نواز شریف نے جی ٹی روڈ کا انتخاب کیوں کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption نواز شریف کا قافلہ بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور جا رہا ہے

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف ایک مرتبہ پھر تاریخی شاہراہ گرینڈ ٹرنک یا جی ٹی روڈ کی جانب گامزن ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے انہیں نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد سے وہ تفریحی مقام مری اور پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں قیام پذیر تھے۔

نا اہلی کے بعد پہلی مرتبہ وہ لاہور اپنے گھر واپس جا رہے ہیں۔ واپسی کے سفر کے لیے ان کے پاس دوسرے راستے بھی تھے۔ وہ جہاز سے جا سکتے تھے یا موٹروے کو استعمال کرتے ہوئے بھی لاہور پہنچ سکتے تھے، تاہم انہوں نے جی ٹی روڈ کا انتخاب کیا۔

اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ کے گرد و نواح میں قومی اسمبلی کے کئی حلقے واقع ہیں۔ سنہ 2013 کی انتخابات میں یہاں سے زیادہ تر پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ روایتی طور پر بھی جی ٹی روڈ کے ان علاقوں کو نواز شریف کی جماعت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

آخری مرتبہ نواز شریف اس راستے پر آٹھ برس قبل سنہ 2009 میں پاکستان میں آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے نکلے تھے۔ عوام کا ایک بہت بڑا ہجوم ان کے ساتھ نکلا، ابھی قافلہ چلا ہی تھا کہ مقصد پورا ہو گیا۔ یہاں سے حاصل ہونے والی سیاسی رفتار نے ان کی جماعت کو اگلے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلوائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM
Image caption اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ کے گرد و نواح میں قومی اسمبلی کے کئی حلقے واقع ہیں

نواز شریف ہی نہیں، جس بھی سیاسی جماعت نے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہو وہ زیادہ تر جی ٹی روڈ ہی کا انتخاب کرتی ہے۔

تاہم ن لیگ کے عہدیداران کا دعوٰی ہے کہ نواز شریف کے گھر واپسی کے سفر کا مقصد سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا نہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے جی ٹی روڈ کا انتخاب کیوں کیا؟

ن لیگ کے صوبہ پنجاب سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے چاہنے والے ان سے ملنا چاہتے تھے اور گزشتہ چار برسوں میں ان کی خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے تھے۔

’عوام نے نواز شریف کے خلاف فیصلے کو قبول نہیں کیا ہے‘

نواز شریف کا جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کا فیصلہ

'موٹروے پر بھی لاکھوں لوگ آ جاتے مگر ان کو دشواری ہوتی۔ جی ٹی روڈ پر زیادہ لوگوں کو اپنے قائد سے ملنے کا موقع ملے گا۔ ہمارے قائد نے تو عدالت کا فیصلہ مان لیا، مگر اس ملک کے عوام نے تو نہیں مانا'۔

تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتیں۔ نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے ساتھ ہی وہ اپنی سیاسی جماعت کی قیادت بھی نہیں کر سکتے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان قائرہ نے سوال کیا کہ پھر نواز شریف کو اتنا زیادہ سرکاری پروٹوکول کس حیثیت میں دیا جا رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM
Image caption حزبِ اختلاف کی جماعتیں نواز شریف کے اس قافلے پر سوال کر رہی ہیں

'یہ بڑی عجیب بات ہے، کہتے ہیں ہم تو جی جی ٹی روڈ سے گھر واپس جا رہے ہیں۔ تو وہ جو قافلے خیبر پختونخواہ، کشمیر سے اور گلگت بلتستان سے آ رہے تھے، ان کا کیا ہوا۔ جلوس ضرور نکالیں مگر یہ تو بتا دیں کہ یہ شو آپ کر کس کے خلاف رہے ہیں، عدلیہ، فوج یا حکومت کے؟‘

قمر زمان قائرہ لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف جی ٹی روڈ پر ریلی کے ذریعے فوج اور عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نئی کابینہ پر نواز شریف کی چھاپ

’سسر نے بحال کیا تو داماد نے نااہل‘

صوبہ پنجاب سے پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما اور لاہور قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے لیے این اے 120 سے پی ٹی آئی کی نامزد امیدوار یاسمین رحمٰن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جی ٹی روڈ کے انتخاب سے نون لیگ کا واحد مقصد سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

'پہلے تو انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کر رہے ہیں، پھر جب بہت زیادہ تنقید ہوئی تو کہا کہ ہم تو گھر جا رہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ موٹروے پر تو جتنا بھی بڑا قافلہ ہوتا وہ گم ہو جاتا، اب جب ان کا قافلہ جی ٹی روڈ کے ان علاقوں میں پہنچے گا تو وہاں ہجوم ہو جائے گا۔ اس طرح ن لیگ بتا سکے گی کہ ان کے ساتھ کتنے زیادہ لوگ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM
Image caption حزبِ اختلاف کا سوال ہے کہ نواز شریف کو سرکاری پروٹوکول کس حیثیت میں دیا جا رہا ہے

'کہہ رہے ہیں میں گھر جا رہا ہوں، ہم سب جانتے ہیں کہ وہ دراصل اپنی سیاسی بقا کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا خاندانِ شریفاں بالکل ہی غرق نہ ہو جائے'۔

تاہم مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ 'یہ تو پاکستان کے عوام کی خواہش تھی اور ہماری خواہش تھی کہ وہ اس طرح لاہور جائیں۔ عدالت نے تو جو فیصلہ دینا تھا وہ دے دیا۔ مگر ظاہر ہے کہ پاکستان کے عوام نے اسے کو تسلیم نہیں کیا'۔

یاسمین رحمٰن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں نواز شریف کے خلاف نیب میں ریفرنس گئے ہیں، اس پر وہ سیاسی طاقت دکھا کر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ ہیں، کوئی ان کا کچھ نہیں کر سکتا۔ 'اگر آدھے عوام آپ کے ساتھ ہیں تو آدھے آپ کے خلاف بھی تو ہیں۔ تو آپ کیا تصادم چاہتے ہیں؟'۔

یاسمین رحمٰن کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو دیے جانے والے پروٹوکول پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔

'مزدور لوگ ہیں، ٹیکس دیتے ہیں۔ ہمارے ٹیکس کے پیسے آپ کیوں خرچ کر رہے ہیں۔ اس پر بھی ہم انہیں عدالت میں لے کر جائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ یہ سارا خرچہ کیسے ہوا تھا'۔

نواز شریف کے زوال کے اسباب

آئین اور عدلیہ کے مطابق صادق اور امین کون؟

یاسمین رحمٰن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جی ٹی روڈ سے آنے کا ایک فائدہ ن لیگ کو یہ بھی ہو گا کہ وہ لاہور میں حلقہ این اے 120 سے گزریں گے۔ اس طرح نواز شریف ضمنی انتخابات پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

یاد رہے کہ ن لیگ نے تا حال اس الیکشن کے لیے اپنے امیدوار کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاہم مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز ان کی امیدوار ہوں گیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ تو نواز شریف کریں گے تاہم اس بات کے اشارے ہیں کہ کلثوم نواز ہی این اے 120 سے انتخاب لڑیں گی۔

اسی بارے میں