بلوچستان: ہرنائی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک

سکیورٹی فورسز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے کم از کم چھ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ہرنائی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ ضلع میں شاہرگ اور خوست کے درمیان کیا گیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے سڑک پر بارودی سرنگ نصب کی تھی جو اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گئی جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی اس سے ٹکرائی۔

دھماکے سے گاڑی بری طرح سے متاثر ہوئی جبکہ اس میں سوار کم از کم چھ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

ہرنائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مشرق میں واقع ہے۔ اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پہلے بھی بدامنی کے دیگر واقعات کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران بد امنی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر میر امان اللہ نوتیزئی کے چھوٹے بھائی کے گھر پر دستی بم کے حملے میں 7افراد زخمی ہوئے۔

حکام کے مطابق یہ حملہ مشیر کے چھوٹے بھائی ثناء اللہ نوتیزئی کے مہمان خانے پر کیا گیا۔

ادھر ایران سے متصل ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں راکٹ حملے میں دو افراد زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ کالعدم عسکریت پسند تنظیموں بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ضلع آواران اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے کوہلو میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے دعوے کیے ہیں لیکن سرکاری سطح پر ان حملوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں