی وی چینلز پر اپنی قیادت اور جماعت کا دفاع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ ڈاکٹر درشن لال نے محتاط انداز اپنایا ہے۔

سندھ میں مذہب کی جبری تبدیلی کی زیادہ تر شکایات گھوٹکی ضلعے سے آتی ہیں، جہاں مذہب کی جبری تبدیلی کا الزام درگاہ بھرچونڈی شریف کی گدی نشینوں پر عائد کیا جاتا ہے، جس کو وہ مسترد کرتے آئے ہیں۔

درشن لال کا تعلق بھی اسی ضلعے سے ہے۔

انھوں نے مبینہ طور پر مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات پر بھی کوئی موقف اختیار کرنے سے اجتناب برتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google

ڈاکٹر درشن لال قومی اسمبلی کی صحت کے بارے میں سٹینڈنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ صحت کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پوچھے گئے سوالات کےجوابات اکثر وہ ہی دیتے ہیں، لیکن ان کے سوالات کی تعداد تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔

پاکستان میں ہندوؤں کی اکثریت صوبہ سندھ میں آباد ہیں، جن میں سے اکثریت شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھتی ہیں۔

اسمبلی میں ہندوؤں کی نمائندگی دس فیصد کے قریب ہے جبکہ ڈاکٹر درشن لال سمیت دیگر اراکین کی اکثریت بڑی ذاتوں اور امیر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہندؤوں کی اکثریت صوبہ سندھ میں آباد ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شیڈول کاسٹ سے ہے۔

ہندو اقلیت کی اسمبلی میں موجودگی دس فیصد کے قریب ہے جبکہ ڈاکٹر درشن لال سمیت دیگر اراکین اکثریت بڑی ذاتوں اور امیر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں