لاہور: اسلام پورہ دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد دو ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرک کے اس دھماکے کی تحقیقات پنجاب کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارمنٹ کے حوالے کر دی گئیں ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں آؤٹ فال روڈ پر پیر کی رات فروٹ کے ایک کھڑے ٹرک میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہو گئی ہے جبکہ دھماکے میں 45 افراد زخمی بھی ہوئے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمشنر لاہور عبد اللہ سنبل نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے پیر کی رات ایک شخص کی لاش ملی تھی جو کہ دھماکے سے پھٹنے والے ٹرک کے برابر والی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔ جبکہ ایک شخص کی لاش منگل کی صبح دریافت کی گئی۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد کو ابتدائی طبی امداد دے کر رخصت کر دیا گیا تھا۔ تاہم شدید زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ عبد اللہ سنبل کے مطابق تمام تر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ٹرک کے اس دھماکے کی تحقیقات پنجاب کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارمنٹ کے حوالے کر دی گئیں ہیں۔ تاہم بارود سے بھرے ٹرک کی لاہور میں موجودگی کے حوالے سے عبداللہ سنبل کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ٹرک کو اس مقام پر اس ماہ کی پانچ تاریخ یعنی سنیچر کے روز کھڑا کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ابتدائی منصوبے کے مطابق سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو اتوار کے روز اسلام آباد سے لاہور ایک ریلی کی صورت میں پہنچنا تھا۔ تاہم انھوں نے اپنا پروگرام تبدیل کر لیا اور نئے پلان کے مطابق اب انھوں نے بدھ کو براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور آنا ہے۔

جس مقام پر بارود سے بھرا ٹرک کھڑا کیا گیا تھا وہ اس ریلی کہ راستے سے زیادہ دور نہیں تھا۔ عبداللہ سنبل نے بتایا کہ گو کہ واقعے کی جگہ سابق وزیراعظم کی ریلی کے نئے راستے پر براہ راست واقع نہیں مگر اس سے بھی زیادہ دور بھی واقع نہیں تھی۔

اس سے قبل دھماکے کے فوراٌ بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور کے ایس ایس پی آپریشنز اطہر اسماعیل نے بتایا کہ دھماکے کی جگہ پر پانچ فٹ گہرا کھڈا پڑ گیا تھا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بارودی مواد کو ٹرک میں چھپایا گیا تھا۔

اطہر اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے تاہم ابتدائی طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس ٹرک کو کسی تخریبی کارروائی میں استعمال کیا جانا تھا۔

سی ٹی ڈی کے تحقیقاتی اہلکار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شہر میں ٹرک کو اس مقام تک کس نے اور کس طرح پہنچایا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر بارودی مواد ٹرک میں موجود تھا تو اس میں دھماکہ کس وجہ سے ہوا اور بارود سے بھرے اس ٹرک کا ہدف کیا تھا؟ تاہم اس حوالے سے کسی گرفتاری کے عمل میں آنے کے حوالے سے سی ٹی ڈی کے ترجمان نے تاحال کوئی تصدیق نہیں کی۔

عبداللہ سنبل نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر وہ افراد تھے جو ٹرک کے قریب موجود تھے یا پاس سے گزر رہے تھے۔ دھماکہ اس قدر زرودار تھا کے اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور پاس کھڑی کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں