پاکستانی فوج کے خلاف سازش نظر آرہی ہے:عمران خان

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کے خلاف اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلیں گے۔

راولپنڈی کے لیاقت باغ میں عوامی مسلم لیگ پاکستان کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے منعقد کیے جانے والے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف کسی نے کوئی سازش نہیں کی بلکہ یہ نیا پاکستان ہے۔

صادق اور امین کو تو بخش دیں 'دیکھو دیکھو کون آیا صادق اور امین آیا۔'

'دیکھو دیکھو کون آیا صادق اور امین آیا۔'

نواز شریف کس نکتے پر نااہل ہوئے؟

عمران حان نے کہا کہ صادق اور امین سے متعلق ’یہاں سازش چل رہی ہے کہ آئین کے اندر سے آرٹیکل 62 اور 63 کو نکال دیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ایسی کوشش ہوئی تو اس سازش کو ختم کرنے کے لیے وہ اسلام آباد میں نکلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا ساتھ چند مفاد پرست افراد کر رہے ہیں جنھیں معاشی فائدہ چاہیے۔

انھوں نے میاں نوام شریف کی جانب سے عدالتی فیصلے پر تنقید کے حوالے سے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ سپریم کورٹ اور وفاقی محتسب پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ’جی ٹی روڈ پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے خلاف ایک سازش نظر آگئی ہے اور دوسری سازش پاکستانی فوج کے خلاف نظر آرہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستانی آرمی چیف تین مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی فوج پاکستان کی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے۔

انھوں نے نواز شریف سے سوال کیا کہ اب کیا ہوا ہے کہ وہ عدالت اور فوج کے خلاف بول رہے ہیں؟

عمران حان نے الزام عائد کیا کہ میاں نواز شریف نے تیس سال سے اداروں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

انھوں نے چیلینج کیا کہ وہ عدالیہ اور فوج کے حق میں جی ٹی روڈ کے جلسوں سے دس گنا زیادہ لوگ اکھٹے کریں گے۔

اسی بارے میں