پیغمبرِ اسلام کی مبینہ توہین، ایک شخص قتل

لاش تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے سندھ کے شہر ٹنڈو آدم میں پیغمبر اسلام کی مبینہ توہین کے الزام میں ایک شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

ملزم عطا محمد بروڑ کچھ روز قبل جیل سے رہا ہوا تھا۔

ایس ایس پی سانگھڑ ڈاکٹر فرخ لنجار نے تصدیق کی ہے کہ عطا محمد کو جمعے کی صبع قتل کیا گیا جبکہ پولیس نے شام کو دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا جنھوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔

'توہین مذہب کے قانون کے تحت زیادہ سزائیں مسلمانوں کو ملیں'

پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین پر اقدامات کی سفارش

توہین مذہب قانون کا پاکستان میں ارتقاء

ٹنڈو آدم سٹی تھانے میں درج کیے جانے والے قتل کے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مقتول عطا محمد جمعے کی صبح گھر سے نہر میں نہانے کے لیے نکلا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے اسے ہلاک کردیا۔

مقتول عطا محمد پر سنہ 2012 میں پیغمبر اسلام کی مبینہ توہین کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کا مدعی ایڈووکیٹ الطاف جونیجو تھا۔

الطاف جونیجو نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ عدالت میں موجود تھا جب عطا محمد نے آ کر اسے کہا کہ وہ پیغمبر ہے۔ پولیس نے عطا محمد کو گرفتار کر لیا تھا۔

عطا محمد کے رشتے داروں کی درخواست پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے مقتول کو ذہنی طور پر پسماندہ قرار دیا تھا اور اسے چار ہفتے قبل ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کا موقف ہے کہ ’عطا محمد توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں