خواتین رات دیر تک گھر سے باہر کیوں نہیں رہ سکتیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انڈیا میں خواتین اپنی رات کی سرگرمیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہی ہیں۔

انڈین خواتین ایک سیاستدان کے اس بیان کے ردعمل میں ایسا کر رہی ہیں جس میں انھوں نے رات گئے ایک خاتون کو دو مردوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور اُن کی گاڑی کا پیچھا کرنے پر کہا تھا کہ 'انھیں رات دیر گئے تک گھر سے باہر نہیں رہنا چاہیے۔'

چندی گڑھ سے تعلق رکھنے والی ڈی جے ورنیکا کُنڈا جمعے کی رات گھر واپس آ رہی تھیں، جب مبینہ طور پر دو افراد نے اُن کا تعاقب کیا۔ تعاقب کرنے والوں میں بھارت میں حکمران جماعت بے جے پی کے نمایاں سیاست دان کا بیٹا بھی شامل تھا۔

خاتون نے بتایا کہ 'اُن کا تعاقب کیا گیا اور انھیں تقریباً اغوا ہی کر لیا گیا تھا اور وہ کسی جگہ پر ریپ کے بعد مردہ حالت میں اس لیے نہیں پائی گئیں' کیونکہ ہنگامی کال کے فوری بعد پولیس نے موقعے پر پہنچ کر انھیں بچا لیا۔

ورنیکا کُنڈو کی جانب سے اس واقعے کی تفصیلات فیس بک پر شائع کی جانے کے بعد ریاست ہریانہ سے تعلق رکھنے والے بے جے پی کے رہنما رامویر بھٹی نے کہا کہ ورنیکا کے ساتھ جو ہوا وہ خود اس کی ذمے دار ہیں۔

سی این این نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے سیاست دان نے کہا کہ لڑکیوں کو رات بارہ بجے کے بعد گھر سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ 'وہ رات کو کیوں گاڑی چلا رہی تھیں۔ حالات ٹھیک نہیں ہیں اور ہمیں اپنا خیال خود رکھنا چاہیے۔'

انھوں نے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کو کہا کہ 'والدین کو اپنے بچوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ انھیں اپنے بچوں کو رات دیر گئے تک باہر نہیں رہنے دینا چاہیے اور بچوں کو رات جلدی گھر آنا چاہیے، رات گھر پر گزارنی چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Divya Spandana

متاثرہ خاتون کو ہی ’شرم دلانے‘ کی کوشش کرنا ان کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوئی اور خواتین نے رات گئے لی گئی تصاویر ہیش ٹیگ AintNoCinderella # کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیں۔

سوشل میڈیا پر خواتین کی تصاویر کی یہ مہم مقامی فلموں کی مشہور اداکارہ دیویا سپندانا نے شروع کی جو حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے سوشل میڈیا سیل کی انچارج بھی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'خواتین رات دیر تک گھر سے باہر کیوں نہیں رہ سکتیں؟ میں بھٹی جیسے افراد سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ کون ہوتے ہیں جو ہمارے لیے کرفیو لگا رہے ہیں۔'

دیویا سپندانا نے اس مہم کا آغاز پیر سے خواتین کو واٹس ایپ پیغامات بھیج کر کیا۔

انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ کتنی مرتبہ آپ نے کسی ایسے رہنما کے منہ سے یہ الفاظ سنے ہیں، جو خود بھی زیادہ نہ جانتا ہو؟ مجھے تو ایسے جوابات کئی مرتبہ دینے پڑے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ اس وقت یہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ کب ہم اپنے گھر جا سکتے ہیں اور کب نہیں۔ اسے ختم ہونا چاہیے۔'

اس کے بعد انھوں نے ٹوئٹر پر اپنی تصویر پوسٹ کی اور دوسری خواتین کو بھی ایسا کرنے کو کہا۔

جس کے بعد ہزاروں خواتین نے فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے مردوں کے مخصوص اندازِ فکر کو چیلنج کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sharmistha Mukherjee

اس بارے میں سب سے پہلی سیلفی انڈیا کے سابق صدر پرناب مکھر جی کی بیٹی نے شیئر کی۔

صحافی پالک شرما نے مشروب پیتے ہوئے اپنی تصویر شیئر کی، اُن کے اس ’بولڈ اقدام‘ پر انھیں بہت سراہا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 'مجھے بہت سی دھمکیاں بھی ملی ہیں۔ مجھے اخلاق باختہ عورت بلایا گیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ queenpsays

’لیکن میں خوف زدہ نہیں ہوں۔ ہمیں کوئی روک نہیں سکتا، کوئی ڈرا نہیں سکتا۔ ہم سنڈریلا نہیں ہیں جو رات سے پہلے پہلے گھر پہنچیں۔‘

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ خواتین اس مہم میں شامل ہو رہی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اس موقف کو مسترد کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں