تقسیم کے 70 سال: ’مواقع بہت ہیں، بس تھوڑی محنت چاہیے اور کچھ قسمت‘

پاکستانی نوجوان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد علی جناح چاہتے تھے کہ پاکستان کا نوجوان ترقی کے سفر کو آگے لے کر چلے

قیامِ پاکستان کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں اس دور کی نوجوان نسل نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور بانی پاکستان کے پاس اس نومولود ریاست کے مستقبل میں نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے بھی ایک وژن ضرور تھا۔

اس وژن کا اظہار ان کی تقاریر اور خطبات کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل اور قیام کے بعد بھی جناح نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ملک کا مستقبل انھی کے ہاتھ میں ہے۔

تقسیم کے 70 سال: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

تقسیمِ برصغیر، قیامِ پاکستان اور اس کے بعد: ٹائم لائن

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

*

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستانی نوجوان معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں

گذشتہ کئی دہائیوں سے شعبہ تدریس اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے منسلک رہنے والے ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ 'قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ آنے والے وقت میں بانی پاکستان کی ان تقاریر کو نہ صرف سینسر کیا جاتا رہا بلکہ ہم اپنی نوجوان نسل کو توڑی مروڑی ہوئی تاریخ پڑھاتے ہیں۔'

جناح چاہتے تھے کہ پاکستان کا نوجوان ترقی کے سفر کو آگے لے کر چلے جس کا اظہار انہوں نے پاکستان کے طلبا کے ساتھ وزارتِ تعلیم کی ذریعے بھجوائے گئے ایک پیغام میں کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ 'کیا آپ مستقبل کی ذمہ داریاں نبھانے کی تیاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور کیا آپ کے پاس تربیت ہے؟ اگر نہیں، تو جائیں اور تیاری کریں کیونکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے تیاری کرنے کا وقت یہی ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ صحت کی خرابی کی وجہ سے جناح پاکستان کے حوالے سے اپنے وژن کا نفاذ شاید نہیں کر پائے اور نہ ہی ان کے بعد نوجوانوں کے حوالے سے ان کے وژن پر کبھی صحیح طرح سے عمل درآمد ہو پایا۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان دنیا میں تنہا کھڑا ہے۔ 'سنہ 2001 سے اب تک 80 ہزار سے زیادہ افراد دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں اور لوگ پاکستان آنے سے خوفزدہ ہیں۔'

تاہم تشکیلِ پاکستان کے 71 برس بعد آج پاکستان کی نئی نسل میں ایسے افراد موجود ہیں جو نہ صرف دنیا میں اپنے ملک کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر سے مایوسی کا شکار نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر رائج طور طریقوں کو استعمال کر کے اپنی اور ملک کی ترقی کے نئے راستے کامیابی کے ساتھ تلاش کر رہے ہیں۔

دانیال نورانی تصویر کے کاپی رائٹ Daniyal Noorani/FB
Image caption دانیال نورانی 'وکھرا سٹوڈیو" کے نام سے ایک اینیمیشن پروڈکشن ہاؤس بھی چلاتے ہیں

’زیادہ سوچو نہیں بس کر گزرو‘

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر اور صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے رہائشی دانیال نورانی بھی ایسے ہی پاکستانیوں میں سے ہیں۔ دانیال بیرونِ ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان لوٹے اور تین کمپنیاں قائم کیں۔

ان کی پہلی کمپنی کا نام 'کرو کچھ' ہے جس کے تحت ان کا پہلا منصوبہ بچوں کا ایک شو 'قائد سے باتیں' تھا جو اینیمیشن کی ذریعے ترتیب دیا گیا تھا۔ ٹیلیوژن پر نشر ہونے والے اس پروگرام کے ذریعے بچوں کو اچھا شہری بننے کی ترغیب دی جاتی ہے اور انھیں اخلاقیات سکھائی جاتی ہیں۔

وہ 'وکھرا سٹوڈیو" کے نام سے ایک اینیمیشن پروڈکشن ہاؤس بھی چلاتے ہیں جبکہ ان کا تیسرا کاروبار پہلی دونوں کمپنیوں کی طرح پاکستانیوں کے لیے ایک اور غیر روایتی نوعیت کا کاروبار ہے اور 'اوسم سموسہ' کے نام سے قائم دانیال کا ریستوران پاکستان کے روایتی سموسوں کے تصور میں جدت لایا ہے۔

دانیال نے یہ غیر روایتی کاروبار اس وقت شروع کیے جب پاکستان میں ایسے کاروباروں کی طرف نہ تو نوجوانوں کا رجحان تھا اور نہ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی جگہ تو تھی اور وہ کی بھی جا رہی تھی مگر جیسے قائد سے باتیں ہے اس کے لیے ہم ابھی بھی یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ معاشرے میں ایسا مواد جس سے بچوں کی تربیت ہو اس کی ضرورت ہے۔'

