آئین بدلنا ہوگا، اپنا پروگرام 14 اگست کو دوں گا: نواز شریف

نواز شریف ریلی
Image caption نواز شریف کے حامیوں کے جوش و خروش میں اضافہ ہو رہا ہے

پاناما کیس میں سپریم کورٹ سے نااہل ہونے والے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں داتا دربار کے باہر موجود سٹیج پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت آئین میں تبدیلی کے لیے سینیٹ کے چیئرمین کا ساتھ دے گی۔

بدھ کی صبح دارالحکومت اسلام آباد سے اپنے سفر کا آغاز ایک ریلی کی صورت میں کرنے والے سابق وزیراعظم نے چار دن میں لاہور واپسی کا سفر مکمل کیا۔

انھوں نے راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ اور شاہدرہ میں موجود مسلم لیگ ن کے کارکنان سے خطاب کیا۔

جلسوں میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے پاناما کیس میں اپنی نااہلی کے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور مایوسی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کارکنان کو اپنے دور حکومت میں شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ کیا انھیں عدالتی فیصلہ منظور ہے؟

نواز شریف نے کہا کہ گذشتہ چار سال سے حکومت کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ اگر دھرنے اور یہ سازشیں نہ ہوتیں تو ملک ترقی کی منازل طے کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ’جرات کے ساتھ سٹینڈ لینا ہوگا ورنہ ملک ادھورا رہ جائے گا۔‘

وزارتِ عظمیٰ سے نااہلی کے بعد سفرِ لاہور

اسلام آباد سے لاہور کا سفر: کب کیا ہوا؟

آئین بدلنا ہوگا‘

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں سستا انصاف آئے گا تو انقلاب آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین اور نظام کو بدلنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ایسانظام بنائیں گے کہ ملک میں 90 روز میں عوام کو انصاف فراہم کیا جائے گا اور جو لوگ فیس ادا نہیں کر سکیں گے ان کی فیس حکومت ادا کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی جانب سے آئین میں ترمیم کرنے کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز کی حمایت کرے گی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سینیٹر رضا ربانی نے کوئٹہ میں ایک قریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ آج کل آ پ دیکھ رہے ہیں کہ عدلیہ پارلیمان کے کاموں پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ انھوں نے نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کا کہنا تھا کہ پہلے 58 ٹو بی کا استعمال ہوتا تھا اور اب ایک نیا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ان کے ایجنڈے میں یہ بھی شامل تھا کہ جن کے پاس گھر نہیں ہیں ریاست ان کے لیے سستے داموں پر گھر کا انتظام کرے کیونکہ ملک کے 80 فیصد عوام کے پاس اپنا گھر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 14 اگست کو اپنا پروگرام پیش کریں گے۔

لاہور میں شاندار استقبال

بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق راوی کا پل کراس کیا تو وہاں مسلم لیگ ن کے کارکنان کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس قافلے کے لاہور کے قریب آتے ہی گاڑیوں کی بڑی تعداد شامل ہو گئی تھی اور سڑک کے دونوں طرف روشنیوں کا انتظام کیا گیا تھا اس کے علاوہ شہر میں جگہ جگہ مسلم لیگ ن کے کیمپ لگائے گئے تھے۔

مسلم لیگ ن کے سینیر رہنما نواز شریف کی آمد کے موقع پر سٹیج پر موجود تھے۔ جن میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت وفاقی وزرا، وزیراعلی بلوچستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم بھی شامل تھے۔

لاہور میں ہمارے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق علاقے میں ہر 25 فُٹ کے فاصلے پر پارٹی کے مختلف اجتماع اور ہر جگہ مختلف گانے بجائے جا رہے تھے۔ شہر کی متعدد سڑکیں بند کی گئی تھیں جبکہ کاروباری مراکز اور دکانیں بھی بند کروائی گئی۔

شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے دس ہزار کے قریب پولیس اور ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں