’تمام ریاستی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا: آرمی چیف

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ریاستی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اتوار کے روز کوئٹہ میں سنیچر کی رات ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنارہ میں شرکت کی۔

ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ کوئٹہ چھاؤنی میں ادا کی گئی ۔ قبل ازیں فوج کے سربراہ نے سی ایم ایچ میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عیادت کی ۔

٭ ’کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملے میں 15 افراد ہلاک‘

آرمی سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ ملک میں پائیدار امن کے قیام تک دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ انھوں کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل کامیابی کے لیے تمام ریاستی اداروں میں ہم آہنگی ہو۔

چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ قوم کو ملک میں امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذارانہ پیش کرنے والوں کے اعزاز میں بھر پور جوش سے یوم آزادی کو منانا چاہیے۔

کوئٹہ میں سنیچر کی شب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں آٹھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دھماکے میں ڈیوٹی پر مامور سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس کے نتیجے لگنے والی آگ نے وہاں موجود دیگر گاڑیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے 15 افراد میں سات شہری شامل ہیں جبکہ 25 زخمیوں میں 15 شہری شامل ہیں۔

زخمیوں کو سی ایم ایچ کویٹہ میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی وہاں سے گزررہی تھی۔

دھماکہ اس قدر زوردار تھاکہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

زخمیوں میں پانچ سے زائد افراد کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل سکواڈ کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا یا یہ خود کش حملہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پشین اسٹاپ کا شمار کوئٹہ شہر کے اہم ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔

گورنر ہاؤس اور پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر اور سکیورٹی فورسز کے دفاتر کے علاوہ ایک نجی ہسپتال اور دکانیں بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔

دھماکے میں اس علاقے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ متعدد عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔

اس علاقے میں طویل عرصے بعد یہ دھماکہ ہوا ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کوئٹہ شہر میں دھماکوں کا سلسلہ کمی و بیشی کے ساتھ جاری ہے۔

جون کے مہینے میں آئی جی پولیس کے دفتر کے سامنے ہونے والے ایک خود کش حملے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 13افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے سیکورٹی کے انتظامات کی وجہ سے پہلے کے مقابلے میں کوئٹہ شہر بم دھماکوں کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

اسی بارے میں