قائد سے باتیں تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption دانیال کا پہلا منصوبہ بچوں کا ایک شو 'قائد سے باتیں' تھا جو اینیمیشن کی ذریعے ترتیب دیا گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ اس تصور کو پختہ کیا جائے تا کہ لوگ اس کو سہارا دیں۔ وہ اس کو ٹی وی سے بڑھا کر ملک کے تمام سکولوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی علاقے اور خیبر پختونخوا میں ان کے پائلٹ پراجیکٹ جاری ہیں جہاں یہ مواد تدریسی آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

دانیال کا ماننا ہے کہ ایک کاروباری شخصیت ہونے کی حیثیت میں مشکلات کے بارے میں زیادہ سوچتے نہیں چاہیے کیونکہ اس صورت میں آپ اسی میں پھنس کے رہ جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ان کی کمپنی کا نام بھی اسی لیے 'کچھ کر لو' ہے۔

'کچھ کرنے ہی سے آپ آگے بڑھتے ہیں۔ آپ زیادہ سوچتے نہیں ہیں۔ بس کرنے لگ جاتے ہیں صاف نیت کے ساتھ اور امید کرتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔ ہم نے صرف یہ کیا کہ ایک مسئلے کی نشاندہی کرنے کے بعد اس کے حل کے لیے کوشش شروع کر دی۔'

دانیال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اگر ایک مسئلہ ہے تو یہ مواقع کے لحاظ سے ایک نعمتِ غیرمترقبہ بھی ہے۔

'آبادی ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے مگر اسی میں شاید ہمارے لیے سب سے زیادہ مواقع بھی ہیں۔ پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروانے کی حوالے سے بھی بہت زیادہ مواقع ہیں۔ مواقع بہت ہیں، بس کچھ اچھی قسمت چاہیے اور تھوڑی محنت۔'

احمر نقوی تصویر کے کاپی رائٹ Ahmer Navi/Facebook
Image caption احمر نقوی کے مطابق جب آپ کو اپنے خیال پر محکم یقین ہو تو باقی تمام مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں

’مواقع کی نہیں امیجینیشن کی کمی ہے‘

دانیال ہی کی طرح غیر رسمی کاروبار میں کامیابی حاصل کرنے والے لاہور ہی کے شہری احمر نقوی بھی ان کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

احمر ایک آن لائن کاروبار 'پٹاری' سے منسلک ہیں جو بنیادی طور پر پاکستانی گانوں اور موسیقی کی ایک ویب سائٹ اور موبائل ایپلیکیشن ہے۔

اس کمپنی کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے پاکستان میں کاپی رائٹس کو یقینی بنایا یعنی اسے صارف مفت ڈاؤن لوڈ اور استعمال کر سکتا ہے تاہم جتنی بار بھی گانا چلتا ہے، اس کے خالق کو اس کی رائلٹی ملتی ہے۔

احمر نے اس کاروبار کا آغاز اپنے ساتھی خالد باجوہ کے ساتھ مل کر کیا۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے احمر کا کہنا تھا کہ 'ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ ہم ایک ایسی چیز کرنے جا رہے تھے جو پاکستان میں اس سے پہلے کسی نے نہیں کی تھی۔ مگر جب آپ کو اپنے خیال پر یقین محکم ہو تو باقی تمام مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں۔'

پٹاری تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption پٹاری کا تمام تر مواد 18 افراد پر مشتمل ٹیم تیار کرتی ہے

'پٹاری' پر گانوں کے علاوہ آڈیو بکس یعنی صوتی کتب بھی ہیں اور مختلف مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ان کی مقدس کتابیں بھی ہیں۔ پٹاری کا تمام تر مواد ان کی ٹیم تیار کرتی ہے جو کہ اب 18 افراد پر مشتمل ہے۔

احمر کے مطابق پاکستان میں مواقع کی کمی نہیں بلکہ بعض اوقات امیجینیشن یا قوتِ متصورہ کی کمی ہے۔'لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جو چیز تیار ہو رہی ہے وہ شاید ناقص معیار کی ہو گی۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کو فیس بک جیسی بڑی بین الاقوامی کمپنی نے الحاق کی پیشکش کی تھی اور اچھے معیار کے تمام تر تقاضوں کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔ اس سے ان کو یقین ہو گیا کہ اگر آپ پاکستان میں کوئی مستند چیز لائیں تو ضرور چلے گی۔

'مجھے یہ لگتا ہے کہ ہم اکثر اپنی آنے والی نسلوں کو اور اپنے نوجوانوں کو یہ بتاتے رہتے ہیں کہ زیادہ امید نہ رکھو یا زیادہ سوچو نہیں جو جیسے چل رہا ہے ویسے ہی کرتے رہو، جو ایک چیز صحیح ہے اسی کے پیچھے پڑ جاؤ۔ میرے خیال میں یہ سوچ جب ہم بدلنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو کوئی اسی چیز نہیں جو پاکستان میں کاروباری ماحول کو روکے۔'

ثمرین
Image caption ثمرین پہلے شام تین بجے سے چھ بجے تک وقت دیتی تھی لیکن کالج مکمل ہونے کے بعد صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک چندہ جمع کرتی ہیں

سڑک سے چندہ لیتے ہیں، بچوں پر لگا دیتے ہیں

کاروبار کے ساتھ ساتھ پاکستانی نوجوان عوامی اور سماجی خدمت کے میدان میں بھی پیچھے نہیں اور انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

کراچی کے علاقے کلفٹن میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے قریب روزانہ ایک لڑکی کو دیکھا جا سکتا ہے جو ہاتھ میں چندے کا ڈبہ لیے بےگھر بچوں کی تعلیم کے لیے رقم جمع کرتی ہے۔

یہ ثمرین ذوالفقار ہیں جو گذشتہ ڈیڑھ سال سے یہ کام کر رہی ہیں اور ان کا جمع کردہ چندہ قریبی پل کے نیچے ایسے بچوں کے لیے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے میں مددگار ہے۔

ثمرین کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سے گزرتے ہوئے دیکھتی تھیں کہ بچوں کو یہاں پڑھایا جارہا ہے تو روز سوچتی تھیں کہ جا کر معلوم کریں۔

بےگھر بچوں کا سکول
Image caption بےگھر بچوں کو لوگوں کے چندے سے حاصل شدہ رقم سے کتابیں اور یونیفارم خرید کر دی جاتی ہیں

بالاخر ایک روز وہاں یہاں آئیں تو انھیں اس بارے میں علم ہوا۔ 'میں نے انھیں کہا کہ گھر سے تو مدد نہیں کر سکتی اور ٹیچنگ کا تجربہ نہیں ہے، اگر بچوں کے لیے یہاں عطیات جمع کروں تو اجازت ہوگی۔انھوں نے خوش آمدید کہا۔'

ثمرین پہلے شام تین بجے سے چھ بجے تک وقت دیتی تھی لیکن اب کالج مکمل ہونے کے بعد صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک یہاں ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'جب بچے عطیے کے پیسے سے کھانا کھاتے ہیں یا انھیں کتابیں ملتی ہیں تو یہ لمحات مجھے اچھے لگتے ہیں۔'

یہ سکول سیدہ انفاس علی شاہ نے شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ قدم 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد اٹھایا تھا۔

'اس وقت یہ ہو رہا تھا کہ بچوں کو اسلحہ چلانا سکھا دیں یا سکولوں کی دیواریں اونچی کر دیں۔ میں نے سوچا کہ میں سڑک پر پھرنے والے بےگھر بچوں کو پڑھاؤں گی کیونکہ یہی وہ بچے ہیں جو دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔'

رابن ہڈ آرمی
Image caption روبن ہڈ آرمی' فروری 2015 میں پاکستان میں آئی تھی

انفاس بتاتی ہیں کہ انھوں نے یہ سکول 'دو بچوں سے شروع کیا تھا اور اب اس میں درجنوں بچے ہیں۔ ہمیں مقامی یا بین الاقوامی سطح پر کوئی فنڈنگ نہیں ملتی، بس سڑک سے فنڈنگ لیتے ہیں اور ان بچوں پر خرچ کردیتے ہیں۔'

روبن ہڈ آرمی

کراچی میں ہی نوجوانوں کی ایک تنظیم ایسی بھی ہے جس کا مقصد ایسے افراد کے لیے کھانے کا انتظام کرنا ہے جو خود اس کی سکت نہیں رکھتے۔

اس 'روبن ہڈ آرمی' کے رضاکار شہر میں مختلف جگہوں سے کھانا اکٹھا کر کے غریب بستیوں میں تقسیم کرتے ہیں اور تنظیم کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ دو سالوں میں وہ دو لاکھ لوگوں کو کھانا کھلا چکے ہیں۔

'روبن ہڈ آرمی' فروری 2015 میں پاکستان میں آئی تھی جبکہ اس سے قبل وہ انڈیا میں یہ کام کر رہی تھی۔ اس تنظیم کا کوئی دفتر نہیں اور رابطے کا ذریعہ واٹس ایپ گروپ اور فیس بک ہے۔

رابن ہڈ آرمی
Image caption کراچی میں اس وقت رابن ہڈ آرمی کے دو سو سے زائد رضاکار ہیں

تنظیم کے پاکستان میں سربراہ سمیر بیگ کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کی بنیاد رضاکار ہیں جو مختلف ریستوارنوں اور تقریبات میں بچ جانے والا کھانا جمع کرتے ہیں جسے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر ہر اتوار شہر کے مختلف علاقوں کی بستیوں اور اولڈ ایج ہاؤسزمیں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

کراچی میں اس وقت رابن ہڈ آرمی کے دو سو سے زائد رضاکار ہیں جن میں سے ہر فرد کو اس کام کے لیے روزانہ آدھا گھنٹہ اور اتوار کو تین گھنٹے کا وقت دینا ہوتا ہے۔

ہما شیخ ایک طالبہ ہیں جنھیں رابن ہڈ آرمی میں شامل ہوئے چھ ماہ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ہم عمر کزن کے انتقال کے بعد ان کے دل میں لوگوں کی مدد کا خیال پیدا ہوا 'لیکن میں چاہتی تھی کہ یہ سب کچھ میں خود کروں والدین اور رشتے داروں کی مدد کے بغیر۔'

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں