’گانے بند کرو میاں صاحب تقریر کر رہے ہیں‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق وزیراعظم نے راولپنڈی سے روانگی کے بعد جہلم تک کارکنوں سے خطاب کنٹینر کی بجائے گاڑی میں بیٹھ کر کیا

سابق وزیراعظم کا جلوس دارالحکومت سے راولپنڈی میں جتنی سست روی سے داخل ہوا تھا ایک دن بعد اسی شہر سے اتنی ہی تیزی سے جی ٹی روڑ پر آگے بڑھا کہ گویا اسے پر لگ گئے ہوں۔

راولپنڈی کے پنجاب ہاؤس سے جمعرات کو اعلان کردہ وقت سے کافی تاخیر کے بعد قافلہ روانہ ہوا تو کارکنوں کی کثیر تعداد باہر استقبال کے لیے موجود تھی لیکن قافلے کے برق رفتاری سے جی ٹی روڈ کی جانب بڑھنے سے وہاں موجود کارکنوں کا جوش و خروش بھی ماند پڑ گیا اور وہ اپنے اپنے راستوں پر چل دیے۔

٭ نواز شریف کا لاہور کا سفر: اب تک کیا ہوا

٭ نواز شریف نے جی ٹی روڈ کا انتخاب کیوں کیا؟

٭ ’نواز شریف کس کے خلاف جلوس نکال رہے ہیں‘

البتہ ہمیں جلوس کے آخری سرے پر موجود ہونے کی وجہ سے نواز شریف کے کسی استقبالی کیمپ کے سامنے رکنے کا اندازہ اسی صورت ہوتا جب ٹریفک مکمل رک جاتی۔

قافلہ چلتا تو سڑک پر پڑی پھولوں کی پتیاں پرتپاک استقبال کا احوال بتاتیں لیکن اس کے ساتھ اس استقبالی کیمپ کی ویرانی بھی بیان کرتیں کہ کارکنوں کو طویل انتظار کے بعد جانے کی بھی جلدی تھی۔

Image caption جی ٹی روڑ پر لگے استبقالی کیمپوں میں نواز شریف کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی

راولپنڈی میں دریائے سواں کے پل کے قریب لگے استقبالی کیمپ کے سامنے پھولوں کی پتیوں کے ڈھیر تھے لیکن اس کیمپ میں مسلم لیگ ن کے اِکا دُکا کارکنوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 'گو نواز گو' کے نعرے لگانے والے چند نوجوان بھی جمع ہو چکے تھے۔

جیسے جیسے قافلہ یا جلوس شہر سے باہر نکلتا گیا اس کی رفتار بھی بڑھتی گئی اور اس کے آخری سرے پر چند بسوں اور ٹرکوں پر موجود کارکن اس سے بظاہر ٹوٹ کر اپنی رفتار سے آگے بڑھنے لگے۔

قافلے سے کافی پیچھے پولیس کی دو سکیورٹی گاڑیوں کے درمیان میں سڑک کے کنارے کھڑا کنٹینر بھی شاید قافلے کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکا۔

ہم نے وہاں رک کر پوچھا کہ اسے کیا ہوا تو وہاں موجود کنٹینر کے منتظمین نے کہا کہ 'بس کسی کا انتظار کر رہے ہیں، وہ اب آ گئے ہیں اس لیے اب روانہ ہونے والے ہیں۔'

اسی دوران نواز شریف اور مریم نواز کی تصاویر سے آویزاں اس کنٹینر کے دروازے کو ایک شخص اپنے اوزاروں سے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس پر پوچھا کہ کیا خراب ہو گیا ہے تو پھر وہی جواب ملا کہ ’نہیں، کسی کا انتظار ہو رہا ہے۔‘ اسی دوران دروازے سے مصروف شخص نے کہا کہ اب ٹھیک ہے تو اس کی روانگی کا اعلان کر دیا گیا اور سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار متحرک ہو گئے۔

2014 میں دھرنے کے دوران طاہر القادری کے زیرِ استعمال کنٹینر سے بہت زیادہ مماثلت رکھنے والے اس کنٹینر کے انتظامات کی ہدایات دینے والے شخص سے نام پوچھا تو اس نے جواب نہیں دیا لیکن پھر بھی کنٹینر کو اندر سے دیکھنے کی خواہش بیان کر دی، اس پر جواب ملا کہ آپ کو معلوم ہے قافلہ کافی آگے جا چکا ہے اور ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، آگے کسی جگہ موقع ملا تو اندر سے بھی دکھا دیں گے۔

سابق وزیراعظم کے قافلے میں شامل یہ کنٹینر روانہ ہو گیا اور ہم بھی قافلے کے تعاقب میں آگے بڑھ گئے اور جب مندرہ کے ٹول پلازہ پر پہنچے اور ٹول ٹیکس ادا کرنے لگے تو ساتھ والی لین میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے بھرا ٹرک رکا اور پھر یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا کہ جلوس کے ساتھ ہیں۔ کاؤنٹر پر بیٹھا شخص مسکرا کر صرف دیکھ رہا تھا جیسے یہ آج کے دن کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔

Image caption کارکن استقبالی کمیپ میں نواز شریف کی گاڑی کو گھیر لیتےجہاں وہ ان سے مختصر خطاب کرتے

اس ٹول پلازہ کو عبور کرنے کے بعد قافلے کے آخری سرے کے ساتھ دوبارہ جا ملے اور تیزی سے آگے بڑھنے لگے، راستے میں پڑنے والے شہروں میں قافلہ کچھ دیر کے لیے رکتا اور آگے بڑھ جاتا اور وہاں موجود سکیورٹی اہلکار اپنا سامان سمیٹ کر روانہ ہو جاتے تاہم اس دوران قافلے میں شامل ایک کنٹینر تو کہیں دور پیچھے رہ گیا تھا اور دوسراکنٹینر بھی جلوس کے تقریباً آخری سرے پر ہی رہا۔

قافلہ جب مندرہ پہنچا تو سابق وزیراعظم نواز شریف کی بم پروف فور ویل گاڑی کے قریب پہنچ چکے تھے اور جیسے ہی وہاں استقبالی کیمپ کے قریب ان کی گاڑی پہنچی تو چاروں اطراف سے کارکنوں نے گھیر لیا اور سکیورٹی اہلکار ان کو پیچھے کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔

نواز شریف کی گاڑی سے اگلی گاڑی کی چھت پر وزیر مملکت عابد شیر علی نواز شریف کے حق میں نعرے لگا کر کارکنوں کو جوش دلا رہے تھے کہ اس دوران وہاں موجود ایک ٹولے نے ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے اور ماحول ایسا بن گیا کہ ایک آواز ’گو نواز گو‘ تو دوسری طرف ’وزیراعظم نواز شریف۔‘ اسی دوران عابد شیر علی کے غصے میں مکالمے کی وجہ سے یہ ٹولہ پیچھے ہٹ گیا۔

اس کے ساتھ ہی لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہوا کہ اب نواز شریف کارکنوں سے خطاب کریں گے تو استقبالیہ کیمپ میں لگے سپیکروں سے اونچی آواز میں ان کے حق میں گانے بجنا شروع ہو گئے، اسی دوران نواز شریف نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کارکنوں سے خطاب شروع کر دیا لیکن ان کی گاڑی پر نصب سپیکروں سے آواز اتنی ہلکی تھی کہ تھوڑی دور سے بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔

خطاب شروع ہوئے کچھ لمحے گزرے تو استقبالیہ کمیپ میں لگے ساؤنڈ سسٹم سے کسی نے اعلان کیا کہ 'بند کرو اوئے، بند کرو، میاں صاحب خطاب کر رہے ہیں،' ساتھ ہی گانے بند ہو گئے لیکن خطاب کی آواز چند گز کے فاصلے پر کھڑے بھی صاف سنائی نہ دی جس کی وجہ سے گاڑی کے سامنے سے سکیورٹی اہلکار پیچھے ہٹے اور میڈیا کے کیمرا مینوں کو آگے آنے کی جگہ دی گئی کہ وہ تقریر کو آسانی سے ریکارڈ کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی وجہ سے وہاں موجود کیمرا مین کے ساتھ موجود ایک شخص کو کہنا پڑا کہ ’اگر کنٹینر میں جا کر خطاب نہیں کرنا تھا تو کم از کم گاڑی پر سپیکر تو طاقتور لگا لیتے۔‘

مختصر خطاب ختم ہوا اور کارکنوں نے بلند آواز میں میاں نواز شریف کے حق میں لگانے شروع کر دیے تو پیچھے موجود کارکنوں نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کر دیا کہ ’نواز شریف نے تقریر کر دی۔۔۔۔ یا ہونی ہے؟‘

اس کے ساتھ ہی سکیورٹی اہلکاروں نے دوبارہ اپنی اپنی گاڑیوں میں پوزیشن سنبھال لی اور قافلہ آگے بڑھنا شروع ہو گیا اور وہاں موجود ہجوم بھی چھٹنے لگا اور قافلہ اگلی منزل جہلم کی جانب بڑھ گیا جہاں سے اب یہ جمعے کی صبح دوبارہ روانہ ہو گا۔

اسی بارے میں