’شیخ صاحب نے اناج فروخت کر کے 20 ہزار بھیجے جس سے بہت مدد ملی‘

تقسیمِ ہند نے صفیہ اور سردار اجاگر سنگھ کو سرحد کے آر پار ہجرت پر مجبور کیا تو 70 برس بعد دونوں نے اپنے اپنے آبائی شہر میں جانے کا ارادہ کیا لیکن ان دونوں کو زبردستی ہجرت پر مجبور کرنے پر والی لکیر کو عبور کرنے کے لیے ویزہ درکار تھا جو انڈیا پاک تعلقات کی دائمی تلخی کی نذر ہو گیا۔

تقسیم ہند کے 70 سال ہونے پر میں اپنی والدہ کو انڈیا لے جانا چاہتا تھا یاکہ میری 80 سالہ والدہ صفیہ ہمدانی فیروزپور میں آبائی گھر دیکھ سکیں۔ دوسری جانب میری ساتھی اشلین کور نے اپنے دادا سردار اجاگر سنگھ کو پاکستان لانا تھا۔ 89 سالہ اجاگر سنگھ لائلپور سے انڈیا منتقل ہوئے تھے۔

لیکن نہ تو مجھے اور میری والدہ کو ویزہ ملا اور نہ ہی اشلین اور اجاگر سنگھ کو۔ بقول سردار اجاگر سنگھ 'امید ہی کی جاسکتی ہے کہ ان دونوں حکومتوں کو سمجھ آ جائے'۔

فیصلہ یہ ہوا کہ اشلین ویڈیو لنک کے ذریعے میری والدہ کو فیروزپور کا گھر دکھائیں گی اور میں سردار اجاگر سنگھ کو فیصل آباد میں ان کے آبائی گھر دکھاؤں گا۔

ستّر سال میں شہر، قصبے اور دیہات بہت تبدیل ہو جاتے ہیں۔ نئی عمارتیں پرانی کی جگہ لے لیتی ہیں یا پرانی عمارتوں میں جدید انداز میں تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ بدلے ہوئے فیصل آباد میں اجاگر سنگھ کے گھر ڈھونڈنا اتنا آسان نہیں تھا۔

فیصل آباد جانے سے قبل سردار اجاگر سنگھ سے تفصیلی بات ہوئی۔ ان سے ان کے شہر لائلپور کے بارے میں پوچھا۔ 89 سال کی عمر میں وہ اپنی یادداشت سے جتنی مدد کر سکتے تھے انھوں نے کی۔

سردار اجاگر سنگھ پہلے لائلپور کی پہچان کلاک ٹاور یا گھنٹہ گھر میں چنیوٹ بازار میں واقع وکیلاں دی گلی میں رہتے تھے۔ لگ بھگ 15 سال کی عمر میں وہ اس علاقے سے اس وقت زرعی کالج کے سامنے نئے رہائشی علاقے گوبند پورہ منتقل ہوئے۔ انھوں نے خالصہ سکول سے میٹرک کیا اور پھر تقسیم ہو گئی۔

فیصل آباد میں داخل ہوا تو نئی عمارتوں کے درمیان پرانی عمارتیں دکھائی دیں۔ 'مائی دی جھگی' کا سائن بورڈ دیکھا تو اجاگر سنگھ کی وہ بات یاد آئی جب انھوں نے بتایا کہ 'مائی دی جھگی میں ایک چھوٹا گوردوارا تھا اور یہیں پر ہر سال 'بسنت کا میلہ' سجا کرتا تھا۔ اس میلے میں لوگ بہت بڑی تعداد میں شرکت کیا کرتے تھے۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی اور جاگیردار اور کسان اکٹھے میلے کا لطف اٹھاتے تھے۔'

Image caption اجاگر سنگھ کا وکیلں دی گلی میں مکان لیکن مالک مکان نے اندر جانے کی اجامت دینے سے انکار کر دیا

لیکن اب 'مائی کی جھگی' ایک گنجان آباد علاقہ بن چکا ہے اور گوردوارے کی تلاش کے لیے جب لوگوں سے پوچھنا شروع کیا تو کوئی کسی اور سے رجوع کرنے کا کہتے تو کوئی سوچ میں پڑ جاتا۔

تنگ گلیوں میں لوگوں سے پوچھتے پوچھتے اوقاف کی ایک جگہ تک پہنچے جہاں صرف تقسیم سے پہلے کا ایک کنواں تھا۔ دو تین چھوٹے چھوٹے کمرے جہاں دو ضعیف خواتین لیٹی ہوئی تھیں۔ ان سے جب کنویں کے بارے میں پوچھا تو جواب دینے کے بجائے انھوں نے سوال کیا 'تسی سانوں کڈن تے نئیں آئے؟' (ہمیں نکالنے تو نہیں آئے) ان کو تسلی کرائی تو انھوں نے بتایا کہ اس کی تاریخ کے بارے میں تو نہیں معلوم لیکن بچوں نے اس پر لگی ہوئی تختی بھی توڑ دی ہے۔ کنویں میں پانی کم اور ٹینس بال زیادہ تھے۔

Image caption اجاگر سنگھ کے مکان دوسری جانب چھوٹے بازار کی طرف کھلتا ہے

شہر کتنا تبدیل ہو گیا ہے مجھے 'مائی دی جھگی' کے علاقے سے بخوبی اندازہ ہو گیا تھا۔

میری پہلی منزل مشہور گھنٹہ گھر اور اس کے آٹھ بازار تھی۔ اجاگر سنگھ کی دی ہوئی معلومات کے مطابق میں چنیوٹ بازار پہنچا اور وکیلاں دی گلی میں داخل ہوا۔

اجاگر سنگھ نے وکیلاں دی گلی میں اپنے گھر کی بات کرتے ہوئے کہا تھا 'ہمارا گھر چنیوٹ بازار کی جانب سے شروع ہوتا تھا اور آگے جائیں تو کچہری بازار شروع ہو جاتا تھا۔ چنیوٹ بازار اور ہماری گلی کے کونے پر عرضی نویس بیٹھتے تھے جو ڈجکوٹ کے تھے۔ اس وقت گلی میں 15 سے 16 مکان تھے۔ ایڈووکیٹ غلام رسول کا مکان بازار کی طرف تھا جبکہ ہم زیادہ تر گلی کی جانب سے آتے جاتے تھے۔'

Image caption گوبند پورہ کے مکان میں دروازے اب بھی پرانے ہی لگے ہیں

انھوں نے مزید بتایا 'ہمارا گھر دو طرف کھلتا تھا ایک گلی میں دوسری جانب چھوٹے بازار کی جانب۔ چھوٹے بازار کی جانب ہمارے ہمسائے میں ایڈووکیٹ راجہ غلام رسول رہتے تھے۔ گھر کے قریب ہی کولھو اور ایک پرنٹنگ ہاؤس تھا اور تھوڑا آگے کوآپریٹو بینک اور قصاب خانہ تھا۔'

سردار اجاگر سنگھ کے پڑدادا دیا سنگھ اور دادا مکھن سنگھ کا اناج کا کاروبار تھا اور ان کی دکان چھوٹی منڈی میں تھی جو چنیوٹ بازار میں تھی۔

سکول جب چھوڑا تو تھوڑی دیر کے لیے دکان پر بیٹھ کر دادا اور والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ وہ زیادہ کھیل کود کے شوقین نہیں تھے اور تھوڑے بہت دوست تھے جو ان کے ساتھ سکول ہی میں پڑھتے تھے۔ ان کو ایک دوست پریم سنگھ یاد ہیں جو ان کے ساتھ خالصہ سکول میں پڑھا کرتا تھے۔ اور آج بھی ان سے رابطے میں ہیں۔ پریم سنگھ وکیل بن گئے اور اب تو وہ میری طرح ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔

Image caption گوبندپورہ کے مکان کا اندر کا کمرہ جو اپنی پرانی حالت میں ہے

وکیلاں دی گلی میں داخل ہوا تو اکا دکا پرانی عمارتیں نظر آ رہی تھیں اور کچھ عمارتوں کو پلستر کر کے نئی شکل دے دی گئی تھی لیکن کھڑکیاں اب بھی پرانی۔ بڑے بڑے گھر اب چھوٹی چھوٹی دکانوں اور مکانات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کسی زمانے میں کشادہ صحن، بڑی بڑی کھڑکیوں اور بڑے دروازوں کی جگہ لوہے کے دروازوں نے لے لی اور تنگ دکانیں اور تاریک کمروں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔

لوگوں سے پہلے دیافت کرنا شروع کیا کہ اس علاقے کا پرانا رہائشی کون ہے۔ بی بی سی کا سن کر سارے پرانے رہائشی بن گئے لیکن جب اجاگر سنگھ کے گھر کی نشانیاں بتانی شروع کرتے تو لوگ چھٹنا شروع ہو گئے۔ ابھی لوگوں سے بات چیت ہو رہی تھی اور گھر ڈھونڈنے کے امکانات کم ہوتے نظر آ رہے تھے تو ہاتھ میں لفافہ لیے رانا غفور میرے پاس رکے اور میری باتیں سننے لگ گئے۔ پچاس کے پیٹے میں رانا آگے بڑھے اور کہا 'مجھے بتائیں کس کو اور کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔'

رانا غفور گھر کی نشانیاں سن کر مجھے سیدھا ایک مکان کے سامنے لے گئے۔ 'یہ رہا وہ مکان جس کی تلاش ہے۔ اس کے سامنے کولھو، قریب ہی کوآپریٹو بینک اور اس مکان میں ایڈووکیٹ غلام رسول رہا کرتے تھے۔ ان کا انتقال ہو گیا اور ان کے ایک بیٹے راجہ افتخار اب بھی فیصل آباد میں رہتے ہیں۔'

Image caption گوبندپورہ کے مکان کا بیرونی دروازہ

رانا غفور نے بتایا کہ ان کے والد انڈیا سے لائلپور آئے تھے۔ 'میرے والد نے یہ گھر کرائے پر لیا تھا اور کاروبار شروع کیا۔ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ یہیں سے کاروبار کیا اور پھر تھوڑا ہی آگے ایک دکان لے لی اور اب میں وہیں سے کام کرتا ہوں۔'

میری طرف دیکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'اگر مزید تصدیق چاہیے تو میں آپ کی بات راجہ افتخار سے کرا دیتا ہوں۔'

80 سالہ راجہ افتخار نے دیا سنگھ اور مکھن سنگھ کا نام سنا تو ایسے لگا جیسے وہ اپنے سینے میں دبائے 70 سال کی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ 'میں تو مکھن سنگھ کو چچا کہا کرتا تھا۔ اور ہم بچے مل کر لکن میٹی جس کو آپ لوگ چھپ چھپائی کہتے ہیں کھیلا کرتے تھے۔ اور میں تو ان کا داماد ہوں۔ میرے شادی سردار جنگل سنگھ کی بیٹی سے شادی ہوئی ہے۔'

سردار اجاگر سنگھ نے راجہ افتخار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ گزرتے ہوئے ایڈووکیٹ غلام رسول کو سلام کر کے جاتے تھے کیونکہ ان کی شاندار شخصیت تھی۔'

راجہ افتخار اور اجاگر سنگھ کی لمبی بات چیت ہوئی۔ راجہ افتخار نے آخر میں اجاگر سنگھ سے کہا 'سکھ بڑا چنگا سجن ہے تے بڑا پیڑا دشمن۔'

راجہ افتخار نے کہا 'میری بیگم کا چچا مر گیا امرتسر میں تو ہم 15 دن کے لیے گئے۔ ہر روز ایک سکوٹر پر دو لوگ پیچھے پیچے ہوتے تھے اور ہر روز ان کا سکوٹر خراب ہو جاتا تھا۔ ایک دن میں اترا اور کہا کہ سی آئی ڈی کے ہو تو بولے جی۔ میں نے کہا کہ اوئے شرم نئیں آندی اپنی بہن دا پیچھا کردے پئے او۔ یارا تسی تے ہن پگ وی سواد دی نئیں بندے۔'

وکیلاں دی گلی میں تو اجاگر سنگھ کا گھر مل گیا اور میں نکلا گوبندپورہ جہاں وہ پندرہ سال کی عمر میں وکیلاں دی گلی سے منتقل ہوئے۔ یہ ایک نئی کالونی تھی جو سردار گوبند نے تعمیر کی۔ سردار اجاگر سنگھ نے اس علاقے کے بارے میں بتایا کہ اس علاقے میں بہت کم مکان تعمیر ہوئے تھے۔ 'ہمارا مکان تقریباً دو ہزار گز پر تھا اور سڑک کی جانب دکانیں تھیں۔ جس گلی میں ہمارا مکان تھا اسی گلی میں آگے جا کر ایک اور مکان بنا ہوا تھا۔ ہمارے مکان کے قریب ہی سردار گوبند کا بڑا سا مکان تھا۔ اس کے قریب ہی منڈی لگا کرتی تھی اور سامنے زرعی کالج تھا۔'

گوبند پورہ کا گھر ڈھونڈنے کے لیے میں پہنچا پیپلز کالونی میں ڈاکٹر حافظ عبدالقیوم کے گھر پر۔ 93 سالہ ڈاکٹر حافظ عبدالقیوم زرعی یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور فیصل آباد ہی کے باسی ہیں۔

Image caption گوبند سنگھ کا مکان جس کا بیرونی حصہ کافی اچھی حالت میں ہے

ڈاکٹر قیوم کو میں نے مکان کے بارے میں معلومات دیں تو انھوں نے کہا 'مجھے علاقے کا اندازہ ہو گیا ہے۔ لیکن میری بات کرا دیں۔'

فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے اجاگر سنگھ سے کہا 'میں بالکل سمجھ گیا کہ گھر کدھر ہے۔ جہاں آپ منڈی لگنے کی بات کر رہے ہیں وہاں اب پولیس سٹیشن ہے۔'

ڈاکٹر قیوم مجھے لے کر سیدھے گوبند پورہ پہنچے اور اپنی یادداشت اور اجاگر سنگھ کی بتائی ہوئی نشانیوں کی مدد سے اس گلی میں لے آئے جہاں پر اجاگر سنگھ کا مکان تھا۔ لیکن یہاں بھی وہی صورتحال تھی جو وکیلاں دی گلی کی تھی۔ چھوٹے چھوٹے مکانات لیکن اس علاقے میں کچھ مکان ایسے تھے جو اب بھی اپنی پرانی حالت ہی میں تھے۔

گلی میں کچھ تو پرانے مکان تھے لیکن ان کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ تقسیم سے قبل کون رہتا تھا؟ یہاں کیا پہلے ایک بڑا مکان تھا؟ لیکن ان سوالات کے جواب مجھے نہیں ملے۔

آخر کار میں نے دوبارہ اجاگر سنگھ ہی کی مدد لی۔ سپیکر فون پر بات کی اور مقامی افراد آس پاس کھڑے ہو گئے۔ ایک مقامی شخص احسان رحمان نے سوال کیا 'سردار جی اے دسو کہ نہال سنگھ اور گوبند سنگھ دی حویلی تو تواڈا مکان کنی دور سی؟'

نہال سنگھ اور گوبند سنگھ کی حویلی چار نمبر گلی میں ہے اور احسان کو اجاگر سنگھ نے بتایا کہ اس وقت گوبند پورہ کے شروع میں صرف یہ ہی دو بڑے مکان تھے۔

Image caption گوبند سنگھ کے مکان کا اندر کا حصہ

احسان نے فون پکڑا اور تیز تیز قدموں کے ساتھ ایک گھر کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا 'یہ دس مکانات اُس وقت ایک مکان تھا اور یہی سردار جی کا گھر ہے۔ اور ہمدانی صاحب اب یہ میرا گھر ہے۔'

مکان کو ایک سلائی کرنے کے کارخانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں بہت کم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس گھر میں تین کمرے ہیں جو اب بھی اپنی پرانی حالت میں ہیں اور یہ تمام کمرے فیصل آباد کی گرم دوپہر کو بھی ٹھنڈے تھے۔ صحن کو چھوٹا کر کے ایک کمرہ ڈالا گیا ہے۔ لیکن یہ بات مجھے بتانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ کمرے میں داخل ہوتے ہی باہر کا موسم اچھا لگنے لگا۔

جس جگہ کبھی ہینڈ پمپ تھا عین اسی جگہ نلکا ہے، اس مکان کی تقریباً تمام کھڑکیاں اور دروازے اصل حالت میں ہی ہیں اور اب بھی رنگین شیشے موجود ہیں۔

احسان نے بتایا کہ یہ مکان 80 فیصد ابھی بھی پرانا ہے اور اس میں بہت کم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ 'ہم نے کیا تبدیلی کرنی تھی اس مکان میں۔ اتنا پختہ گھر ملا میرے بزرگوں کو انڈیا سے پاکستان آنے پر۔ اس میں اب بھی زیادہ تر ہندوستانی اینٹیں ہی لگی ہوئی ہیں۔'

تقسیم

اجاگر سنگھ کے گھر تو ڈھونڈ لیے لیکن کچھ باتیں اور کچھ یادیں ایسی ہیں جو صرف اجاگر سنگھ ہی بتا سکتے ہیں۔ میں نے ان سے تقسیم کے اعلان کے بعد کی یادوں کے بارے میں پوچھا۔

Image caption اجاگر سنگھ اپنی چھوٹی بہن کے ہمراہ

ہمارے دو گودام تھے اور اس میں بہت اناج پڑا ہوا تھا۔ ہمیں فکر تھی کہ اس اناج کا کیا کیا جائے۔ اس زمانے میں اناج کی قیمت سات روپے من ہوتی تھی۔ ایک بوری ڈھائی من کی تھی جو 18 سے 20 روپے میں فروخت ہوتی تھی۔

بازار میں ایک شیخ صاحب کی کپڑے کی دکان ہوتی تھی جو میرے والد کے بہت اچھے دوست تھے۔ تقسیم کے وقت ہم نے اپنے دونوں گوداموں کی چابیاں شیخ صاحب کو دے دیں۔ شیخ صاحب نے تقسیم کے بعد ان دونوں گوداموں میں پڑا اناج فروخت کر کے ہمیں بینک ڈرافٹ کے ذریعے 20 ہزار روپے بھجوائے۔

اس وقت ہمارے پاس کوئی رقم نہیں تھی اور دکانداری میں پیسہ تو کاروبار ہی میں لگا ہوتا ہے اور بینک میں پیسے کوئی رکھتا نہیں تھا۔ اس لیے ہمیں کافی مالی مشکلات تھیں اور شیخ صاحب کی جانب سے اناج فروخت کر کے بھیجی گئی رقم نے بہت مدد کی۔

مہاجرین کیمپ

14 اگست سے کچھ روز قبل لائلپور میں سکھ برادری نے فیصلہ کیا کہ اب تو انڈیا جانا ہی ہے تو پہلے ہم کچہری بازار کے قریب گوردوارے میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔

کچھ روز گوردوارے میں گزارے اور اس کے بعد خالصا کالج کے باہر بہت بڑا کیمپ لگایا گیا تھا ہم وہاں چلے گئے۔ یہ کیمپ میرے خیال میں 27 یا 28 اگست تک قائم کر دیا گیا تھا۔ اس کیمپ میں ہم تقریباً ایک ماہ رہے۔ اسی کیمپ میں سرگودھا اور چنیوٹ سے آنے والے قافلے رکے۔

خوف تو کیمپ میں رہنے کے باعث نہیں تھا۔ لیکن چنیوٹ اور سرگودھا سے آنے والے قافلوں کے کیمپوں پر حملے ہوئے تھے۔ جب وہ لوگ حملے کے بارے میں بتاتے تھے تو اس سے خوف طاری ہو گیا تھا۔ لیکن لائلپور میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

کیمپ میں گوردوارا کمیٹی یا اس قسم کی سوسائٹیاں مل کر کھانے کا بندوبست کرتی تھیں۔ کیمپ میں کیا زندگی ہونی تھی۔ کھانے کی فکر سے زیادہ صرف انتظار تھا کہ کب کوئی ٹرانسپورٹ آئے اور ہم کیمپ سے نکلیں اور انڈیا جائیں۔

تقسیم سے کچھ عرصہ قبل میرے دادا ہوائی جہاز سے انڈیا چلے گئے۔ تھوڑے بہت زیورات تھے وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ پیچھے میرے والد، والدہ، میرا بڑا بھائی، ان کی اہلیہ اور ایک بچہ، میں خود اور میری تین بہنیں رہ گئیں۔

کیمپ سے سب سے پہلے میرے والد اور میرے بڑے بھائی اپنی اہلیہ اور بچے کے ہمراہ انڈیا کے لیے روانہ ہوئے۔ پیچھے میں اور میری تین بہنیں رہ گئیں۔

انڈیا جانے کے لیے پہلے لائلپور کے کیمپ سے ہمیں لاہور میں کیمپ لے جایا جاتا تھا جہاں دو یا تین دن رہتے تھے۔ امرتسر سے بسیں آیا کرتی تھیں اور ان میں بیٹھ کر انڈیا جایا جاتا تھا۔

لائلپور کی کوئی بات کرتا ہے تو دو کلو خون بڑھ جاتا ہے۔

میں 1982 میں پاکستان ننکانہ صاحب یاترا کے لیے آیا تھا اور اس وقت اپنے شہر لائل پور کے لیے بھی ویزے کی درخواست کی لیکن نہیں ملا۔ نہ تو پارٹیشن کے 35 سال بعد ویزہ ملا اور نہ ہی 70 سال بعد۔ امید ہی کی جاسکتی ہے کہ ان دونوں حکومتوں کو سمجھ آ جائے۔