ریاستی اداروں کے مابین گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز پر اختلاف

اعتزاز احسن، رضا ربانی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینٹ میں قائد حزب اختلاف نے چیئرمین سینیٹ کی گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا ہے جس سے پارٹی متفق نہیں

حزب اختلاف کی بڑی سیاسی جماعتیں سینیٹ چیئرمین میاں رضا ربانی کی جانب سے ملکی اداروں کے مابین گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز سے متفق نہیں ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کی اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نےگرینڈ ڈائیلاگ میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ تحریک انصاف نے سینیٹ چیئرمین کی تجویز میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

سینیٹ میں قائدحزب اختلاف اعتزاز احسن نے بی بی سی کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی کی تجویز ان کی ذاتی رائے ہے اور یہ پیلزپارٹی کا موقف نہیں ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’پارلیمان کو اپنی کارکردگی بہتر کرنی ہوگی’

نواز شریف کی موقع پرستی

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ رضا ربانی کی تجویز سے متفق نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کو اپنی بالادستی منوانی ہے تو اسے اپنی کارکردگی بہتر کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف کی جانب سے سینیٹ چیئرمین کی تجویز کی غیرمشروط حمایت کرنا ان کی موقع پرستی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف نے خود نو مرتبہ فوجی جرنیلوں، ججوں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کے خلاف سازشیں کی ہے۔'رضا ربانی کی نیت ٹھیک ہے لیکن نواز شریف کی نیت نیک نہیں ہے۔'

اعتزاز احسن نے سوال اٹھایا کہ ریاستی اداروں کے مابین گرینڈ کیسے ہو سکتا ہے؟ 'پارلیمنٹ، عدلیہ، اور فوج میں کیا بات ہو سکتی ہے۔ کس کو اس کا مینڈیٹ حاصل ہے اور کیا مینڈیٹ لے کر واپس جائے گا۔ یہ تجویز پریکٹیکل ہی نہیں ہے۔

آئین میں ترمیم کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں کسی خاص ترمیم کی ضرورت نہیں۔'آئین میں پارلیمنٹ، عدلیہ، آرمڈ فورسز کا کردار موجود ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری بھی دے دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا آئین پاکستان ایک اچھی خاصی دستاویز ہے۔ 'میاں نواز شریف آئین میں ترمیم کی تجویز صرف اپنے خاندان جعلی سازی، بدعنوانی کے مقدمات سے بچانا چاہتے ہیں جو ان کے سر پر آن پہنچے ہیں۔ 'نواز شریف قانون کے بند کمرے میں مقید ہو چکے ہیں اور وہ قانون کے کمرے کو توڑ کر نکلنا چاہتے ہیں۔

پارٹی میں گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز پر کوئی بات نہیں ہوئی

Image caption مسلم لیگ نون میں اداروں کے مابین گرینڈ ڈائیلاگ کے حوالے سے کوئی بحث نہیں ہوئی ہے: مشاہد اللہ

وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اداروں کے مابین گرینڈ ڈائیلاگ کے حوالے سے کہا کہ ابھی تک اس تجویز پارٹی میں کوئی بحث نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا جب اس معاملے پر پارٹی میں بات چیت ہوگی تو وہ کسی نتیجے پر پہنچ پائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ مسائل تو آئینی ہیں اور اداروں کا بھی اس کردار ہے لیکن اس عمل کا آغاز تو سیاسی جماعتوں سے ہی ہوگا۔ انھوں نے کہا جب سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا ہو جائے گا تو پھر معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سب سے اہم ادارہ ہے اور اسی سے باقی ادارے تخلیق ہوتے ہیں۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ نواز شریف پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں اور اس لیے انھوں نے یہ بات کی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’سب سے بڑا ادارہ پارلیمان ہے’

ممبران پارلیمنٹ کی اہلیت کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کو ختم کرنے کے سوال کے جواب مشاہد اللہ نے کہا کہ آئین میں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے سے ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ترمیم کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت ہو بھی جائے تب بھی اتفاق رائے حاصل کرنے کی سعی ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ا س میں کوئی شک نہیں کہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کا موقف ہے اور ان کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔

Image caption سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ہمیشہ دلچسپی اختیارات میں رہی ہے جمہوریت میں نہیں: ایم ضیا الدین

’نواز شریف کی دلچسپی جمہوریت میں نہیں اختیارات میں ہے‘

سینیئر صحافی ایم ضیا الدین نے گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز کے حوالے سے کہا کہ اداروں کے مابین ڈائیلاگ سے پہلے میاں نواز شریف کو ایک جمہوری شخص بننے کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہو گا۔

انھوں نے کہا میاں نواز شریف کا انداز حکمرانی جمہوری نہیں ہے اور اپنے ہر دور حکومت میں اختیارات کو اپنی ذات میں مرکوز کرنے کی کوشش ہے۔ انھوں نے اپنے پچھلے دورحکومت میں نواز شریف نے ایسے قوانین کی منظوری چاہی تھی جس کے تحت وہ امیر المومنین بن سکتے ہیں۔

اپنے حالیہ دور حکومت میں انھوں نے نہ تو پارلیمنٹ کو کوئی اہمیت دی اور نہ ہی کابینہ کو۔ انھوں نے کہا کہ صورتحال اتنی خراب ہو گئی کہ ایک بار تو سپریم کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر وزیر اعظم کے فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
میاں صاحب کو خود کو تیار کرنا پڑے گا جمہوریت پسند نظام بنانے کے لیے

ایم ضیا الدین نے کہا کہ اپنی جلا وطنی کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو نے انھیں کچھ چیزیں سمجھائی تھیں جو بظاہر ان سمجھ آ گئی تھیں لیکن جب اقتدار میں آئے تو انھوں نے پھر وہی کچھ کرنا شروع کر دیا جو پہلےکرتے تھے اور کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایم ضیا الدین نے کہا کہ نواز شریف جمہوری نظام حکومت کو سمجھتے ہی نہیں۔ وہ صرف طاقت کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں جمہوریت میں نہیں۔