’سیاسی طور پر ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان‘

(پندرہ اگست تک آپ ہر روز تین اخبارات ڈان، دی ہندوستان ٹائمز اور ایسٹرن ٹائمز میں 70 برس پہلے شائع ہونے والےخبروں کی جھلکیاں یہاں پڑھ سکیں گے)

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption بارہ اگست کے اخبارات میں بڑی خبر محمد علی جناح کی گیارہ اگست کو آئین ساز اسمبلی سے خطاب کے بارے میں تھی۔

ایسٹرن ٹائمز

محمد علی جناح نے اسمبلی سے تقریباً چالیس منٹ خطاب کیا۔ انہوں نے تقریر میں اخبار کے مطابق ایک موقع پر کہا کہ میں ابھی زیادہ ٹھوس باتیں نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی ایک دو باتیں ضرور کہوں گا۔

’پاکستان کی ریاست میں آپ لوگ اپنے مندروں اور عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔‘

’کسی بھی حکومت کا پہلا فرض امن و امان کا قیام ہے تاکہ لوگوں کی زندگی، مذہبی عقائد اور املاک ریاست ہر قیمت پر محفوظ رکھ سکے۔‘

’آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا فرقے سے ہو اس کا ریاست کے کام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ شروعات کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری ہیں اور برابر شہری ہیں۔‘

’ہمیں اپنے مقاصد سے نظر نہیں ہٹانی چاہیے اور آپ دیکھیں گے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان، مذہبی طور پر نہیں، کیونکہ وہ ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے بلکہ سیاسی طور پر ایک قوم کے شہری بن کر۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption ’گاندھی جی کی طرف سے عوامی رائے کی بات نے ہلچل مچا دی‘

ہندوستان ٹائمز

کشمیر میں ریفرنڈم کا امکان

خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق اسے قابل اعتبار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر میں مہاراجہ ریاست کے انڈیا یا پاکستان کا حصہ بننے کے بارے میں فیصلہ کے لیے ریفرنڈم کروانے پر غور کر رہے ہیں۔

سرینگر سے نامہ نگار: گاندھی جی کے کشمیر کے حالیہ دورے اور ان کے بیان نے کشمیری سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ گاندھی کی طرف سے ریاست کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے 'عوامی رائے' کی اصطلاح کے استعمال نے شمال مغربی سرحدی صوبے جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

’آج میں زندہ ہوں تو شیلا بھی زندہ ہو گی‘

مہندرا اینڈ محمد کو تقسیم نے کیسے الگ کیا؟

’جاتی عمرہ والوں کا دل شریف خاندان کے لیے دھڑکتا ہے‘

سرکاری حلقوں کی طرف سے کشمیر کی ریاست کے مستقبل کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں مل رہا، لیکن خیال ہے کہ کشمیر 15 اگست کو آزادی کا اعلان کر دے گا، جیسا کہ گاندھی جی کے مطابق وہ اس تاریخ کو کر سکتا ہے۔ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ 15 اگست کو ریفرنڈم کے موقع پر ماحول ٹھیک رکھنے کے لیے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

نیشنل کانفرنس نے ریفرنڈم کے امکان پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ انڈیا یا پاکستان میں شمولیت کے علاوہ آزادی کے امکان کو بھی ریفرنڈم میں پوچھے جانے والے سوال کا حصہ ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption ’آزادی کے موقع پر فسادات انڈیا اور پاکستانی کی بدنامی کا باعث ہو سکتے ہیں‘

قائد اعظم پاک اسمبلی کے صدر منتخب

پاکستان کا قومی پرچم منظور: یہ پرچم 'امن، آزادی اور سماجی انصاف کی علامت ہوگا'، لیاقت علی خان

مشرقی پنجاب سے 5000 پناہ گزینوں کی لاہور آمد

ڈان

(لاہور، سوموار) گزشتہ تین دنوں میں مشرقی پنجاب خاص طور پر امرتسر سے 5000 سے زیادہ مہاجرین لاہور پہنچے ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ نے لاہور کے مختلف نواحی علاقوں میں درجن سے زیادہ خصوصی کیمپ بنائے ہیں۔ ان میں سے ایک کیمپ والٹن ٹریننگ سکول میں قائم ہے۔ اس کیمپ میں 20000 سے زائد افراد کے لیے بندوبست کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ریلیف کمیٹی کی سرپرستی میں لاہور میں امدادی فنڈ بھی شروع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے طبی ماہرین نے مہاجرین کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کی ہیں۔ (اے پی آئی)

کلکتہ کی صورتحال

(کلکتہ، سوموار) کلکتہ میں ریلیف اینڈ ویلفیئر ایمبولنس کور کی طرف سے آج رات آٹھ بجے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 10 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہو گئے ہیں۔

لیگ کونسل کے رکن کا تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان

(پیر) آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے ایک رکن پروفیسر عبدالرحیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ 13 اگست کی شام سے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر دیں گے۔ انہوں نے یہ اعلان کلکتہ میں فرقہ وارانہ صورتحال کی وجہ سے کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ کلکتہ کے مرکز میں ولنگٹن چوک کی مسجد میں بھوک ہڑتال کریں گے۔

پروفیسر عبد الرحیم کا کہنا تھا کہ تمام پارٹیوں کے رہنماؤں کی اپیلوں کے باوجود شہر میں فرقہ وارانہ وارداتیں جاری ہیں اور اس صورتحال سے آزادی کی تقریبات متاثر ہو سکتی ہیں اور انڈیا اور پاکستان کا نام دنیا میں بدنام ہو گا۔

انڈیا کا ہائی کمشنر

(پیر) انڈیا میں سرکاری اعلان کے مطابق سری پرکاش کو پاکستان میں انڈیا کا ہائی کمشنر نامزد کر دیا گیا ہے۔ وہ کل صبح دلی سے کراچی کے لیے روانہ ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption ہندسوتان سے انخلاء اور برطانیہ کی شدید اقتصادی مشکلات

ایسٹرن ٹائمز

(لندن 8 اگست) برطانیہ کی طرف سے انڈیا اور عراق کے ساتھ کرنسی کے معاہدے میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ تیزی سے کم ہوتے ہوئے ڈالر کے ریزرو ہیں۔ برطانوی مذاکرات کاروں کو اس مسئلے کے ساتھ ساتھ یہ بھی فکر ہے کرنسی کے مزید معاہدوں کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک یہ معلوم نہیں ہو جاتا کہ امریکہ سٹرلنگ کو قابل تبادلہ رکھنے کے لیے وسائل فراہم کر سکتا ہے یا پھر کرنا بھی چاہتا ہے۔

مشرقی بنگال کی حکومت

(کلکتہ 8 اگست) مشرقی بنگال کی حکومت کے عملے اور سازو سامان کی کل کلکتہ سے ڈھاکہ منتقلی شروع ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق تقریباً 200 افسران اور 3500 ملازمین ڈھاکہ منتقل ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ محکمے میمن سنگھ، چٹاگانگ، کومیلا اور برہمپور میں بھی ہوں گے۔

اسی بارے میں