’تقریر اتنی جلدی کیسے ختم ہو گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’کسی بھی وزیراعظم کو پانچ برس کی مدت پوری کرنی چاہیے، ستر سالوں میں آخر ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔‘

سابق وزیراعظم نواز شریف کے قافلے میں شامل وحید بٹ دیگر کارکنوں کے ساتھ گفتگو میں شامل تھے اور سب اس سے اختلاف کر رہے تھے کہ ہاں ایسا کیوں نہیں؟

وحید بٹ ہی نہیں قافلے کے راستے میں ملنے والے کارکنوں سے بات چیت کے دوران ایک بات مشترکہ تھی کہ وزیراعظم کو پانچ برس پورے کرنے دیے جاتے اور اگر واقعی میں کوئی گڑ بڑ تھی تو پانچ برس پورے ہونے پر بھی دیکھا جا سکتا تھا یا سزا دی جا سکتی تھی۔

٭ ’ساڑھے تین سال سے سازشیں ہو رہی ہیں‘

٭ میری نااہلی عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے: نواز شریف

کارکنوں میں اس سوچ کو نواز شریف نے اپنے اسلام آباد سے لاہور کے چار دن کے سفر کے دوران پختہ کیا۔

اس سفر کا پہلا دن صرف اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس سے فوجی گریژن راولپنڈی تک کا تھا اور پہلے ہی دن نواز شریف نے اپنی نااہلی اور عوام کے مینڈیٹ کو چند لوگوں کے ہاتھوں پامال کیے جانے کی بات شروع کر دی تھی۔

راولپنڈی شہر میں جتنی سست روی سے یہ قافلہ داخل ہوا، اتنی ہی جلدی اور تیز رفتاری سے یہ قافلہ راولپنڈی سے نکلا اور ایک موقع پر اس قافلے نے ایک سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے بھی سفر کیا لیکن اس دوران نواز شریف کو جہاں کہیں بھی موقع ملا انھوں نے نااہلی کے پچیھے سازش کا عندیہ لازمی دیا اور اسی وجہ سے کارکنوں میں بھی کم از کم یہ سوچ منتقل کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے کہ پانچ برس آخر کیوں نہیں پورے ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیکن جی ٹی روڈ کے کنارے استتقبالی کیمپوں کے باہر بجنے والے پارٹی نغمے اور کارکنوں کے نعرے زیادہ تر وہ ہی تھے جو کہ گذشتہ انتخابات کے دوران تیار کیے گئے تھے اور چند ایک اگر نئے بھی تھے تو ان میں نااہلی کا ذکر سننے کو نہیں ملا اور نہ ہی قائد کی جانب سے جس مبینہ سازش کی بات کو بار بار دوہرایا جا رہا تھا اس کے بارے میں کارکنوں کی جانب سے منظم انداز میں نعرے بازی کے بجائے انھوں نے پرانے نعروں سے ہی کام چلایا۔

مریدکے میں نواز شریف جب کارکنوں سے خطاب میں عوام کے ووٹوں کی پرچی کو ’پانچ لوگوں‘ کی جانب سے پھاڑ دینے کے بارے میں جذباتی تقریر کر رہے تھے تو سٹیج سے کچھ فاصلے پر ان کے حق میں بجائے جانے والے گانے میں ’عدلیہ کے رکھوالے اس کے۔۔۔۔‘ کی لائن گنگنائی جا رہی تھی۔

دوسری جانب راولپنڈی سے رفتار پکڑنے والے قافلے نے خطہ پوٹھوار میں اس سپیڈ کو قائم رکھا لیکن جوں جوں قافلہ لاہور کی سمت بڑھنے لگا تو اس کی رفتار کارکنوں کی گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ سست پڑتی گئی اور راستے میں لگے بینرز میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی جس میں ’ہمارا وزیراعظم نواز شریف‘ اور ’نااہلی نامنظور‘ کے نعروں کے بعد یہ بینرز بھی دکھائے دینا شروع ہویے کہ ’نواز شریف پہلے ہمارا انتخاب تھا اور اب ضد ہے‘ جبکہ ’دیکھو دیکھو کون ایا صادق اور امین آیا' کے نعرے درج تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نواز شریف کا قافلہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ دریائے روای کا پل پار کر کے لاہور میں داخل ہوا تو اس وقت قافلے میں چار دن سے ساتھ چلنے والے کارکنوں کے چہروں پر نئی توانائی دیکھنے کو ملی۔

لاہوریوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا اور جگہ جگہ استقبالی کیمپوں میں رنگی برنگی روشینیوں میں بجنے والے نواز شریف کے حق میں نغموں نے ان کی توانائی کو بڑھا دیا تھا۔

قافلے کا آخری سرا ابھی گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ تلاش کر رہا تھا کہ سابق وزیراعظم نے اپنی تقریر شروع کرنے میں ویسی ہی جلدی کا مظاہرہ کیا جیسی جلدی میں وہ اپنے قافلے کے ہمراہ راولپنڈی شہر سے نکلے تھے۔

کارکنوں کی بڑی تعداد ابھی پنڈال کی جانب بڑھ رہی تھی کہ تقریر کا اختتام بھی ہو گیا تھا اور پنڈال میں داخل ہونے والے کارکن یہ سوال پوچھتے رہ گئے کہ ’تقریر اتنی جلدی کیسے ختم ہو گئی‘۔

ایسے ہی سوالات اس وقت کیے جا رہے تھے جب راولپنڈی سے قافلہ تیزی سے نکلا تو استقبالی کیمپوں میں موجود ایک دوسرے سے پوچھ رہے کہ اچانک یہ کیا ہوا۔۔۔ لیکن قافلہ اپنے کارکنوں کو یہ سوچ دینے میں کامیاب رہا کہ آخر منتخب وزیراعظم کے ساتھ یہ کیا ہوا۔

اسی بارے میں