قومی اسمبلی کی رکنیت نہیں چھوڑوں گی: عائشہ گلالئی

عائشہ گلالئی تصویر کے کاپی رائٹ National Assembly of Pakistan
Image caption گذشتہ ہفتے عائشہ گلالئی نے عمران خان پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے مجھے نازیبہ پیغامات بھجیے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی سابق رکن عائشہ گلالئی کا کہنا ہے کہ وہ بطور رکنِ قومی اسمبلی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گی۔

پیر کو اسلام آباد میں ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کے زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بات کرتے ہوئے عائشہ گلالئی نے کہا ’میں میرٹ پر آئی ہوں اس لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہوں گی۔ عمران خان کوئی خدا نہیں ہیں اور ہم شحضیات پر مبنی سیاست کو تسلیم نہیں کرتے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے عائشہ گلالئی نے عمران خان پر نازیبہ پیغامات بھجنے کا الزام عائد کیا تھا۔

عائشہ گلالئی کی جانب سے عمران خان پر الزامات لگائے جانے کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دی تھی جسے آج منظور کر لیا گیا ہے۔

کمیٹی میں چھ حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے رکن جبکہ چار حزب اختلاف کے اراکین شامل ہوں گے۔

کمیٹی عمران خان کی جانب سے عائشہ گلالئی کو مبینہ طور پر بھیجے جانے والے نامناسب ٹیکسٹ میسجز کی ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرئے گی۔ کمیٹی کے اراکین کا تعین کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو بھی نام تجویز کرنے کی پیشکش کے لیے خط لکھ دیا گیا ہے۔

کمیٹی کے لیے رکن پارلیمان کے نام آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا اس کا سربراہ کون ہوگا جبکہ اس طرح کے حساس معاملات کی تحقیقات کے لیے مستقل بنیاد پر ایتھیکس کمیٹی بھی بنائی جائے گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے عائشہ گلالئی اسمبلی میں پہنچیں تو پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا شور شرابا شروع ہو گیا جبکہ پی ٹی آئی کی ناراض رکن مسرت زیب نے گلالئی سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں جا کر گلے لگایا۔

عائشہ گلالئی کی اسمبلی میں موجودگی پر پی ٹی آئی کی رکن شیریں مزاری نے انہیں اجنبی کہتے ہوئے اعتراض اٹھایا ’جب ہماری ایک رکن نے پارٹی چھوڑ دی ہے تو وہ پارلمینٹ کی رکن کیسے ہو سکتی ہیں۔ وہ اجلاس میں شرکت کیسے کر سکتی ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/PTI
Image caption عائشہ گلا لئی خواتین کے لیے مخصوص نشست پر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں

جس پر ڈپٹی سپکر نے ان کے اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا ’آپ قوائد و ضوابط پڑھنے کے بعد اس بارے میں بات کریں۔‘

دوران اجلاس شیریں مزاری اور ڈپٹی سپکر کے درمیان کئی بار تلخ کلامی ہوئی۔ جس پر شیریں مزاری نے کہا ’جب خواجہ آصف نے مجھے پارلیمان میں گالیاں دی تو مجھے تو اپنی بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اور آج بھی مجھے بات کرنے نہیں دی جارہی۔‘

شیریں مزاری نے کہا کہ ’عائشہ مخصوص نشست پر آئی ہیں۔ انھیں کوئی مسلم لیگ ن کی نشت دے پھر بات کرنے کا موقع دیں۔‘

اس تلخ کلامی کے دوران عائشہ گلالئی کئی بار اپنی سیٹ پر بات کرنے کے لیے کھڑی ہوئیں مگر ڈپٹی سپیکر نے انھیں پہلے تو نظر انداز کیا لیکن پھر بات کرنے کی اجازت دے دی۔

ان کی گفتگو کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین مسلسل شور کرتے رہے اور ڈیسک بجاتے رہے۔

گلائی کا کہنا تھا ’اگر آپ پی ٹی آئی کے رکن ہیں تو اچھے ہیں اور اگر چھوڑ دیں تو تیزاب پھنیکنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ میری بہن غیر سیاسی ہے اور ایک قومی ہیرو ہے لیکن اسے بھی نہیں بخشا گیا۔‘

انھوں نے کہا ’میں ایک مہذب اور تعلیم یافتہ پاکستان چاہتی ہیں۔ نوجوانوں کو کہتی ہوں کہ کسی کتاب میں گالم گلوچ کی ترغیب نہیں دی جاتی۔‘

اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کی مائزہ حمید نے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے گلالئی سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

اس سلسلے میں حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ’جہاں عورت کی غیرت اور حیا پر حرف آئے ایسی سیاست ہم نہیں کریں گے۔ ہمیں عورت کا احترام کرنا چاہیے۔‘

خورشید شاہ کے خطاب کے دوران بھی ایوان میں شور شرابہ چلتا رہا۔

اسی بارے میں