پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمانی کمیٹی مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر لگنے والے الزامات کو رد کر رہی ہے

پاکستان تحریک انصاف نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے نام ایک خط میں پارلیمان میں عمران خان کے خلاف عائشہ گل لالئی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کو مسترد کر دیا ہے۔

تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کے دستخطوں سے لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی مخالفین کی طرف سے بنائی گئی اس کمیٹی کو نہیں مانتی جو خود ہی مدعی، خود ہی جج بن گئے ہیں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے لکھا ہے کہ یہ متصبانہ کمیٹی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ہتھیار بن جائے گا۔ انھوں نے کہا یہ کمیٹی کا بنا کر ایک بری مثال قائم کی گئی ہے۔

کمیٹی کو رد کیے جانے کے ساتھ ساتھ شیریں مزاری نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیق ہونی چاہیے۔ انھوں تجویز کیا کہ برطانوی پارلیمان کی طرح پاکستان کی پارلیمان کو بھی ایک آزاد پارلیمانی کمیش آف سٹینڈر آفس تعینات کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمانی کمشنر فار اسٹینڈرڈ پارلیمان کے ارکان کے ضابطہ اخلاق اور ان پر لاگو ہونے والے قواعد و ضوابط کے اطلاق سے متعلق معاملات طے کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں پارلیمانی کمشنر کو دارالعوام کی ایک قرار داد کے ذریعے پانچ سال کے لیے مقرر کیا جاتا ہے اور وہ ایوان کا ایک آزاد اور خودمختار آفسر ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر خواتین کی مخصوص نشست پر ایک نوجوان رکن قومی اسمبلی عائشہ گل لالئی نے جماعت کے رہنما عمران خان پر نامناسب تحریری پیغام دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

اسی بارے میں