طاہرالقادری کی واپسی، ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف کا مطالبہ

طاہرالقادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کا فیصلہ توقع کے برعکس آیا ہے اور امید ہے کہ ماڈل ٹاؤن کے واقعے میں قتل ہونے والوں کو بھی انصاف ملے گا۔

خیال رہے کہ طاہرالقادری نے پاکستان واپسی سے قبل اعلان کیا تھا کہ ان کے حالیہ دورہ پاکستان کا مقصد لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں تین سال قبل ہلاک ہونے والے 14 کارکنان کے لیے قصاص کی صورت میں انصاف لینا ہے۔

’اشتہاری‘ عمران، قادری کی جائیدادوں کی قرقی کا عمل شروع

منگل کی صبح بیرون ملک سے لاہورایئرپورٹ پر اپنے مختصر خطاب میں طاہرالقادری نے کہا کہ پاناما لیکس میں نواز شریف اور ان کے پورے حاندان کا پکڑا جانا ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت کا انتقام ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے کوئی توقع نہیں تھی کہ ان کے اقتدار میں ہوتے ہوئے کوئی ادارہ جرات، ہمت اور طاقت رکھتا ہے کہ بےباکی کے ساتھ حق کی تحقیقات کرے اور حق کا فیصلہ کر سکے۔ یہ میری توقع کے برعکس فیصلہ آیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PAT /TWITTER

انھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ توقع ہے کہ ماڈل ٹاؤن ٹاؤن میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں سمیت بے گناہ قیدیوں کو انصاف ملے گا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان ناصر باغ کے جلسے کے دوران کریں گے جس میں دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شریک ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2014 کے دھرنے میں آرٹیکل 62 اور 63 کا سبق پوری قوم دیا تھا۔ چار سال بعد سپریم کورٹ نے اسی آرٹیکل کے تحت وزیراعظم کو نااہل کیا ہے۔

انھوں نے سابق وزیراعظم کے نام پیغام میں کہا کہ اتنے بڑے عدالتی فیصلے کے بعد انھیں گھر میں بیٹھنا چاہیے۔

’آپ جی ٹی روڈ پر احتجاج کرنا چاہتے ہیں، ہم نے 2014 میں آپ کے خلاف احتجاج کیا تھا، آپ کس کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ نام لیں اس ادارے کا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو متعدد مقدمات میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے جبکہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جائیداد کی قرقی کے لیے ضابطے کی کارروائی گذشتہ ماہ شروع کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں