پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کیوں؟

Image caption ایس پی مبارک شاہ کو نامعلوم افراد نے ٹارگٹ کر کے ہلاک کر دیا تھا

مبارک شاہ ان دو پولیس افسروں میں شامل تھے جو چار دنوں کے مختصرعرصے میں کوئٹہ اور چمن میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔

مبارک شاہ کو کوئٹہ شہر میں دن دہاڑے تین محافظوں سمیت گھر کے قریب ہی مارا گیا۔

٭ کوئٹہ:پولیس کی گاڑی پر حملہ، ایس پی سمیت چار اہلکار ہلاک

٭ کوئٹہ میں پولیس پر حملے، چار اہلکار ہلاک

وہ 1985میں بلوچستان پولیس میں بطور انسپیکٹر بھرتی ہوئے اور 2000 میں ایس پی کے عہدے پر فائز ہوئے۔

ان کے بڑے بیٹے عبد الستار کا کہنا ہے کہ اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ پشتونوں کے غیبزئی قبیلے میں اس عہدے پر پہنچنے والے واحد شخص تھے۔

عبد الستار کا کہنا ہے کہ ان کا رویہ گھر میں سب کے ساتھ دوستوں جیسا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'خطرات کے پیش نظر ان کو گھروالوں نے سیکورٹی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر انھوں نے کہا کہ میں نے کسی کے بچوں کو نہیں رلایا تو کوئی ان کے بچوں کو کیوں رلائے گا۔'

سنہ 2000 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے پولیس اہلکاروں پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب بھی جاری ہے۔

محکمۂ داخلہ حکومت بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 میں 111 پولیس اہلکارٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ گذشتہ سال پولیس ٹریننگ کالج پر ہونے والے تین خود کش حملوں میں 61 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

سال ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار
2011 23
2012 46
2013 88
2014 35
2015 36
2016 111

رواں سال میں اب تک تین افسروں سمیت 15سے زائد پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔

پولیس اہلکار آسانی کے ساتھ کیوں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں، اس بارے میں سینیئرصحافی سلیم شاہد نے اس کی چند وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ 'پولیس اہلکار کسی گیریژن میں نہیں رہتے۔ وہ الگ بیرکوں میں بھی نہیں رہتے ۔ پولیس اہلکار عام آبادیوں میں رہتے ہیں اس لیے وہ آسانی کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔'

پولیس کے مطابق فورس کے اہلکاروں کی آسانی کے ساتھ ٹارگٹ بننے کی ایک وجہ تحفظ کے لیے جدید سہولیات کا فقدان ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مقتول ایس پی مبارک شاہ نے اعلیٰ حکام کو بلٹ پروف گاڑی کی فراہمی کے لیے تحریری درخواست دی تھی لیکن انھیں گاڑی فراہم نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سنہ 2000 سے لے کر اب تک بلوچستان میں 835 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں

تاہم ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ فورس کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے نشانہ بننے کی وجہ شہری علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ'سب کو اندازہ ہے کہ اس جنگ میں ہم شہری علاقوں میں فرنٹ لائن پر ہیں۔ فوج ایک اور طریقے سے اس جنگ کو لڑ رہی ہے لیکن شہری علاقوں میں پولیس اور ایف سی فرنٹ لائن پر ہیں۔'

محکمۂ پولیس کے مطابق 2000 سے لے کر اب تک بلوچستان میں 835 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں