کوئٹہ سانحہ: ’یہ بے حسی کی کیفیت دیکھ کر اُس دن میں رو پڑا۔۔۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sharjil Baloch
Image caption گذشتہ برس کوئٹہ میں ہلاک ہونے والوں کی یہ تصاویر شرجیل بلوچ نے بنائی ہیں

گذشتہ برس کوئٹہ میں ہلاک ہونے والوں کی یہ تصاویر سرخ رنگ کے کاغذ پر بنائی گئی ہیں اور کوئٹہ سانحے میں ہلاک ہونے والے افراد کی برسی کے موقعے پر انھیں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ بی بی سی اردو کے شرجیل بلوچ نے یہ تصاویر کیوں بنائیں اس کی وجہ وہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

میں اُس دن اسلام آباد میں تھا جب مجھے اچانک پتہ چلا کہ کوئٹہ میں دھماکہ ہوا ہے۔

کچھ ہی دیر بعد دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی گئی اور کئی درجن افراد، جو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے اپنے ساتھی انور بلال کی لاش لینے ہسپتال آئے تھے، خود بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

’بیٹے کے بعد اب کوئی آسرا نہیں ہے‘

گذشتہ سال آٹھ اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے باہر ہوا تھا۔

جس وقت دھماکہ ہوا تو وہاں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت لائی گئی تھی جنھیں کچھ دیر قبل کوئٹہ کے علاقے منوں جان روڈ پر نامعلوم افراد نے گھر سے عدالت جاتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sharjil Baloch
Image caption شرجیل بلوچ کا تعلق بلوچستان سے ہے

بم دھماکے کی خبر سنتے ہی میں نے پہلے اپنے رشتے دار کی خیریت دریافت کی جو خود بھی وکیل ہیں۔ میرا تعلق بلوچستان سے ہے اور اپنے ہی گھر میں ہونے والے اتنے بڑے حادثے پر میں بہت افسردہ اور صدمے میں تھا۔ دفتر پہنچا تو کسی بھی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا اور کئی روز تک ایسی ہی کیفیت رہی، ایک خلا سے پیدا ہو گیا تھا۔

سکتے کی حالت 14 اگست کو ختم ہوئی۔ یومِ آزادی پر جشن کا سماں ہر جانب تھا۔ بلوچستان میں بھی تقریبات منائی جا رہی تھیں۔ بہت دکھ ہوا کہ اتنے بڑے سانحے کو اتنی جلدی بھلا دیا گیا۔

یہ بے حسی کی کیفیت دیکھ کر اُس دن میں رو پڑا۔ گذشتہ 17 برسوں میں پہلی مرتبہ مجھے اتنا شدید صدمہ پہنچا۔ تقریباً 60 لوگ، آپ کے بھائی اس دنیا میں نہ رہے ہوں تو کیا لوگ انھیں بھول گئے ہیں؟ اُس دن میں نے فیصلہ کیا کہ میں انھیں نہیں بھولوں گا۔ میں اپنا سوگ ایسے مناؤں گا کہ میں نے اُن کے تصویریں بنانا شروع کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sharjil Baloch
Image caption ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے اپنے ساتھی انور بلال کی لاش لینے ہسپتال آئے تھے

میں نے اپنے دوستوں سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ خیال تو بہت اچھا ہے لیکن کافی مشکل کام ہے۔ تم اسے مکمل کر لو گے؟ میں نے کہا کہ کوشش کروں گا۔

مجھے اندازہ ہوا کہ ہم بحیثیت قوم اتنے بھی بے حس نہیں ہیں۔ بس وقت گزرنے اور پہ در پہ ہونے والے واقعات کی وجہ سے احساسات پر کچھ دھول پڑ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sharjil Baloch

مجھے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر جمع کرنے میں کافی مشکلات پیش آئیں۔ میں اپنے کوئٹہ کے دوستوں کا بہت مشکور ہوں جنھوں نے مجھے مایوس نہیں ہونے دیا اور میری مدد بھی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sharjil Baloch

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں