’کلثوم نواز سیاست کی پیچیدگیوں کو سمجھتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان مسلم لیگ نواز نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیے ہیں۔

کیا کلثوم نواز کا انتخاب نواز لیگ کے لیے ایک بہتر فیصلہ ہے؟ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا تاہم سیاسی مبصرین اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا بی بی سی بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کلثوم نواز کا انتخاب نواز لیگ کے لیے ایک بہتر فیصلہ ہے۔

این اے 120 ضمنی انتخاب: کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے گئے

این اے 120: 'چہرہ جو بھی ہو جیت نون لیگ کی ہو گی، ضروری نہیں شریف ہو'

نواز شریف کی جگہ کون لے سکتا ہے؟

ان کے مطابق کلثوم نواز کے خلاف کرپشن کے الزامات نہیں، وہ ملکی سیاست کی پیچیدگیوں کو سمجھتی ہیں اور اس سے قبل نواز لیگ کی قیادت اس دور میں کر چکی ہیں جب سنہ 1999 میں نواز شریف جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد جیل چلے گئے تھے۔ اس دور میں سیاسی جدوجہد کے دوران اخبارات میں شائع ہونے والی بیگم کلثوم نواز کی ایک تصویر مزاحمت کی علامت بن گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز نے مارشل لا کے سخت دور میں اپنا کردار بڑی بہادری سے ادا کیا۔

'بڑا مشکل دور تھا۔ان حالات میں وہ باہر نکلیں اور انھوں نے پورے ملک کا دورہ کیا۔ اس دورے کے آخر میں بیگم صاحبہ کی ایک تصویر سامنے آئی جو بعد میں مزاحمت کی ایک علامت بنی۔'

ہوا یوں تھا کہ جب وہ گھر سے نکلیں تھیں تو انھیں روکنے کے لیے ان کی گاڑی کو آگے سے اٹھا دیا گیا تھا مگر کلثوم نواز اورگاڑی میں موجود دیگر تین افراد کئی گھنٹے تک اس میں بیٹھے رہے تھے۔

'یہ تصویر اسی طرح مزاحمت کی علامت بنی جیسے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری اور سابق جنرل پرویز مشرف یا پھر شرمیلا فاروقی کی ایک تصویر مزاحمت کی علامت بن گئی تھی۔ اب جب کبھی اس تحریک کا ذکر ہوتا ہے تو وہ تصویر ضرور سامنے آتی ہے۔'

بیگم کلثوم نواز عمر میں نواز شریف سے ایک برس چھوٹی ہیں۔ ان کا خاندان کشمیر سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ان کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔ وہ مشہورِ زمانہ پہلوان گامہ کی دوہتی بھی ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں جن میں حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز اور عصمہ نواز ہیں۔ عصمہ نواز پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کی اہلیہ ہیں۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے خود انھیں ایک انٹرویو کے دوران انھیں بتایا تھا کہ شریف خاندان میں بیگم کلثوم نواز کا سیاسی تجزیہ اور لوگوں کے بارے میں ان کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوتی ہے۔

'میاں نواز شریف بھی ان کی باتیں بہت توجہ سے سنتے ہیں۔ میاں صاحب پر ان کا گہرا اثر رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کے بارے میں ان کی رائے ہی غالب ہوتی ہے اور جب وہ درست ثابت ہو تو ظاہر ہے ان کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔'

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ کلثوم نواز شریف خاندان میں ایک بائینڈنگ فورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اپنے بچوں کی شادیوں میں ان کا ہاتھ تھا، بچوں اور خاص طور پر مریم نواز کی ان کے ساتھ گہری قربت ہے۔ بیرونِ ملک کاروبار کے حوالے سے بھی پہلی بار انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کا خاندان ملک سے باہر کاروبار کرے گا۔

سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی اہلیہ ہونے کے باوجود بیگم کلثوم نواز کے لیے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 کا انتخاب جیتنا آسان نہ ہو گا۔

ان کے بقول 'یہ ایک ایسا حلقہ ہے جو نظر انداز رہا ہے تو یقیناً لوگ ناراض بھی ہوں گے اور ان کے گلے شکوے بھی ہوں گے۔'

میاں نواز شریف نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے 91,000 ہزار سے کچھ زائد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کی مدِ مقابل پاکستان تحریکِ انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے 50,000 ہزار سے زائد ووٹ لے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

نواز شریف کی نااہلی کے بعد وہ اپنی جماعت کی قیادت کے اہل نہیں رہے، تو کیا ایسے حالات میں پارٹی کی قیادت ایک بار پھر کلثوم نواز کے پاس جا سکتی ہے؟

سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اس بات کے امکانات کم ہیں۔ 'شہباز شریف صاحب موجود ہیں۔ بیگم کلثوم نواز بڑی بہادر اور سمجھدار ہیں مگر ان کا سیاست سے براہِ راست سامنا بہت کم عرصے پر محیط ہے اور پھر ظاہر ہے ہم مردوں کے اس معاشرے میں ان کے لیے نظام چلانا بہت مشکل ہو گا۔'

اگر کلثوم نواز ضمنی انتخاب جیت جاتی ہیں تو کیا نواز شریف ایک بار پھر وزیرِ اعظم ہاؤس تک رسائی نہیں چاہیں گے؟ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ میاں صاحب خود کہہ چکے ہیں کہ وہ اب باہر سے بیٹھ کر نظام کو درست کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں