قسمت وہیں لے آئی جہاں کنچے کھیلے: جناح

(15 اگست تک آپ ہر روز تین اخبارات ڈان، دی ہندوستان ٹائمز اور ایسٹرن ٹائمز میں 70 برس پہلے شائع ہونے والے خبروں کی جھلکیاں یہاں پڑھ سکیں گے)

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption ’میں اپنی جائے پیدائش پر واپس پہنچ چکا ہوں اور وہ بھی ایک ایسی چیز کے ساتھ جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی‘

غریبوں کا خیال رکھنا ہمارا مقدس فریضہ ہے: جناح

(کراچی، منگل) غریبوں کا خیال رکھنا اور ان کی مدد کرنا ہمارے مقدس فریضہ ہے۔ اگر میں ان کی طرف اپنی ذمہ داری محسوس نہ کرتا تو ان مصائب اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا جن کا میں گزشتہ دس برسوں میں سامنا کرتا رہا ہوں۔ ہمیں ان کے لیے زندگی کے حالات بہتر کرنے چاہییں۔ ہماری پالیسی امیروں کو امیرتر نہ کرنا نہیں ہونی چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اکھاڑ پچھاڑ میں پڑ جائیں۔ سندھ کے نامزد گورنر مسٹر جی ایچ ہدایت اللہ کی طرف سے دیے گئے ایک اعاشیے میں اپنے اور اپنے بہن کے نام ایک 'ٹوسٹ' کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم سب طبقات کی خدمت کر سکتے ہیں۔

’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

نام تبدیل مگر فیروز پور کی یادیں تازہ

’اس گائے کا گوشت کیسے کھاتے جو ہیرا لال کے لیے مقدس تھی‘

مہندرا اینڈ محمد کو تقسیم نے کیسے الگ کیا؟

ؤزراء سے مخاطب ہوتے ہوئے قائد اعظم جناح نے کہا کہ 'ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے'۔ کسی ایسے فارمولے پر اتفاق کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو صرف کاغذوں پر ہو، کسی فارمولے کی کوئی ضرورت نہیں، حقیقت خود سامنے آ جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption قسمت نے مجھے بمبئی پہنچا دیا۔ وہاں مجھے قانون کے سمندر میں پھینک دیا گیا: جناح

ابتدائی زندگی

'میرا کیریر بہت بکھرا ہوا رہا ہے۔ میں کراچی میں پیدا ہوا اور کراچی ہی کی ریت پر کہیں کنچے بھی کھیلے۔ کراچی میں سکول گیا۔ پھر مجھے سات سمندر پار بھیج دیا گیا اور میں نے اپنے آپ کو لندن میں پایا۔ پھر مجھے جلد ہی واپس بلا لیا گیا۔ میں لوٹ آیا۔ اب سوال یہ تھا کہ آگے کیا؟ قسمت نے مجھے بمبئی پہنچا دیا۔ وہاں مجھے قانون کے سمندر میں پھینک دیا گیا جس کے بعد کیس کا انتظار شروع ہوگیا۔ بالآخر مجھے کیس مل گیا۔ میں اپنے ہی راستے پر چل نکلا، اس چیز سے انجان کے آگے کیا ہوگا۔ قسمت کے فیصلے کے مطابق میں اپنی جائے پیدائش پر واپس پہنچ چکا ہوں اور وہ بھی ایک ایسی چیز کے ساتھ جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption باؤنڈری ایوارڈ کے بعد لاہور میں کشیدگی

ہندوستان ٹائمز

باوثوق ذرائع کے مطابق باؤنڈری کمیشن کے سربراہ سر سرل ریڈکلف نے باؤنڈری رپورٹ وائس رائے کو بھیج دی ہے۔ (اے پی آئی)

لاہور میں باؤنڈری رپورٹ کے پیش کیے جانے کے موقع پر 35 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات ہوئے جن میں سے 8 آتشزدگی کے انتہائی شدید واقعات تھے۔ اسی دوران شہر میں چھرا گھونپنے کی وارداتوں میں 22 لوگ ہلاک اور سولہ زخمی بھی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں