’وہ پاکستان کا ذکر دعا کی طرح کرتیں‘

بیگم زینب محمد امین

1947 کی تقسیم سے پہلے کی دہائی میں برِصغیر کے ایسے مسلمان گھرانوں کی خواتین بھی سیاست میں سرگرم ہوئیں جو اس سے پہلے اس بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

بیگم زینب محمد امین بھی ایسی مسلم لیگی خواتین میں سے ایک تھیں جو ہندوستان میں اپنے گھروں سے نکلیں، اور جنہوں نے تحریک پاکستان کی کارکن بن کر اس نئے ملک کے خواب کی تعبیر کے لیے کام کیا۔

تقسیمِ ہند کے 70 برس: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

وہ دہلی میں قرول باغ خواتین مسلم لیگ کی سیکریٹری تھیں اور پارٹی اور مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی سرگرم کارکن رہیں۔

زینب محمد امین پانچ بچوں کی ماں تھیں اور ان کا تعلق شمالی ہندوستان کے ایک ایسے گھرانے سے تھا جس میں خواتین کو جو تھوڑی بہت تعلیم ملتی تھی وہ گھر میں ہی دی جاتی، اور لڑکیاں چار دیواری سے کم ہی نکلتی تھیں۔ لیکن تحریک پاکستان میں وہ مسلم لیگ کی سرگرم رکن بنیں۔

ان کے بڑے بیٹے خالد کو والدہ کی سیاسی سرگرمیاں یاد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'ہماری امی دہلی میں قرول باغ خواتین مسلم لیگ کی جنرل سیکریٹری تھیں اور وہ مسلم لیگ کے ہر جلسے میں شرکت کرتی تھیں۔'

ایک یادگار واقعہ وہ تھا جب فاطمہ جناح ان کے دہلی کے گھر میں آئیں۔ 'ہماری والدہ کی ایک دوست تھیں بیگم رفعت حسین۔ وہ شاعرہ تھیں تو انھوں نے اپنا دیوان لکھا اور اس سے جو ان کو پیسے ملے وہ تحریک پاکستان کے لیے مِس جناح کو دینا چاہتی تھیں۔ انھوں نے مِس جناح کو مدعو کیا لیکن ان کا گھر چھوٹا تھا تو وہ تقریب ہمارے قرول باغ کے گھر میں ہوئی۔ وہاں انھوں نے مس جناح کو پانچ ہزار روپے کا چیک پیش کیا۔'

اس تقریب کے موقعے پر ایک گروپ فوٹو بھی بنائی گئی جس کی ایک کاپی لاہور میوزیم میں بھی کافی عرصے تک لگی رہی۔ اس تصویر میں زینب امین پچھے کھڑی ہیں اور ان کی تینوں بیٹیاں عطیہ، خورشید اور ستارہ سامنے فرش پر بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔

بیگم زینب امین کی بھتیجی صفیہ بتاتی ہیں کہ وہ مسلم لیگ کے کاموں کے لیے گھر کی لڑکیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جایا کرتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'ہماری پھپھوجی ہم لوگوں کو ساتھ لے جاتی تھیں جب وہ مسلم لیگ کے لیے رکن بنانے نکلتیں۔ دو آنے کی رکنیت تھی جماعت کی۔ اور ان کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو رکن بنائیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Archives
Image caption قرول باغ میں مس فاطمہ جناح کے ساتھ (بیگم زینب امین پیچھے کھڑی ہیں، ان کی بیٹیاں عطیہ، خورشید اور ستارہ آگے فرش پر بیٹھی ہیں)

لیکن یہ آسان کام نہیں تھا۔ بیگم زینب کی بھتیجی بتاتی ہیں: 'پھپھوجی ہر جگہ جاتی تھیں رکن بنانے کے لیے۔ مجھے یاد ہے کہ جون کی گرمیاں تھیں اور محلے میں دروازوں پر ٹاٹ کے پردے پڑے ہوتے تھے، اور جیسے ہی ہم پردہ اٹھاتے تو اندر سے عورتیں کہتی تھیں 'کمبختوں، پھر آگئیں؟ تم کو گھر میں کوئی کام نہیں ہے؟'

ان کی بھتیجی صفیہ کا کہنا تھا کہ 'کئی عورتیں تو جوتے بھی پھینکتی تھیں ہم پر! لیکن ہماری پھپھوجی میں ایسا جذبہ تھا کہ وہ پھر بھی نکلتی تھیں اور ان ساری باتوں کے باوجود جب وہ گھر آتی تھیں تو وہ یوں کہتی تھیں تین ممبر بن گئے۔ یہ تین اینٹیں ہیں پاکستان کی۔'

خاندان کی بچیوں کو بھی مختلف ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں۔ ان کی بڑی بیٹی خورشید کو خوشخطی کا کام دیا جاتا، چھوٹی بیٹی عطیہ کو ڈیزائن کا۔ منجھلی بیٹی ستارہ اور بھتیجی صفیہ کو دیگر ذمہ داریاں مثلاً جلسوں کے سلسلے لوگوں سے رابطے اور فون کرنے کا کام۔

ان کی بھتیجی صفیہ نے بتایا کہ دہلی کی جامعہ ملیہ میں وہ ایک کامیاب جلسہ کر سکے حالانکہ جامعہ والے کانگریس کے حامی تھے۔ 'ہم نے ان سے کہا کہ یہ تو عید میلاد النبی کا جلسہ ہو گا، لیکن پھر سب کے پاس مسلم لیگ کے جھنڈے تھے۔'

تو کیا ان کے نکلنے اور لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جانے پر خاندان والے اعتراض نہیں کرتے تھے؟ بھتیجی صفیہ کے مطابق: 'اعتراض تو ہوا لیکن پاکستان بنانے کے لیے ہم یہ کر رہے تھے تو خاندان کو بھی سمجھ آ گیا اور ظاہر ہے پھپھو جی برقع پہن کر نکلتی تھیں۔'

زینب امین کے بیٹے خالد نے بتایا کہ انہیں یاد ہے کہ قرول باغ مسلم لیگ کی دیگر خواتین ان کے گھر آتی جاتی تھیں۔ ایک دن ایک ایک 'ماڈرن' خاتون رکن جن کے بال کٹے ہوئے تھے، بغیر آستین کا بلاؤز پہنے آئیں تو 'ہماری دادی کو یہ بالکل اچھا نہیں لگا، کہنے لگیں یہ ہیں مسلم لیگ کی عورتیں؟ انھوں نے ایک دو باتیں کیں لیکن ہماری والدہ پارٹی کا کام اسی طرح کرتی رہیں۔'

قیامِ پاکستان کے بعد بیگم زینب امین نے اپنی سیاسی سرگرمیاں کچھ عرصے تک جاری رکھیں۔ وہ 1949 میں راولپنڈی خواتین مسلم لیگ کی سیکریٹری منتخب ضرور ہوئیں لیکن حالات کافی بدل چکے تھے اور کچھ سال کے اندر انہوں نے پارٹی کے انتظامی کام چھوڑ دیے۔

ان کے بیٹے خالد بتاتے ہیں کہ پاکستان آنے کے بعد خاندان ایک بہت مشکل وقت سے گزرا کیونکہ ان کے والد (یعنی زینب امین کے شوہر محمد امین) باقی خاندان کے ساتھ نہیں آ سکے تھے اور مہینوں تک ان کی کوئی خبر نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Archive
Image caption دہلی میں خواتین مسلم لیگ کے کارکن مسٹر جناج کے ساتھ (بیگم زینب امین کا چہرہ جزوی طور پر نظر آرہا ہے)

'بہت دنوں تک تو ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ہمارے باپ زندہ ہیں یا مر گئے۔ ہم لوگ تو آ گئے تھے وہ ٹرین سے آ رہے تھے ہماری دادی کے ساتھ ۔ پہلے دو سال ہمارے بہت مشکل تھے۔'

ان کی بھتیجی کہتی ہیں کہ 'حالات مختلف تھے۔ جن لوگوں کے ساتھ انہوں نے کام کیاں تھا وہ سب بکھر گئے تھے۔'

خالد بتاتے ہیں کہ ان کی والدہ نے 'پاکستان کے لیے کام کیا تھا، پاکستان بن گیا تو بڑی خوش تھیں۔ بعد میں جہاں کام کر سکتی تھیں کرتی تھیں۔ کشمیر فنڈ کے لیے، سیلاب کے متاثرین کے لیے۔ بہت منظم خاتون تھیں۔'

زینب امین کی بھتیجی صفیہ کہتی ہیں 'مجھے ابھی تک یاد ہے کہ جب ابا جان اور پھوپھوجی بات کرتے ایک دوسرے سے تو پاکستان کا ذکر ایسے کرتی تھیں جیسے دعا ہو۔'

متعلقہ عنوانات