کیا ریلی نواز شریف کا سیاسی سٹنٹ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف نے ملک کی اعلیٰ عدالت کی طرف سے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد عوامی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان میں آج کل ججوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر کوئی جج ہے۔ ٹی وی اینکر سے لے کر سیاستدانوں تک سبھی کالے کوٹ پہنے نظر آتے ہیں، بلکہ ایک ریٹائرڈ جنرل بھی اب تو فیصلے صادر فرما رہے ہیں۔

وہ چاہے نواز شریف ہوں جنھیں ججوں نے نااہل قرار دے کر ناصرف وزیرِ اعظم کے عہدے سے چلتا کیا بلکہ ان کو کوئی سیاسی عہدہ رکھنے سے بھی روک دیا یا وہ ٹی وی اینکر جو پی ٹی آئی سے علیحدہ ہو کر عمران خان اور پارٹی پر الزامات لگانے والی عائشہ گلالئی کو اپنے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان سے فوراً سچ اور مکمل سچ سننا چاہتے ہیں۔ اور ہر بات پر کہتے ہیں کہ یا تو ہمارے سوال کا جواب دیں نہیں تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہوں جائیں گے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں۔ ہمیشہ دل چاہتا ہے کہ کوئی انھیں یہ کہہ دے کہ بھئی تم کون ہو، کیوں تمہارے سوال کا جواب دوں؟ پر افسوس کوئی یہ نہیں کہتا۔

سیاسی طاقت کا مظاہرہ، نواز شریف لاہور روانہ

نواز شریف کی لاہور واپسی

عمران خان اور ان کی پارٹی کی پہلے رٹ تھی کہ ہم نے الزام لگایا ہے اب نواز شریف ان الزامات کا جواب دیں اور اب رٹ ہے کہ جس نے الزام لگایا ہے وہی جواب دے۔

اسی طرح نواز شریف کو ہی دیکھیے کہ ان سے سابق وزیرِ اعظم کہلوانا ہضم ہی نہیں ہو رہا۔ ویسے ہضم تو کسی سے وزیرِ اعظم نہ کہلوانا بھی نہیں ہو رہا۔ لیکن اس وقت بات نواز شریف کی ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انیس سو نوے میں سلطان گولڈن اپنے ایک سٹنٹ میں ناکام رہے تھے

بھئی تیس پینتیس سال حکومت کر لی اب اگر کہا جا رہا ہے کہ چلے جاؤ تو کیا مضائقہ ہے۔ جب ہر چیز کا ایک آخر ہوتا ہے تو پھر کرسی کا کیوں نہیں۔ اور اگر آپ کو نا اہل کر ہی دیا گیا ہے تو پھر کس کے پاس اور کیا لینے جا رہے ہیں۔ اور اگر آپ خود اپنے بقول عوام کے پاس جا رہے ہیں تو بھئی کیا لینے، وہ کیا دیں گے آپ کو سوائے چند گھنٹے یا چند دن دھوپ میں کھڑے رہنے کے، سکیورٹی کا رسک پیدا کرنے یا نعرے لگا لگا کر اپنے گلے خراب کرنے کے۔ آپ اگر عوامی لیڈر تھے تو گذشتہ چار سال سے زیادہ کہاں تھے، کیوں عوام سے ملنے کے بجائے غیر ملکی دوروں کو زیادہ ترجیح دی گئی۔

نواز شریف کے زوال کے اسباب

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

اور اگر اس کے پیچھے کوئی اور سیاست ہے تو وہ بھی بتا دیں۔ پہلے تو آپ اپنے خلاف لگائے الزامات کا سامنا کریں۔ نیب نے اگر ابھی آپ کو نہیں بلایا تو بالآخر اس نے بلانا ہی ہے تو اس کی تیاری کریں۔ لوگوں نے تو نہیں جواب دینے اور نہ ہی عوامی طاقت آپ کے کردہ ناکردہ گناہوں کا ازالہ کرے گی۔

چلیں آپ پنڈی سے نکل کر لاہور پہنچ گئے اور ہزاروں لاکھوں نے آپ کا درشن بھی کر لیا تو پھر کیا۔ کیا آپ کی عوام صرف پنڈی سے لاہور تک ہے اور اس کے آگے کچھ نہیں۔

ایک بات تو اب آپ کو مان لینی چاہیے کہ آپ اب وزیرِ اعظم نہیں رہے، سپریم کورٹ کے ججوں نے آپ کو نا اہل قرار دے دیا ہے۔ آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو ججوں کے فیصلے کے خلاف قانونی راستہ اپنائیں یا پھر اسے رضائے الٰہی سمجھ کر مان لیں۔ عوام کے پاس تو اُسے جانا چاہیے جو عوامی لیڈر ہو اور آپ کو تو کوئی بھی سیاسی عہدہ رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف ایک قافلے کی صورت میں بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور کے لیے روانہ ہوئے ہیں

پتہ نہیں کیوں مجھے اس وقت ماضی کے سٹنٹ مین سلطان گولڈن یاد آ رہے ہیں۔

یاد ہے وہ اسی اور نوے کی دہائی کا سنہرے بالوں والا ہیرو جو گاڑی لے کر گاڑیوں کے اوپر سے اڑتا چلا جاتا تھا۔ وہ میرا پہلا پاکستانی سُپر مین تھا۔ سلطان گولڈن کو ایک ریکارڈ بنانے کا شوق تھا اور وہ تھا الٹی گاڑی چلانے کا ریکارڈ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اسے دیکھنے سٹیڈیم گیا تھا تو وہ اپنا گاڑیوں والا سٹنٹ پورا نہیں کر سکا تھا۔

میاں صاحب بھی گاڑی لے کر نکلے ہیں بس مشورہ یہ ہے کہ الٹی گاڑی نہ چلائیں۔ نہ ان کی سلطان گولڈن بننے کی عمر ہے اور نہ ہی شاید اب اس کی ضرورت۔

کبھی کبھی سٹنٹ کو نا مکمل چھوڑ دینا چاہیے، اسی میں ہی عزت ہے۔