ماڈلنگ پروگرام ’مِس ویٹ پاکستان‘ کی نشریات روکنے کے خلاف درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے ٹی وی پروگرام ’مِس ویٹ پاکستان‘ کی نشریات کو روکنے کے لیے دائر کی گئی ایک درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج شوکت عزیز صدیقی نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیا ہے اور سماعت بدھ کو ہو گی۔

یہ درخواست سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل طارق اسد نے دائر کی ہے۔

پاکستان میں ’500 سے زیادہ ویب سائٹس بلاک کر دی گئیں‘

'فحش شاعری' کی شکایات، ملائشیا میں معروف گانے پر پابندی

ایران میں زمبا رقص پر پابندی کے مطالبے پر تنقید

نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس میں ایسا کوئی عمل نہیں ہوسکتا جو اسلامی روایات کے خلاف ہو۔ اُنھوں نے کہا ’مِس ویٹ پاکستان‘ نامی یہ پروگرام اسلامی اقدار کے خلاف ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے خواتین کو غیر ضروری بال صاف کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ وہ مخالف جنس کی زیادہ توجہ حاصل کر سکیں۔

طارق اسد لال مسجد شہدا فاؤنڈیشن کے وکیل بھی رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مِس ویٹ پاکستان‘ کے منتظمین پاکستانی لڑکیوں کو اس پروگرام کا حصہ بننے کے لیے موبائل فون پر پیغامات بھیج رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اُن کی ایک رشتہ دار کو بھی جو تین بچوں کی ماں ہیں، موبائیل فون کے ذریعے اس پروگرام کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی ہے۔

ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنہ 2016 میں بھی ’مِس ویٹ پاکستان‘ کی 16 اقساط مختلف ٹی وی چینلز پر نشر کی گئیں اور ایسے پروگرام اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ برس اس پروگرام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئندہ برس 10 لاکھ خواتین کو اس پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔

اس درخواست میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی اور مختلف نجی ٹی وی چینلز کو فریق بنایا گیا ہے۔

٭ سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم

٭ توہین آمیز مواد پر حکومت کو آرٹیکل 19 کی مہم میڈیا پر چلانے کا حکم

اس درخواست کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس سے پہلے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے خلاف شائع ہونے والے مواد کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی تھی جس میں اُنھوں نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں اُنھوں نے پاکستان میں سوشل میڈیا کو بند کرنے کے بارے میں بھی کہا تھا۔

عدالتی احکامات کے بعد وزارت داخلہ حرکت میں آئی تھی اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے فیس بک کی انتظامیہ کو اس ضمن میں خطوط بھی لکھے تھے۔

اسی بارے میں