امریکہ کا پاکستان کو پہلا پیغام!

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption ’آپ پاکستانی عوام اور دنیا کے سامنے جو آئین رکھیں گے وہ پاکستان کی قیادت کی جمہوریت اور آئین سے وابستگی کا ثبوت ہو گا‘

(پندرہ اگست تک آپ ہر روز تین اخبارات ڈان، دی ہندوستان ٹائمز اور ایسٹرن ٹائمز میں 70 برس پہلے شائع ہونے والے خبروں کی جھلکیاں یہاں پڑھ سکیں گے)

(ڈان)

امریکہ کا پاکستان کو پہلا پیغام

(واشنگٹن، سنیچر) امریکی وزیر خارجہ جارج مارشل نے آج پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے نام ایک پیغام میں کہا کہ امریکی عوام اس نئے ملک میں 'گہری دلچسپی' لے رہے ہیں۔ چیئرمین کے نام پیغام میں انھوں نے کہا کہ 'آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے موقع پر میں آپ کو اور اسمبلی کے دیگر ارکان کو امریکی عوام اور حکومت کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچا رہا ہوں کہ آپ جو کام آج شروع کر رہے ہیں وہ بخوبی انجام پا جائے۔ مجھے اعتماد ہے کہ آپ پاکستانی عوام اور دنیا کے سامنے جو آئین رکھیں گے وہ پاکستان کی قیادت کی جمہوریت اور آئین سے وابستگی کا ثبوت ہو گا اور وہ ایک ایسی زندہ دستاویز ہو گی جسے بنیاد بنا کر آپ کے نئے ملک کے عوام سیاسی اور سماجی ترقی کی راہ پر چل نکلیں گے۔ آپ کی کارروائی کو امریکی عوام اور دنیا بھر میں آزادی سے پیار کرنے والے گہری دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔'(رائٹرز)

’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

مہندرا اینڈ محمد کو تقسیم نے کیسے الگ کیا؟

’جاتی عمرہ والوں کا دل شریف خاندان کے لیے دھڑکتا ہے‘

’اس گائے کا گوشت کیسے کھاتے جو ہیرا لال کے لیے مقدس تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption ’حالات نے مجھے انتہائی تکلیف دہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔'

ہندوستان ٹائمز

کانگریس نے بٹوارہ کیوں تسلیم کیا: نہرو کی وضاحت

پنڈت نہرو نے کہا ہے کہ 'ہم نے انڈیا کی آزادی کے لیے بٹوارے کو قبول کیا۔ پنجاب اور بنگال تقسیم کا بھرپور مطالبہ کر رہے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ ان دونوں صوبوں میں جاری قتل عام کو روکنے کے لیے ان کا بٹوارہ ضروری تھا۔ کوئی بنگالی یا پنجابی اس وقت تک اس طرح کی بات نہیں کر سکتا جب تک وہ مجبور نہ ہو جائے۔ وہی لوگ جنھوں نے آج سے چالیس برس پہلے بنگال کی تقسیم کی مخالفت کی تھی اب اسی بات کا مطالبہ کر رہے تھے، اور جب جبکہ پنجاب اور بنگال کا بٹوارہ ہو رہا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ کئی بار ایسے مواقع آتے ہیں جب ہمیں چھوٹی برائی کو چننا پڑتا ہے۔ جہاں تک میری ذاتی رائے کا سوال ہے۔ میں گذشتہ سولہ ماہ میں اپنے تمام فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں، حالات نے مجھے انتہائی تکلیف دہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption ’دودھ دینے والے جانور چارے کی کمی سے مر رہے ہیں‘

ایسٹرن ٹائمز

جنوب مشرقی پنجاب میں قحط کا خطرہ

اس سال مون سون کی بارشوں کی کمی کی وجہ سے جنوب مشرقی پنجاب کو قحط کا سامنا ہے۔ جنوب مشرقی پنجاب کے اضلاع خاص طور پر حسار میں چارے کی وجہ سے ہر روز بڑے پیمانے پر دودھ دینے والے جانوروں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ ضلع بھر میں تالاب خشک ہو چکے ہیں اور گھاس کا تنکا بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ راجپوتانہ کی سرحد کے ساتھ حسار کے صحرائی علاقے میں کئی مقامات پر ہرن اور دیگر جانوروں کے ڈھانچے دیکھے جا سکتے ہیں۔

کئی مقامات پر لوگوں کو صرف ایک گھڑا پانی کے لیے میلوں چلنا پڑتا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر کی سطح کے ایک افسر کو متاثرہ علاقے میں بھیجا گیا ہے جو مشرقی پنجاب اور متحدہ ریاستوں کے قریبی اضلاع سے امداد کا بندوبست کر رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر اگلے چند روز میں بارش نہ ہوئی تو خریف کی پوری فصل تباہ ہو جائِے گی۔

چارے کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نارتھ ویسٹ ریلوے فیروزپور، لدھیانہ، جالندھر اور منٹگمری اور بہاولپور کی ریاست سے رعایتی کرائے پر چارے کی فراہمی کے انتظامات کر رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے اس کام کے لیے خصوصی ٹرینیں چلانے کی ہدایت دی ہے۔ متحدہ ریاستوں میں حکومت نے نہروں کے کنارے سبز درخت کاٹنے اور نہروں کے کنارے جانور چرانے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اس وقت محدود مقدار میں قریبی اضلاع سے حاصل کیا گیا چارہ چار سے آٹھ روپے فی من کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے جو کہ معمول کی قیمت سے چار گنا زیادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں