شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption نواز شریف نے صحافیوں کے ایک گروپ کو بتایا ہے کہ اب شہباز شریف طور چیف منسٹر پنجاب کام کرتے رہیں گے

گو کہ ابھی باضابطہ اعلان باقی ہے لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف نے پیر کے روز صحافیوں کے ایک وفد کو بتایا کہ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف فی الحال پنجاب ہی میں رہیں گے اور نواز شریف کی خالی ہونے والی سیٹ این اے 120 سے ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔

نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے فوراً بعد مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس نے شہباز شریف کو ان کی جگہ وزیراعظم بنانے کی منظوری دی تھی تاہم ان کے قومی اسمبلی کا رکن بننے تک یہ ذمہ داری عارضی طور پر شاہد خاقان عباسی کو سونپنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

تاہم اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ ن اور اس کے قائد نواز شریف نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لی ہے اور شہباز شریف اب وزارت عظمیٰ کے امیدوار نہیں رہے۔

نواز شریف کا متبادل کون؟

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

ان دو ہفتوں میں ایسا کیا ہوا کہ حکمران جماعت اتنا اہم فیصلہ اتنی تیزی سے بدلنے پر مجور ہوگئی؟

جو عوامل شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے لیے فوری 'نا اہلی' کا باعث بنیں ان میں سے چند یہ ہیں۔

پنجاب کے ترقیاتی منصوبے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خیال کیا جاتا ہےاگر شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا دیا گیا تو پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبے انتخابات سے پہلے مکمل نہیں ہو پائیں گے

شہباز شریف کو آج کل ان کے مصاحب 'شہباز سپیڈ' کے نام سے پکارتے ہیں اور سنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو یہ سب اچھا لگتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں یہ 'لقب' ایک چینی شخصیت نے دیا تھا جو صوبہ پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار سے بہت متاثر ہوئے تھے۔

مسلم لیگی قیادت شہباز شریف کے زیراستعمال اس لقب کی روح سے اتفاق کرتی ہے۔ گزشتہ چند روز میں لیگی قیادت میں یہ رائے تقریباً اتفاق رائے کی حیثیت اختیار کی چکی ہے کہ شہباز شریف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے الگ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت، یعنی آئندہ انتخابات سے پہلے مکمل نہیں ہو پائیں گے جس کا پارٹی کو انتخابات کے دوران نقصان ہو گا۔

پارٹی میں دراڑیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزارت اعلیٰ کے متعدد امیدوار اتنی تیزی سے سامنے آئے کہ خود شریف خاندان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے

شہباز شریف کے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنتے ہی مسلم لیگ ن پنجاب میں ایسی کھینچا تانی شروع ہوئی کہ جس کی توقع شاید نواز شریف حتیٰ کہ شہباز شریف کو بھی نہیں تھی۔ وزارت اعلیٰ کے متعدد امیدوار اپنی اپنی لابیز کے ساتھ اتنی تیزی سے سامنے آئے کہ خود شریف خاندان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔

ایک سینئر مسلم لیگی کے بقول ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کئی برسوں سے پنجاب کابینہ میں ایک ساتھ کام کرنے والے لیگی کارکن اچانک متحارب گروہوں کے نمائندے بن گئے تھے۔ یہ صورتحال ظاہر ہے مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خیال میں پارٹی مفاد میں ہر گز نہیں تھی اور اسے فوری طور پر ختم کرنا ضروی تھا۔

شریف خاندان کے اندر دوڑ

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی سربراہی کے امیدوار نہ صرف پارٹی بلکہ شریف خاندان کے اندر بھی موجود تھے اور اگر خود نہیں تھے تو ان کے اپنے اپنے امیدوار ضرور تھے۔ لیگی ذرائع کے مطابق ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ شہباز شریف اور نواز شریف اہم سیاسی معاملات پر دو مختلف کیمپوں میں دکھائی دیں لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے امیدوار کے انتخاب کے دوران ایسا کئی بار محسوس کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ مریم صفدر اپنے کسی معتمد کو وزیراعلیٰ بنوانے کی خواہشمند تھیں جبکہ 'حمزہ کیمپ' یعنی شہباز شریف کے صاحبزادے کا انتخاب کوئی اور تھا۔ اورشریف خاندان کے یہ دونوں چشم و چراغ اپنے اپنے امیدوار کے لیے بھرپور لابئنگ شروع کر چکے تھے۔

الیکشن 2018

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کہا جاتا ہے کہ مریم صفدر اپنے کسی معتمد کو وزیراعلیٰ بنوانے کی خواہشمند تھیں جبکہ حمزہ شہباز کا انتخاب کوئی اور تھا

جو پارٹی پنجاب جیت لیتی ہے وہی مرکز میں حکومت بناتی ہے۔ پاکستان کی انتخابی سیاست کی یہ حقیقت شہباز شریف اور وزارت عظمیٰ کے عہدے کے درمیان دیوار کی طرح حائل ہو چکی ہے۔

نواز شریف نے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے فوراً بعد پارٹی میٹنگ میں اپنے جانشین کے طور پر شہباز شریف کا نام تجویز کیا جسے اس وقت متفقہ طور پر منظور تو کر لیا گیا لیکن جب اس تجویز کے حق میں آنے والا شور تھما تو خاص طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے لیگی رہنماؤں نے اپنے قائد کے سامنے تصویر کا ایک اور رخ پیش کیا، اور وہ رخ یہ تھا کہ آئندہ انتخابات سے قبل پنجاب میں مسلم لیگ کا زور توڑنے کی بھرپور کوشش متوقع ہے اور اس کے لیے ان کے مضبوط امیدواروں کو پارٹیاں بدلنے کی طرف راغب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پارٹی کو تنظیمی طور پر بھی کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

’شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے حق میں نہیں‘

’اگر مدمقابل عمران خان خود آتے تو مزہ آتا‘

پنجاب میں ان کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے، ان سینیئر لیگی رہنماؤں کے بقول، شہباز شریف سے بہتر آدمی کوئی نہیں ہے۔

دس ماہ کی وزارت عظمیٰ کے لیے پنجاب میں اپنی سیاسی پوزیشن کی قربانی کہاں کی عقل مندی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق وزیر اعظم نواز شریف چوہدری نثار علی اور شہباز شریف کے مشوروں کے برعکس محاذ آرائی کی سیاست کا رخ اختیار کر رہے ہیں

محاذ آرائی کی سیاست

آثار یہی بتاتے ہیں کہ چوہدری نثار کے لاکھ سمجھانے کے باوجود نواز شریف محاذ آرائی کی سیاست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سینے میں دفن مبینہ رازوں سے پردے اٹھانے کی باتیں کرنا، سپریم کورٹ کے فیصلے کو پہلے سے تیار شدہ قرار دینا اور موٹر وے کے بجائے جی ٹی روڈ سے لاہور جانا، یہ سب اشارے ہیں کہ نواز شریف چوہدری نثار کے مشوروں کے برعکس خاموشی سے گھر جانے والے نہیں ہیں۔

ایسے میں جب وہ محاذ آرائی کے راستے پر چلنے پر بضد نظر آتے ہیں، شہباز شریف ان کے وزیراعظم کے لیے موزوں ترین شخص نہیں ہیں۔ شہباز شریف کے بارے میں اب یہ بات خاصی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ وہ محاذ آرائی کی بجائے مفاہمت کی سیاست کے داعی ہیں اور نواز شریف کو بھی اسی طرزِ سیاست پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ایسے وقت میں کیا شہباز شریف کے لیے وزیراعظم بننے کا صحیح موقع ہے کہ جب نواز شریف بالکل وہ کرنے جا رہے ہیں جس سے شہباز شریف انہیں روکنے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟

اسی بارے میں