’سندھ میں ایک ہزار غیر قانونی مدارس سرکاری زمینوں پر قائم کیے گئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبے سندھ کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ تقریباً ایک ہزار مدارس غیر قانونی طور پر سرکاری زمینوں پر تعمیر کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان مدارس کے کاغذات کی چھان بین کی جائے گی اور کسی کو بھی سرکاری زمینوں پر مدارس تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ گذشتہ چار سالوں میں تھر پارکر میں 60 مدارس قائم کیے گئے ہیں جبکہ علاقے کے آبادی کی اکثریت ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے۔

وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان سے پیچھے ہٹ رہی ہے: سندھ

سندھ میں 94 مدرسوں پر پابندی کی سفارش

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ داخلہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے مدارس کی تحقیقات کرے گا۔

اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں نئے ناموں کے ساتھ کام کرنے والی کالعدم تنظیموں پر بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں، پولیس اور رینجرز اس حوالے سے ضروری کارروائی کریں۔

ایپکس کمیٹی کے 20 ویں اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی۔

اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال، کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید دیگر نے شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ مقدمات کی جانچ پڑتال اور جائزہ لینے کے بعد ضروری کاغذات کے ساتھ انھیں فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت 90 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیج چکی ہے، جس میں سے 37 زیر سماعت ہیں جبکہ 21 مقدمات میں سز ا ہو چکی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں