'دیکھو دیکھو کون آیا صادق اور امین آیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق وزیراعظم نواز شریف نے جی ٹی روڑ پر چوتھے اور آخری دن کا سفر پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے لاہور کے لیے شروع کیا شہر کی حدود سے نکلتے ہی جلوس اس وقت بڑا ہو گیا جب وزیر خارجہ خواجہ آصف کی قیادت میں ایک قافلے نے اس میں شرکت کی اور پہلے تین دنوں کے برعکس لاہور کی جانب بڑھتے ہوئے شرکا کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔

پہلے کامونکی اور بعد میں مریدکے اور پھر کالا شاہ کاکو کے قریب موٹر وے انٹر چینج پر دوسرے شہروں سے آنے والے مزید قافلے مرکزی جلوس میں شامل ہو گئے جس کی وجہ سے جلوس کی رفتار ست پڑتی گئی۔

نواز شریف کی سیٹ پر کلثوم نواز الیکشن لڑیں گی

نواز شریف اور عدالتیں

ان جگہوں پر قافلے کی سست پڑنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ استقبالی کیمپ سے روانگی کے بعد وہاں موجود کارکنوں میں فوراً کھانے کی تقسیم شروع کر دی جاتی تھی اور ساتھ میں اعلانات کیے جاتے تھے کہ کھانا لے کر جانا اور جو سکیورٹی پر آئے ہیں ان کو بھی لازماً کھانا دیا جائے۔

کھانے کے حصول میں وہاں موجود لوگوں کا ہجوم سڑک تک پھیل جاتا تھا اور یہ رکاوٹ بعض اوقات ضرورت سے زیادہ ہی طوالت اختیار کر جاتی تھی۔

خیر لاہور میں داخل ہونے سے پہلے شاہدرہ کے مقام پر میاں نواز شریف کے آخری پڑاؤ کی وجہ سے یہ قافلہ کافی دیر تک وہاں رکا اور وہاں موٹر سائیکل رکشے میں سوار عبدالرحمان سے بات چیت ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میاں صاحب کو گزرتے ہوئے دیکھا ہے اور آج وہ خوش نظر آ رہے تھے۔

ساتھ میں کہا کہ وہ قافلے میں شامل نہیں بلکہ محنت مزدوری کے بعد گھر واپس جا رہے تھے کہ قافلے میں پھنس گئے۔

ان کے ساتھ ہی کھڑے جلوس میں شامل وحید بٹ نے کہا کہ دیگر وجوہات اپنی جگہ لیکن وزیراعظم کو پانچ برس تو پورے کرنے چاہیے تھے۔

اس دوران قافلہ آگے چل پڑا اور دریائے روای کے پل کو عبور کر کے جیسے ہی لاہور شہر میں داخل ہوا تو کارکنوں کا جوش و خروش بھرپور استقبال نے بڑھا دیا اور پہلے استقبالی کمیپ کے اوپر لگے بینر پر واضح لکھا ہوا تھا 'دیکھو دیکھ کون آیا صادق اور امین آیا۔'

جیسے جیسے قافلہ اپنی آخری منرل داتا صاحب کی جانب بڑھتا گیا پیدل چلنے والے کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لگے استقبالی کمیپوں میں رنگ برنگی روشنیوں میں کارکن میاں نواز شریف کی حمایت میں لگے نغموں پر رقص کرتے نظر آئے۔

اسی دوران نواز شریف داتا صاحب کے قریب لگے سٹیج پر بیٹھ چکے تھے اور کارکن ٹولیوں کی شکل میں اس جانب رواں دواں تھے۔

جلسہ گاہ کے آخری سرے پر روایتی جلسوں کی طرح خوب ہلچل تھی اور اس دوران نواز شریف نے تقریر شروع کر دی اور وہاں موجود کارکنوں خطاب کے دوران اپنے قائد کی ہاں میں ہاں ملاتے۔

تقریر کے اختتام پر ان کے حامیوں کا ایک ٹولہ واپس جاتے ہوئے تقریر کے بارے میں بحث کر رہا تھا جس میں وہ کہہ رہے تھے لو جی اب شیر آئین کو تبدیل کرے گا۔

اسی بارے میں