پاکستانی نوجوان کے لیے نوکری ہی سب کچھ کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'اگر میں، ایک لڑکی، اس ملک کا 50 فیصد ہوں تو ہر نوکری 'مین اونلی' کیوں ہے؟ ہمارے لیے صرف 10 فیصد کوٹے کی یہ تفریق کب ختم ہوگی؟'

یہ سوال حیدر آباد کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی سلمیٰ سومرو کا ہے، جو خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہیں کہ انھیں مشکل سے ہی سہی مگر حصول علم کی اجازت ملی۔

٭ تقسیم کے 70 برس

٭ تقسیم کے 70 سال: 'مواقع بہت ہیں، بس تھوڑی محنت چاہیے اور کچھ قسمت'

اُن کے اردگرد موجود دیگر نوجوان خواتین اتنی خوش قسمت بھی نہیں ہیں۔

سلمیٰ سول سروس کے امتحان کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق 'اندرون سندھ بیشتر سکول صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔ معاشرتی اور معاشی دباؤ کی وجہ سے لڑکیوں کے لیے تعلیم یا کوئی ہنر حاصل کرنا ناممکن ہے'۔

پاکستان کو بنے 71 سال ہونے کے باوجود فی الحال یہاں نوجوان نسل کے مسائل کا حل یا ان کے مستقبل کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے کی بحث حکومتی ترجیحات میں کہیں دور ہی معلوم ہوتی ہے۔

تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ، کیا بہترین مستقبل کی یہ ضمانت پاکستانی نوجوان کے پاس بھی ہے؟ جن نوجوانوں سے ہم نے بات کی، ان میں سے بیشتر مایوس نظر آئے ہیں۔

فاٹا کے علاقے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد حنیف اللہ کے تاثرات بھی حیدرآباد کی سلمیٰ سومرو سے مختلف نہیں ہیں۔ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں مگر بےروزگار ہیں۔

جب ان سے پوچھا کہ وہ آج کے پاکستان میں اپنا کل کتنا روشن دیکھتے ہیں تو ان کے جواب میں مایوسی نمایاں تھی۔

ان کے خیال میں فاٹا میں پہلے دہشت گردی اور پھر فوجی آپریشنز کے دوران نقل مکانی کی وجہ سے نوجوان متاثر ہوئے، لیکن آپریشنز کے خاتمے کے بعد حکومتی عدم توجہی نے فاٹا کے نوجوانوں کے لیے ترقی کی راہیں بند کر دی ہیں۔

'یہاں کے نوجوان ذہنی مریض بن گئے ہیں، اکثریت روزگار کے لیے غیرقانونی طریقوں سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں اور یورپ پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں'۔

Image caption فاٹا کے علاقے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد حنیف اللہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی بے روزگار ہیں

ان کے مطابق فاٹا کے نوجوانوں کا شکوہ بجا ہے کہ ملک میں جمہوری حکومتیں بھی آئیں اور فوجی مارشل لا بھی دیکھے لیکن 'فاٹا کے مسائل کے حل کے لیے نہ تو منتخب حکومتوں نے کام کیا نہ ہی فوجی حکومتوں نے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مسائل کا حل یہ ہے کہ 'یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیں، کارخانے لگائیں، اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کریں، اور سب سے بڑا مسئلہ ایف سی آر ہے، جس کے ہوتے ہوئے قبائلی علاقے کبھی ترقی نہیں کر سکتے، فاٹا کے نوجوان ایف سی آر کا خاتمہ چاہتے ہیں'۔

صرف فاٹا ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں خاص طور پر بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے، اندرون سندھ ، جنوبی پنجاب، اور خیبر پختونخواہ کے نوجوان سمجھتے ہیں کہ انھیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے لیکن پاکستان میں 1998 کے بعد مردم شماری نہ ہونے اور حالیہ مردم شماری کے نتائج تاحال سامنے نہ آنے کی وجہ سے حکومت کو ابھی تک معلوم ہی نہیں کہ نوجوانوں کی اصل تعداد ہے کیا؟

بلوچستان میں نوجوانوں کے لیے کام کرنے والے صبور کاکڑ کہتے ہیں کہ ان کے صوبے میں تعلیمی سہولیات کا فقدان بڑے مسائل کو جنم دے رہا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں سے روزگار کی امید تو پیدا ہوئی ہے مگر بلوچستان کے نوجوانوں کے خدشات اب بھی قائم ہیں۔

'میں سمجھتا ہوں کہ سی پیک سے بھی اس وقت تک بلوچستان کو فائدہ نہیں ہوگا، جب تک یہاں کی عوام پر پیسہ خرچ نہیں کیا جائے گا، اِن کی معیاری تعلیم کے لیے سکول کالج اور یونیورسٹیاں بنائی جائیں، انھیں مواقعے دیے جائیں، وہ ملازمتیں صوبے کی عوام کو دی جائیں جو ان کا حق ہے، سی پیک کا پیسہ لاہور پر خرچ ہونے کی خبروں پر بلوچستان کے نوجوانوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے'۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو کاروبار سمیت مختلف شعبوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں۔

Image caption کرک میں اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ محمود کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کے پاس ترقی کے بہت سے مواقع موجود ہیں

جہاں ایک جانب بےروزگاری زیادہ ہے وہیں ایسے نوجوانوں کی بھی کمی نہیں جو اچھے عہدوں پر براجمان ہیں یا کامیابی سے کاروبار چلا رہے ہیں۔

سول سروس کا امتحان پاس کرنے والے اسلام آباد کے رہائشی عبداللہ محمود اب کرک میں اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان طبقہ چاہے تو اپنی تقدیر خود بدل سکتا ہے۔

اُن کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 'سی وی لے کر نوکریاں ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں، بدقسمتی سے ملک میں چھوٹے پیماننے پر بزنس، میڈیم سکیل انٹرپرائزز، یا سول سروس کی کوشش ہی نہیں کی جاتی، مینوفیکچرنگ کا چھوٹا یونٹ کھولنا، یا ملک میں انڈسٹریل کلچر کو فروغ دینا، یہ سب نظر نہیں آتا، مائیکروفنانسنگ موجود ہے، مگر کوئی اس جانب نہیں آتا'۔

ان کے مطابق طلبا کو بتانا ضروری ہے کہ 'صرف نوکری ہی سب کچھ نہیں بلکہ پھیلتی ہوئی گلوبل مارکیٹ میں خود کو منوانا ضروری ہے'۔

دوسری جانب ان نوجوانوں کی بھی کمی نہیں جو اعلی تعلیم یا ہنر حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

پاکستان اوور سیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں بیس لاکھ سے زائد افراد بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں،جن میں ڈاکٹرز، انجینیئر اور اساتذہ کی بڑی تعداد شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بھی مختلف پیشوں کی بنیادی تربیت میسر نہ ہونے کے باعث مجموعی قومی پیداوار میں اپنا موثر حصہ ڈالنے سے قاصر ہے۔

ماہرین کے خیال میں ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے تربیتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی رہنمائی اور ملازمت اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں